Skip to main contentSkip to footer

بارشوں کی تباہ کاری جاری، ہلاکتوں کی تعداد 23 ہوگئی

بارشوں کی تباہ کاری جاری، ہلاکتوں کی تعداد 23 ہوگئی

 آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بدھ کو بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے ، نکاسی آب نہ ہونے کے باعث سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر نے لگیں ،اس دور ان مختلف حادثات کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 23ہوگئی ، درجنوں افراد زخمی ہوئے ، کئی گھر متاثر ہوئے ۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق پنجاب میں بارشوں کے باعث چھتیں گرنے اور دیگر حادثات میں 9 افراد جاں بحق اوردرجنوں زخمی ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق لاہور کے قریب رائیونڈ کے علاقے کوٹ بابو خان میں گھر کی چھت گر گئی، ملبے تلے دب کر ایک شخص جاں بحق ہوا اور 3افراد زخمی ہوگئے، لاہور میں بند روڈ گلشن راوی کے قریب چھت گرنے سے 4 افراد زخمی ہوئے ہیں۔پاکپتن کے گاؤں 75 ڈی میں کمرے کی چھت گرنے سے خاتون اور ہوتہ میں کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق ہوئے

سب سے زیادہ نقصان کس ضلع میں ہوا؟

گجرات میں چھتیں گرنے سے ایک شخص دم توڑ گیا اور6 افراد زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق سیالکوٹ میں بارش کے باعث گھر کی چھت گرنے سے تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق گوجرانوالہ میں بارش کے باعث چھتیں اور دیواریں گرنے کے 8 مختلف واقعات میں 3 افراد جاں بحق، 14 زخمی ہوئے، کرنٹ لگنے کے 3 مختلف حادثات میں ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہوئے۔ساہیوال میں چھتیں گرنے سے ایک خاتون جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے، منڈی بہاؤالدین میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے 8 افراد زخمی ہوئے، بہاولنگر میں شیڈ گرنے سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔اطلاعات کے مطابق پنڈی بھٹیاں میں طوفانی بارش کے باعث سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کرنا پڑ ا ہے ادھر فیصل آباداور بھلوال میں بھی بادل خوب برسے جس کے باعث نشیبی علاقے زیرآب آگئے۔ اطلاعات کے مطابق جھنگ شہر اور گردونواح میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کا سپیل 24 جولائی تک جاری رہے گا۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں مختلف حادثات کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق اور 19 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جاں بحق ہونے والے افراد میں 6 مرد، 6 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 4 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق بارشوں اور فلش فلڈ سے اب تک 28 مکانات متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 6 گھر مکمل طور پر منہدم جبکہ 22 کو جزوی نقصان پہنچا ۔پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر و اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر، کرم اور شمالی وزیرستان میں پیش آئے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تمام متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں، جبکہ صوبے کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں فی الحال پانی کی سطح اور بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔پی ڈی ایم اے نے تنبیہ کی ہے کہ صوبے میں بارشوں کا یہ سلسلہ 23 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی، دریا بپھر گئے

درجنوں  مکانات  منہدم، نشیبی علاقے زیر آب آنے سے پانی گھروں اور کھڑی فصلوں کو ڈبو گیا،مختلف حادثات میں 26افراد جاںبحق اور 50سے زائد زخمی ہوگئے ،خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیاہے۔ تفصیل کے مطابق  خیبرپختونخوا اور پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں، چھتیں اور دیواریں گرنے اور سیلابی ریلوں کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں مختلف حادثات کے نتیجے میں 18 افراد جاں بحق اور 19 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔پی ڈی ایم اے نے  اپنے  بیان میں بتایا ہے کہ جاں بحق ہونے والے افراد میں 7 مرد، 8 بچے اور 3 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 4 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں۔  رپورٹ کے مطابق، بارشوں اور فلش فلڈ سے اب تک 28 مکانات متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 6 گھر مکمل طور پر منہدم جبکہ 22 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر و اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر، کرم اور شمالی وزیرستان میں پیش آئے ہیں۔ علاوہ ازیں، جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغہ میں بھی بارش کے دوران مکان کی چھت گرگئی، جس کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق افراد میں میاں بیوی اور2 بچے شامل ہیں۔ادھر  پنجاب ریسکیو 1122 کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں بارش اور آندھی کے نتیجے میں دیواریں اور چھتیں گرنے سے 8 افراد جاںبحق   جبکہ 37 افراد زخمی ہوگئے۔گوجرانوالہ میں بارش کے باعث چھتیں اور دیواریں گرنے کے آٹھ مختلف واقعات میں 3 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے، جبکہ بارش اور کرنٹ لگنے کے تین مختلف حادثات میں ایک شخص کی موت ہوئی اور دو زخمی ہوئے۔ کامونکی میں انڈر پاس میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر ایک بچہ جان کی بازی ہار گیا۔پاکپتن میں کچے مکان کی چھت گرنے سے 2 افراد جان سے گئے اور 2 زخمی ہوئے، جبکہ ساہیوال کے علاقے کوٹ خادم علی شاہ میں چھت گرنے سے ایک خاتون کی موت ہوگئی۔ ہڑپہ میں دکان کی چھت گرنے سے 3 افراد زخمی ہوئے۔

