برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے گیٹ وِک ایئرپورٹ کے قریب ایک مسافر طیارے کے پائلٹ نے پرواز کے دوران ایک پراسرار گول شے دیکھنے کا دعوی کیا ہے، جس کے بعد اس واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کی گئیں، تاہم حکام اس شے کی اصل شناخت معلوم نہیں کر سکے۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک ایئربس اے 319 مسافر طیارہ گیٹ وِک ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی تیاری کر رہا تھا۔ طیارہ بلندی کم کرتے ہوئے بائیں جانب مڑ رہا تھا کہ اسی دوران پائلٹ نے اپنے دائیں بازو کے قریب ایک گول اور چپٹی شکل کی شے دیکھی، جو بظاہر اڑن طشتری یا کسی غیر معمولی ڈرون سے مشابہ تھی۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مصر میں 3ہزار سال پرانا مقبرہ دریافت کرلیا
پائلٹ کے مطابق یہ شے مخالف سمت میں تقریبا ًاسی بلندی پر پرواز کر رہی تھی اور طیارے سے تقریبا ً100فٹ کے فاصلے پر تھی۔اس واقعے کی تحقیقات برطانیہ کے یو کے ایئر پراکس بورڈ نے کیں، جو فضائی سفر کے دوران پیش آنے والے ایسے واقعات کا جائزہ لیتا ہے جن میں دو فضائی اشیا خطرناک حد تک ایک دوسرے کے قریب آ جائیں۔ بورڈ کی جون میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے بتایا کہ جب طیارہ نیچے اترتے ہوئے بائیں جانب مڑ رہا تھا تو اس نے ایک گول یا اڑن طشتری نما مشتبہ ڈرون کو اپنے طیارے کے دائیں بازو کے قریب انتہائی کم فاصلے سے گزرتے دیکھا۔رپورٹ کے مطابق یہ شے سسیکس کے دیہی علاقے میں ہینگ کراس نامی گائوں کے قریب دیکھی گئی، جو گیٹ وِک ایئرپورٹ سے تقریبا ًسات میل جنوب میں واقع ہے۔
سو سال بعد پہلی جنگِ عظیم کے پنجابی فوجیوں کو جنگی شہدا ء کا درجہ مل گیا
پائلٹ نے بتایا کہ اس شے کی شکل واضح طور پر ایک گول ڈسک جیسی تھی اور اس کے کناروں پر گہرے رنگ کے نشانات دکھائی دے رہے تھے۔ اگرچہ عملے کو شبہ تھا کہ یہ کوئی جدید یا غیر معمولی ڈرون ہو سکتا ہے، لیکن وہ اس کی اصل نوعیت یا مقام کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ شے طیارے کے انتہائی قریب سے گزری، لیکن پائلٹ کو ہنگامی طور پر طیارے کا رخ تبدیل کرنے یا بچائو کی کوئی اضافی کارروائی کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی، کیونکہ طیارہ پہلے ہی اپنے معمول کے مطابق مڑنے کے عمل میں تھا۔تحقیقات کے دوران علاقے میں موجود کسی دوسرے پائلٹ نے ایسی کسی شے کو دیکھنے کی اطلاع نہیں دی، تاہم فضائی ٹریفک کنٹرول نے احتیاط کے طور پر دیگر طیاروں کو خبردار کر دیا تھا۔تحقیقات مکمل ہونے کے بعد یو کے ایئر پراکس بورڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ دستیاب معلومات، شے کی بلندی اور اس کی بیان کردہ خصوصیات کی بنیاد پر یہ طے کرنا ممکن نہیں ہو سکا کہ پائلٹ نے دراصل کیا دیکھا تھا۔ بورڈ نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ اس واقعے سے پرواز کی حفاظت کسی حد تک متاثر ہوئی، تاہم تصادم کا کوئی حقیقی خطرہ موجود نہیں تھا۔
بوتل میں بند کرکے سمندر میں چھوڑا گیا پیغام 5 دہائیوں بعد مل گیا

