نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہونے والی ہلاکتیں 470 تک پہنچ گئیں جبکہ ایک ہزار تین سو کے قریب افراد لاپتہ ہیں جن میں سینکڑوں سیاح بھی شامل ہیں، دوسری جانب چین کے سرحدی علاقے میں بھی تین ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں صورت حال تباہی کی طرف جاتی دیکھی گئی جب اچانک لینڈ سلائیڈنگ ہو گئی جو نہ صرف رہائشی علاقوں پر گری بلکہ بھاری پتھروں اور ملبے کے دریائوں میں گرنے سے سیلاب بھی آ گیا۔ چین کی جانب سے بنی نگرانی کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مٹی اور پانی کی ایک بہت بڑی لہر عمارت سے ٹکرائی جبکہ خوفزدہ لوگ جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔
اسی طرح نیپال والی سمت میں پانی کا ایک بہت بڑا ریلہ بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاں سے اٹھتا ہوا دیکھا جو اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہاتا چلا گیا اور اس کی لپٹ میں کئی دیہات اور قصبے بھی آئے۔شروع میں نیپال کی جانب سے تباہی کی وجہ سیلاب کو قرار دیا گیا تھا جبکہ چینی حکام نے واقعے کی وجہ لینڈ سلائیڈنگ کو قرار دیا تھا۔ نیپالی فوج نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زمینی اور فضائی تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے 2,000 فوجی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجارام باسنیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی اہلکاروں کو سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں، خصوصا رسووا اور نوواکوٹ اضلاع میں تعینات کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ فوج اب تک سیلاب میں پھنسے 97 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہے۔ ان کے مطابق ان میں سے تین افراد تریشولی اے پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں پھنسے ہوئے کارکن تھے۔نیپال پولیس اور مسلح پولیس فورس نے بھی تلاش کی کارروائیوں میں مدد کے لیے اپنے اہلکار تعینات کیے ہیں۔
ٹرمپ نے دنیا بھر میں امریکی ویزا انٹرویوز روک دئیے
اسی طرح چین کی سمت پر تبت میں تین افراد کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیںچین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے ضلع گیرونگ میں مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں لاپتہ افراد کی تعداد بڑھ کر 558 ہو گئی ہے۔سی سی ٹی وی نے بتایا کہ لاپتہ افراد میں 260 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بدستور تین ہے۔گیرونگ کی سرحد چین اور نیپال کے درمیان سیاحوں اور دیگر آمدورفت کے لیے مرکزی گزرگاہ ہے۔بدھ کو چینی سرکاری میڈیا نے سرحدی علاقے میں مٹی کے تودے گرنے کے فورا بعد بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات دی تھیں۔اس سے قبل نیپال نے کہا تھا کہ تقریبا 579 سیاح لاپتہ ہیں، جن میں 466 غیر ملکی شامل ہیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ آیا دونوں جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں کچھ افراد کو دو مرتبہ تو شمار نہیں کیا گیا۔۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں 260 غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں، جبکہ نیپالی حکام کی جانب سے قبل ازیں بتایا گیا تھا کہ اپتہ ہونے والے 468 سیاحوں میں سے 393 غیرملکی ہیں۔
ٹرمپ کے بیٹے کو قتل کرنے کیلئے 2ارب روپے انعام کا اعلان
نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے 468 سیاحوں میں سے 393 غیرملکی ہیں۔لاپتہ ہونے والے افراد میں انڈین شہریوں کے علاوہ یوکرین، ملائیشیا، برطانیہ، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔آسٹریلیا کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ واقعے میں اس کے 34 شہری نیپال میں لاپتہ ہوئے ہیں۔اس تباہی کی اصل وجہ کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کی وجہ گلیشیر کا ٹوٹنا یا پھگلنا ہے۔سیلاب سے چند گھنٹے قبل نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر کھنال نے کہا ممکنہ طور پر زلزلے سے لینڈ سلائیڈںگ ہوئی، جس سے دریا کا راستہ بند ہو گیا اور پانی کا ریلا نیچے کی طرف بہہ نکلا۔شدید تباہی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد مختلف ممالک اور اداروں نے امداد کا اعلان کیا ہے۔
ریٹائرڈ افسران کی بیرونِ ملک منتقلی، پنشن غیر ملکی کرنسی میں لینے کا انکشاف
امریکہ کی جانب سے پانچ لاکھ ڈالر ہنگامی طور پر دینے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے 14 لاکھ ڈالر جاری کیے ہیں۔نیپال میں ریڈ کراس کے سربراہ ڈیوڈ فیشر کا کہنا ہے کہ اس وقت ہماری ترجیح متاثرہ علاقوں تک پہنچنا اور ان متاثرین کو امداد پہنچانا ہے جن کے گھر تباہ ہو گئے ہیں، زخمی ہیں یا پھر دوسرے علاقوں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔اسی طرح یورپی یونین کی جانب سے کہا گیا کہ اس نے امدادی کارروائیوں میں مدد دینے کے لیے کوپرنیکس سیٹلائٹ نگرانی کا نظام فعال کر دیا ہے اور مزید مدد کے لیے تیار ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت نے بھی ہنگامی طور پر طبی سامان روانہ کر دیا ہے۔اسی طرح انڈیا کی جانب سے ابتدائی طور پر 10 ٹن امدادی سامان روانہ کر دیا گیا ہے۔

