Skip to main contentSkip to footer

سعودی عرب 15کروڑ90لاکھ درختوں کی بدولت عالمی ایوارڈ کا حقدار

سعودی عرب 15کروڑ90لاکھ درختوں کی بدولت عالمی ایوارڈ کا حق دار

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کا زمین کی بحالی کے عالمی مثالی منصوبوں کا ایوارڈ حاصل کر لیا ہے، جو تباہ حال اراضی کی بحالی، نباتاتی غلاف کی ترقی، ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اس کی کوششوں کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ یہ کامیابی قومی شجرکاری پروگرام کے تحت 15.9 کروڑ سے زائد درخت لگانے اور تقریبا 10 لاکھ ہیکٹر اراضی کی بحالی کے بعد حاصل ہوئی ہے۔مملکت کے لیے اس اعزاز کی نمائندگی قومی شجرکاری پروگرام نے کی اور یہ اقوام متحدہ کے صحرائی پھیلا سے نمٹنے کے کنوینشن کے فریقین کی 17ویں کانفرنس کے دوران ایک اعلی سطحی تقریب میں دیا گیا، جس کی میزبانی منگولیا کر رہا ہے۔قومی شجرکاری پروگرام کو اقوام متحدہ کی ماحولیاتی نظام کی بحالی کی دہائی کے تحت ماحولیاتی نظام کی بحالی کے عالمی مثالی منصوبوں میں سے ایک کے طور پر منتخب کیا گیا۔

سعودی عرب 15کروڑ90لاکھ درختوں کی بدولت عالمی ایوارڈ کا حقدار

قومی شجرکاری پروگرام نے 15.9 کروڑ سے زائد درخت لگانے اور تقریبا 10 لاکھ ہیکٹر تباہ حال اراضی کی بحالی میں کردار ادا کیا، اس کے علاوہ معدومیت کے خطرے سے دوچار متعدد جانوروں کو دوبارہ آباد کیا گیا۔پروگرام نے خشک سالی، صحرائی پھیلا اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک جامع انتظامی ڈھانچہ وضع کرنے میں بھی کردار ادا کیا، جبکہ ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور ترقی کے لیے بھی کام کیا جا رہا ہے۔ماحولیات، پانی اور زراعت کے وزیر انجینئر عبدالرحمن الفضلی نے کہا کہ مملکت تباہ حال اراضی کی بحالی، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور زیادہ مضبوط اور پائیدار ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے کام کر رہی ہے۔

نیپال میں سیلاب سے ہلاکتیں 470 ہوگئیں ، غیرملکی سیاحوں سمیت 1300 لاپتہ

انہوں نے واضح کیا کہ 10 لاکھ ہیکٹر سے زائد اراضی کی بحالی اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت مقامی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے اپنے ماحولیاتی عزائم کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرے گی اور آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار قدرتی ورثے کی بنیاد رکھے گی۔انہوں نے نشان دہی کی کہ ماحولیاتی نظام کی بحالی صرف ماحولیاتی چیلنجوں کا رد عمل نہیں بلکہ انسان اور فطرت کے مستقبل میں سرمایہ کاری بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مملکت کی کوششوں میں چراگاہیں، جنگلات، صحرائی علاقے، شہری علاقے اور ساحلی ماحولیاتی نظام (بشمول مینگرووز کے درخت)شامل ہیں۔دوسری جانب قومی مرکز برائے نباتاتی غلاف کی ترقی و انسدادِ صحرائی پھیلا کے چیف ایگزیکٹو انجینئر احمد العیادہ نے انکشاف کیا کہ مملکت کا ہدف 2030 تک 25 لاکھ ہیکٹر سے زائد اراضی کی بحالی اور 21.5 کروڑ درخت لگانا ہے۔یہ اہداف مملکت کے طویل مدتی مقاصد کے ضمن میں ایک اہم مرحلہ ہیں

ایپل کے آئی فون 18 کی لانچنگ 9 ستمبر کو متوقع

جن کے تحت 4 کروڑ ہیکٹر اراضی کی بحالی اور 10 ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اراضی کی بحالی کے اقدامات میں دوبارہ شجرکاری، قدرتی تجدید اور منظم چرائی کے ساتھ ساتھ مقامی جنگلی حیات کی انواع کو دوبارہ متعارف کرانا بھی شامل ہے، جن میں عربی مہا (سفید ہرن) اور وعِل (جنگلی بکرا اور بکری) شامل ہیں۔ان اقدامات میں بارش کے پانی کو جمع کرنا اور پانی کی قلت سے دوچار علاقوں میں بحالی کی کوششوں میں معاونت کے لیے صاف کیے گئے سیوریج کے پانی کا استعمال بھی شامل ہے۔قومی شجر کاری پروگرام کو برازیل اور ساحل کے خطے کے دو اقدامات کے ساتھ اقوام متحدہ کی ماحولیاتی پروگرام اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او)کی جانب سے اقوام متحدہ کی ماحولیاتی نظام کی بحالی کی دہائی کے تحت دیے جانے والے ایوارڈز میں اعزاز دیا گیا۔

ٹرمپ نے دنیا بھر میں امریکی ویزا انٹرویوز روک دئیے

یہ ایوارڈز ایسے اقدامات کو اجاگر کرتے ہیں جن کے ذریعے ماحولیاتی نظام کی بحالی میں وسیع پیمانے پر اثرات مرتب ہوئے ہیں، جبکہ سعودی پروگرام کا انتخاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مملکت اپنے ماحولیاتی اہداف اور سعودی وژن 2030 کے تحت اراضی کی بحالی اور نباتاتی غلاف کی ترقی کے لیے بحالیِ اراضی اور نباتاتی غلاف کی ترقی کے بڑے منصوبے نافذ کر رہی ہے۔

 

ٹرمپ کے بیٹے کو قتل کرنے کیلئے 2ارب روپے انعام کا اعلان

Next Post
ترک محقق کا حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ڈھونڈنے کا دعویٰ
Previous Post
نیپال میں سیلاب سے ہلاکتیں 470 ہوگئیں ، غیرملکی سیاحوں سمیت 1300 لاپتہ