Skip to main contentSkip to footer

ریاض میں جدید عمرانی ورثے کے 180مقامات کا ریکارڈ میں اندراج

ریاض میں جدید عمرانی ورثے کے 180مقامات کا ریکارڈ میں اندراج

سعودی دارالحکومت میں بیسویں صدی کے دوران آنے والی تعمیری تبدیلیوں کے نقوش کو بحال کرنے کے ایک اقدام کے تحت ہیریٹیج اتھارٹی نے ریاض شہر میں جدید عمرانی ورثے کے 180 مقامات کے شمار اور ان کی دستاویز سازی کا انکشاف کیا ہے۔ ان میں ایسی عمارتیں اور تنصیبات شامل ہیں جنہوں نے شہر کی شناخت کی تشکیل کی اور اس کے ارتقائی سفر میں حصہ ڈالا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ اقدام دارالحکومت ریاض کی تعمیراتی یادداشت کو محفوظ بنانے اور اس کے اہم ترین تاریخی پہلوں کی نگہداشت کے منصوبے کا حصہ ہے۔یہ منصوبہ ہیریٹیج اتھارٹی، رائل کمیشن برائے ریاض سٹی اور ریاض ریجن میونسپلٹی کی شراکت داری سے شروع کیا گیا ۔

بوتل میں بند کرکے سمندر میں چھوڑا گیا پیغام 5 دہائیوں بعد مل گیا

 

اس کا مقصد تعمیراتی اور تاریخی اہمیت کی حامل جدید عمارتوں کی دستاویز سازی کرنا اور ریاض کی بصری و ثقافتی شناخت کے ایک حصے کے طور پر ان کی اہمیت کا شعور اجاگر کرنا ہے۔ ان کی حفاظت اور انہیں دوبارہ کارآمد بنانے کے لیے ضروری بنیادیں قائم کرنا بھی منصوبے کے مقاصد میں شامل ہے۔ہیریٹیج اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان دستاویزی مقامات کی اہمیت صرف ان کے معمارانہ اسلوب تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ علاقے اور اس کے رہائشیوں کی یادداشت کا حصہ بھی ہیں کیونکہ یہ ریاض میں آنے والی سماجی اور اقتصادی تبدیلیوں کے مراحل سے وابستہ رہے ہیں۔ یہ مقامات دارالحکومت کی جدید تاریخ کے ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھنے والے دور کے شاہد بن چکے ہیں۔ریاض ریجن میونسپلٹی کے مطابق یہ منصوبہ 1950 سے 2000 کے درمیان تعمیر کی گئی عمارتوں کی دستاویز سازی پر مبنی ہے۔ یہ وہ دور تھا جس کے دوران شہر نے تعمیراتی پھیلا کی سب سے بڑی لہروں کا مشاہدہ کیا گیا۔

 

عمارتوں کا یہ پھیلا قومی ترقیاتی منصوبوں اور گزشتہ دہائیوں میں مملکت کی خوشحالی کے ساتھ آنے والے اقتصادی بوم کے عین مطابق تھا۔اس منصوبے میں متعدد ایسی نمایاں عمارتیں اور اہم مقامات شامل ہیں جو ریاض کی جدید تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں العزیزیہ بلڈنگ، بجلی کمپنی کا پہلا ہیڈکوارٹر، کیپٹل ماڈل انسٹی ٹیوٹ، الصفا کلاک، الباخرہ بلڈنگ، نیشنل ہسپتال (موجودہ الرعایہ نیشنل ہسپتال)، زہر الریاض بلڈنگ اور رائل انڈسٹریل سیکنڈری انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں۔ یہ وہ مقامات ہیں جنہوں نے دارالحکومت کے معمارانہ منظرنامے کو ترتیب دینے میں اپنا کردار ادا کیا اور تعلیم، صحت، خدمات اور تجارت کے شعبوں میں اس کی ترقی کی عکاسی کی۔ آج یہ عمارتیں ریاض کے جدید عمرانی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔اس منصوبے میں جدید فنِ تعمیر کے مختلف نمونے بھی شامل ہیں جنہیں سعودی، علاقائی اور عالمی ماہرینِ تعمیرات نے ڈیزائن کیا تھا اور انہوں نے ریاض کے لیے ایک ممتاز تعمیراتی شناخت کی تشکیل میں حصہ ڈالا ۔

مسافر طیارے کے پائلٹ نے اڑتی ہوئی پراسرار چیز دیکھ لی

 

