Skip to main contentSkip to footer

موٹاپے کے علاج کیلئے نئی دوا کی منظوری

موٹاپے کے علاج کیلئے نئی دوا کی منظوری

سعودی عرب کی سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے موٹاپے کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی نئی دوا فاونڈائیو (اورفورگلیپرون) کی رجسٹریشن کی منظوری دے دی ۔ اتھارٹی کے مطابق اس فیصلے کا مقصد موٹاپے کے شکار افراد کے لئے علاج کے مزید مثر آپشنز فراہم کرنا اور صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ یہ اقدام سعودی ویژن 2030 کے تحت ہیلتھ سیکٹر ٹرانسفارمیشن پروگرام کے اہداف کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ دوا موٹاپے کا شکار بالغ افراد اور ایسے لوگوں کے لئے استعمال کی جا سکتی ہے جو زیادہ وزن کے ساتھ وزن سے متعلق کم از کم ایک بیماری میں مبتلا ہوں۔ دوا کا مقصد اضافی وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ طویل عرصے تک وزن کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

پاکستان کے 1100 نوادرات کی بیرونِ ملک سے واپسی، نمائش کیلئے رکھ دیئے گئے

 

اس دوا کی تجویز کردہ خوراک میں روزانہ صرف ایک گولی کھائی جاسکتی ہے۔فائونڈایو جسم میں موجود گلوکاکون جیسے پیپٹائڈ (جی ایل پی) – 1 رسیپٹرز کو متحرک کرتی ہے، جو بھوک اور خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق اس کے نتیجے میں بھوک کم محسوس ہوتی ہے، خوراک کی مقدار گھٹتی ہے اور متوازن غذا و باقاعدہ ورزش کے ساتھ وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔سعودی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مملکت میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں موٹاپے کی شرح 20.2 فیصد جبکہ زیادہ وزن کی شرح 38.2 فیصد ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق خواتین میں موٹاپے کی شرح 21.4 فیصد ہے، جبکہ مردوں میں یہ شرح 19.2 فیصد ہے۔سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دوا کی منظوری کلینیکل مطالعات کے نتائج کی بنیاد پر دی گئی۔ ان مطالعات سے ظاہر ہوا کہ یہ دوا ہدف بنائے گئے مریضوں میں وزن کم کرنے کی مثر صلاحیت رکھتی ہے۔

سعودی ، پاکستان، ترکیہ دفاعی معاہدہ بھارت کیلئے دردسر بن گیا

 

اس جائزے میں تیسرے مرحلے کی دو بنیادی کلینیکل اسٹڈیز شامل تھیں، جو 72 ہفتوں تک جاری رہیں۔پہلی تحقیق میں موٹاپے کا شکار 3,127 ایسے بالغ افراد شامل تھے جو ذیابیطس کا شکار نہیں تھے۔ نتائج کے مطابق 36 ملی گرام خوراک استعمال کرنے والے افراد کے جسمانی وزن میں اوسطا 11.2 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ پلاسیبوافیکٹ لینے والے گروپ میں یہ کمی صرف 2.1 فیصد رہی۔دوسری تحقیق میں موٹاپے کے ساتھ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا 1,613 بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔ اس تحقیق میں بھی 36 ملی گرام خوراک استعمال کرنے والے شرکا کے جسمانی وزن میں اوسطا 9.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پلاسیبو گروپ میں وزن میں اوسط کمی 2.5 فیصد رہی۔اس سے قبل متحدہ عرب امارات میں بھی اپریل 2026 میں امارات ڈرگ اسٹیبلشمنٹ نے فاونڈائیو کی منظوری دی تھی۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دوا ہر مریض کے لیے مناسب نہیں اور اس کا استعمال صرف ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔ماہرین کے مطابق دوا شروع کرنے سے پہلے مریض کا مکمل طبی معائنہ ضروری ہے

ریاض میں جدید عمرانی ورثے کے 180مقامات کا ریکارڈ میں اندراج

 

جس میں وزن اور باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)، خون میں شوگر کی مقدار، چکنائی کی سطح، جگر، گردوں اور تھائیرائیڈ کے افعال کا جائزہ اور مریض کی ذاتی و خاندانی طبی تاریخ شامل ہوتی ہے۔ بعض مریضوں کی حالت کے مطابق مزید ٹیسٹ بھی تجویز کیے جا سکتے ہیں۔سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے بتایا کہ دوا کے عام مضر اثرات میں متلی، قبض، اسہال، قے، بدہضمی، پیٹ میں درد، اپھارہ، تھکاوٹ اور بعض افراد میں بال گرنے کی شکایت شامل ہو سکتی ہے۔اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ یہ دوا ایسے افراد کے لیے موزوں نہیں جنہیں خود یا ان کے خاندان میں کسی فرد کو تھائیرائیڈ کینسر کی بعض اقسام یا ان سے متعلق موروثی بیماریاں رہی ہوں۔ اتھارٹی نے زور دیا کہ دوا کا استعمال صرف مستند ڈاکٹر کی نگرانی میں کیا جائے اور علاج کے دوران مریض کا باقاعدہ طبی معائنہ جاری رکھا جائے۔

 

ملک بھر میں 79واں جشن آزادی ملی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا

Previous Post
عدالتی حکم کے باوجود پیسکو ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی جاری