سوات کے معروف نوجوان کوہ پیما سید علی شاہ کی لاش کا بالآخر سراغ لگا لیا گیا ہے، تاہم انتہائی دشوار گزار اور بلند پہاڑی علاقے میں موجود لاش کو واپس لانا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ سوات کے نوجوان رضاکاروں نے جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے تقریباً 5 ہزار 200 میٹر کی بلندی پر واقع فلک سر گلیشیئر میں سید علی شاہ کی لاش کا سراغ لگایا ہے۔ مرحوم کوہ پیما کے لواحقین اور اہل علاقہ نے خیبر پختونخوا حکومت، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ سید علی شاہ کی لاش کو گلیشیئر سے نکالنے کے لیے فوری طور پر خصوصی ریسکیو آپریشن شروع کیا جائے تاکہ میت کو بحفاظت ان کے آبائی علاقے منتقل کرکے سوگوار خاندان کے حوالے کیا جاسکے۔
ترک محقق کا حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ڈھونڈنے کا دعویٰ
ذرائع کے مطابق سید علی شاہ کی لاش سوات کے علاقے مٹلتان میں واقع فلک سر کے انتہائی بلند اور دشوار گزار گلیشیئر میں موجود ہے۔ علاقے کی جغرافیائی صورتحال، شدید بلندی، برفانی تودوں، دشوار گزار پہاڑی راستوں اور خطرناک موسمی حالات کے باعث امدادی ٹیموں کے لیے زمینی راستے سے وہاں پہنچنا انتہائی مشکل ہے۔ سوات کے نوجوان رضاکاروں نے ڈرون کیمرے کے ذریعے کئی مقامات کی نگرانی کی، جس کے نتیجے میں بالآخر گلیشیئر پر سید علی شاہ کی لاش کی موجودگی کا مقام معلوم کرلیا گیا۔ ڈرون کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات نے لواحقین کو ایک طرف اپنے پیارے کی میت کے بارے میں یقین دلایا ہے، تاہم دوسری جانب لاش کو واپس لانے کا مسئلہ مزید اہم ہوگیا ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ سید علی شاہ کی لاش کی نشاندہی ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن جب تک میت کو گلیشیئر سے نکال کر گھر نہیں لایا جاتا، خاندان کی بے چینی ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ترجیحی طور پر لیا جائے اور جدید وسائل استعمال کرتے ہوئے میت کی واپسی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
اہل خانہ کے مطابق فلک سر گلیشیئر تک زمینی راستے سے پہنچنا انتہائی مشکل ہے اور عام امدادی ذرائع کے ذریعے لاش کو وہاں سے نکالنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ ایسے حالات میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن ہی ایک مؤثر اور قابل عمل راستہ نظر آتا ہے، جس کے ذریعے ماہر ریسکیو اہلکاروں کو جائے وقوعہ تک پہنچا کر میت کو بحفاظت واپس لایا جاسکتا ہے۔
طوفانی ہوائوں کے باعث تین ممالک میں صورتحال خطرناک ہونے کا خدشہ
لواحقین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر معاملے کا نوٹس لیں اور متعلقہ محکموں کو فوری طور پر ریسکیو آپریشن کی تیاری اور انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ سید علی شاہ نے پہاڑوں سے محبت اور کوہ پیمائی کے شوق کے باعث اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ بلند پہاڑی علاقوں میں گزارا۔ وہ سوات کے ان نوجوانوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے کوہ پیمائی کے ذریعے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا بلکہ علاقے کے بلند پہاڑوں اور قدرتی حسن کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ سید علی شاہ کی خدمات اور کوہ پیمائی سے وابستگی کو دیکھتے ہوئے ان کی میت کی واپسی صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے سوات کے لیے اہم معاملہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ انسانی ہمدردی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے۔ مقامی نوجوان رضاکاروں نے ڈرون کے ذریعے لاش کا سراغ لگا کر اپنی استطاعت کے مطابق اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اب میت کی واپسی کے لیے ایسے ماہرین اور وسائل کی ضرورت ہے جو انتہائی بلندی پر برفانی علاقے میں محفوظ طریقے سے ریسکیو آپریشن انجام دے سکیں۔
امریکا میں ملازمت کے خواہش مند افراد کیلئے بری خبرآگئی
لواحقین نے کہا کہ وہ کئی دنوں سے اپنے پیارے کی میت کی واپسی کے منتظر ہیں اور ان کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ سید علی شاہ کو ان کے آبائی علاقے میں اسلامی اور روایتی طریقے سے سپرد خاک کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ غم کی اس گھڑی میں حکومت کی فوری مدد خاندان کے لیے بہت بڑا سہارا ہوگی۔ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ موسم اور علاقے کی حساس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہر ٹیم تشکیل دی جائے اور ضرورت پڑنے پر ہیلی کاپٹر کی خدمات حاصل کی جائیں۔ لواحقین اور اہل علاقہ نے امید ظاہر کی ہے کہ صوبائی حکومت اس انسانی معاملے کو سنجیدگی سے لے گی اور جلد از جلد ریسکیو آپریشن شروع کیا جائے گا۔ سوات کے پہاڑوں میں زندگی بھر کوہ پیمائی کرنے والے سید علی شاہ کی میت آج ایک ایسے مقام پر موجود ہے جہاں انسان کے قدم پہنچنا دشوار ہے۔ ڈرون نے لاش کا سراغ تو لگا لیا ہے، اب نظریں خیبر پختونخوا حکومت اور متعلقہ اداروں پر ہیں کہ وہ اس سوگوار خاندان کو اپنے پیارے کی میت واپس دلانے کے لیے کب عملی قدم اٹھاتے ہیں۔

