پشاور: پشاور ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے ملازمین کو مفت بجلی کے یونٹس کی فراہمی تاحال جاری رہنے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ بعض ملازمین کی جانب سے مفت ملنے والے یونٹس خود استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ مبینہ طور پر اپنے ہمسایوں کو بھی بجلی فراہم کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود پیسکو کے حاضر سروس ملازمین اور افسران کے مفت بجلی کے یونٹس مکمل طور پر ختم نہیں کیے گئے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین اور افسران کو بھی تاحال مفت یونٹس ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورتحال نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد اور مفت بجلی کی سہولت کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ماجد نامی مریض کیساتھ کیا واقعہ پیش آیا
پشاور ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد وزارت پاور ڈویژن نے پشاور، فاٹا اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کے گریڈ ایک سے گریڈ 22 تک کے ملازمین اور افسران کو فراہم کیے جانے والے مفت بجلی کے یونٹس ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے باقاعدہ اعلامیہ رواں ہفتے جاری کیے جانے کا امکان ہے اور آئندہ ماہ سے مفت یونٹس کی فراہمی معطل کردی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے 10 ہزار سے زائد حاضر سروس ملازمین اور افسران کو فراہم کیے جانے والے پانچ لاکھ سے زائد مفت یونٹس ختم کیے جائیں گے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین اور افسران کے مفت یونٹس بھی ختم کیے جائیں گے، جن کی تعداد تقریباً 15 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔
بچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم میں پنجاب سرفہرست
مجموعی طور پر 20 لاکھ سے زائد مفت بجلی کے یونٹس ختم کیے جانے کے بعد ملازمین کو دیگر مراعات دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق گریڈ 17 سے گریڈ 21 تک کے افسران مفت بجلی کی سہولت سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 تک کے ملازمین اور افسران کو بھی کروڑوں روپے مالیت کی مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق تینوں الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کے ملازمین اور افسران کو مجموعی طور پر 30 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے مفت بجلی کے یونٹس فراہم کیے جا رہے ہیں، جنہیں پشاور ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے کی روشنی میں ختم کیا جا رہا ہے۔ تاہم دوسری جانب عدالتی احکامات کے بعد بھی مفت یونٹس کی فراہمی جاری رہنے اور بعض ملازمین کی جانب سے اس سہولت کو اپنے گھروں کے علاوہ دیگر گھروں تک پہنچانے کی اطلاعات نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر مفت بجلی کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ عدالتی احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے تو فیصلے کے بعد سے اب تک فراہم کیے جانے والے مفت یونٹس کی قانونی حیثیت کیا ہے اور اس دوران ہونے والے مالی نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا۔ ذرائع کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ وزارت پاور ڈویژن کو بھجوایا جا چکا ہے اور فیصلے پر مکمل عملدرآمد کے لیے باضابطہ اعلامیہ جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
مالِ مفت دل بے رحم ،خیبر پختونخوا اسمبلی افسران اور ملازمین میں بندر بانٹ