یہ شناخت جدت پسندی اور مقامی خصوصیات کے مفاہیم کو یکجا کرتی ہے۔ جدید فن تعمیر کے یہ نمونے اس جدید معمارانہ ورثے کا حصہ بنتے ہیں جسے عالمی سطح پر شہروں کی ارتقائی ترقی اور ان کی فکری، ثقافتی اور اقتصادی تبدیلیوں کو محفوظ کرنے والے ریکارڈ کے طور پر بڑھتی ہوئی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔یہ منصوبہ گزشتہ صدی کے پچاس، ساٹھ، ستر، اسی اور نوے کی دہائیوں کے دوران قائم کی گئی نمایاں عمارتوں کا احاطہ کرتا ہے جس میں ان کی تعمیر کے اسباب، ان کی تعمیراتی، ساخت جاتی اور جمالیاتی خصوصیات اور ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں ان کے کردار کا ریکارڈ مرتب کیا گیا ہے۔ ریاض کی تعمیراتی شناخت کو کو تشکیل دینے میں ان کے اثرات کو نمایاں کیا گیا ہے۔اسی طرح یہ منصوبہ ان دہائیوں کے دوران معمارانہ فکر کے ارتقا کو بھی موضوع بناتا ہے جس کا آغاز جدیدیت پسندانہ فنِ تعمیر سے ہوا، پھر ما بعد جدیدیت کے فنِ تعمیر سے گزرتے ہوئے جدید ترین دورِ حاضرہ کے فنِ تعمیر کی ابتدائی شروعات تک پہنچتا ہے۔

سو سال بعد پہلی جنگِ عظیم کے پنجابی فوجیوں کو جنگی شہدا ء کا درجہ مل گیا

 

اس کے ساتھ یہ منصوبہ ڈیزائن میں مقامی شناخت سے استفادہ کرنے کے رجحانات کا جائزہ لیتا ہے۔یہ منصوبہ ریاض شہر کے وسط اور جنوب میں واقع اہم مقامات پر توجہ مرکوز کرتا ہے جہاں نئے علاقوں تک ترقی کے پھیلنے سے پہلے دارالحکومت کا جدید معمارانہ مرکز تشکیل پایا تھا اور آبادی اور معیشت کے انداز میں تبدیلیوں کے ساتھ ان میں سے متعدد عمارتیں اپنے بنیادی مقاصد کھو بیٹھی ہیں۔ کچھ عمارتیں تاریخی و تعمیراتی قدر و قیمت رکھنے کے باوجود ویران ہو گئیں۔اس نقطہ نظر کے تحت یہ منصوبہ محض شمار اور دستاویز سازی تک محدود نہیں ہے بلکہ ان عمارتوں کی حفاظت اور انہیں اس طرح دوبارہ کارآمد بنانے کا ایک جامع و مربوط ویژن کو بھی اپنائے ہوئے ہے۔ اس منصوبے سے ثقافتی، اقتصادی اور سماجی قدر حاصل ہوگی۔

 

ان عمارتوں اور مقامات کو ماضی کے محض نشانات رہنے دینے کے بجائے شہری منظر نامے کے متحرک و فعال عناصر میں تبدیل کیا جا سکے گا۔ریاض میں جدید عمرانی ورثے کی دستاویز سازی کا منصوبہ علاقائی سطح پر آگے بڑھنے کے اقدامات میں شمار ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسے وقت میں دستاویز سازی، تحفظ اور دوبارہ استعمال کو یکجا کرتا ہے جب دنیا کے شہر اپنے جدید فنِ تعمیر کو اپنی شہری شناخت کا ایک بنیادی حصہ سمجھتے ہوئے اس کی نگہداشت کی طرف گامزن ہیں۔اسی طرح یہ منصوبہ معمارانہ مطالعہ جات میں ریاض کے فنِ تعمیر کے حاصل کردہ مقام کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ یہ دہائیوں سے مقامی اور بین الاقوامی تحقیق کا محور رہا ہے جس میں شہر کے تجربے اور اس کے معمارانہ ارتقا کا جائزہ لیا گیا۔ اس سے اس ورثے کو معمارانہ اور ثقافتی یادداشت کے طور پر محفوظ رکھنے کی اہمیت کو تقویت ملتی ہے جو آنے والی نسلوں تک دارالحکومت کی تبدیلی کی کہانی منتقل کرتی ہے۔

 

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مصر میں 3ہزار سال پرانا مقبرہ دریافت کرلیا

Previous Post
عالمی پابندیاں، ایران نے جوئے سے رقم منتقلی کا طریقہ کھوج لیا