لاہور کے علاقے بند روڈ گلشن راوی کے قریب چھت گرنے سے 4 افراد زخمی ہوئے، منڈی بہائو الدین میں مختلف دیہاتوں میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے 8 افراد زخمی ہوئے، بہاولنگر میں شیڈ گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا جبکہ سیالکوٹ میں چھت گرنے سے 3افراد زخمی ہوئے۔ مری اور کہوٹہ میں جزوی لینڈ سلائیڈنگ اور درخت گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔چنیوٹ میں دریائے چناب کی موجیں مسجد کو بہا لے گئیں۔ نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پرمنتقل کرنے کیلئے   کشتیاں پہنچا دی گئیں۔جلال پور بھٹیاں میں زمینی کٹائو کی وجہ سے کسانوں کی ایکڑوں پر پھیلی فصل زیر آب آگئی۔   ضلع وزیرآباد اور گردونواح میں گزشتہ 36 گھنٹوں سے جاری وقفے وقفے کی بارش نے عام زندگی کو شدید متاثر کر دیا  ۔ہیڈ مرالہ، خانکی اور قادر آباد بیراج کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔وزیر آباد میں ضلعی انتظامیہ نے مقامی آبادی کو فوری گھر خالی کرنے کی ہدایت کر دی۔ادھر  سات گھنٹے تک مسلسل طوفانی بارش نے نارووال کو ڈبو دیا۔ جسر کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث مکینوں کو نقل مکانی کی ہدایت کر دی گئی۔سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات، حافظ آباد، ملکوال، جہلم اور بھکر شہر بھی بارش کے پانی میں ڈوب گئے۔ ادھر  محکمہ موسمیات خیبرپختونخوا نے  جمعرات تک موسم کی بدلتی صورتحال کے حوالے سے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ، تودے گرنے اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے

طوفانی بارشیں، بادل پھٹنے سے مختلف علاقوں میں سیلاب ،14افراد جاں بحق

جبکہ پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان اور صوابی کے نشیبی علاقوں میں زیرِ آب آنے کا بھی امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق تیز ہواں اور آسمانی بجلی گرنے سے کمزور ڈھانچوں، سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور بل بورڈز کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق چترال، دیر بالائی و زیریں، سوات، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، کوہستان بالائی و زیریں، کولائی پالس، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، باجوڑ، مہمند، مردان، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، پشاور، خیبر، کوہاٹ، کرک، ہنگو، کرم اور اورکزئی میں اکثر مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش اور بعض علاقوں میں تیز بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے مزید بتایا کہ لکی مروت، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بھی اکثر مقامات پر تیز ہوائوں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ اس دوران کہیں کہیں موسلا دھار اور شدید موسلا دھار بارش، نیز بعض مقامات پر ژالہ باری کی بھی توقع ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت چترال میں 28، ڈیرہ اسماعیل خان میں 35، پشاور میں 28، دیر میں 30، مالم جبہ میں 20 اور کالام میں 25 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا،

پاکستان میں جعلی بلڈ کینسر ادویات فروخت ہونے کا انکشاف

جبکہ سب سے زیادہ بارش مالم جبہ میں 64، چراٹ میں 55، کالام میں 35 اور ڈیرہ اسماعیل خان و تخت بھائی میں 18 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔پنجاب میں  مون سون بارشوں کے باعث مختلف دریائو ں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے ) کے مطابق صوبے میں مون سون بارشوں کا دوسرا اسپیل 24 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث بالائی علاقوں میں مزید بارشوں سے دریائو ں میں پانی کے بہائو  میں اضافے کا خدشہ ہے۔پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائو ں کی موجودہ صورتحال کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے  کالاباغ کے مقام پر پانی کا بہا ئو3 لاکھ 17 ہزار کیوسک جبکہ چشمہ کے مقام پر 2 لاکھ 95 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔  دریائے چناب میں بھی پانی کی آمد بڑھ رہی ہے، جہاں مرالہ کے مقام پر 1 لاکھ 28 ہزار کیوسک اور قادر آباد کے مقام پر 1 لاکھ 57 ہزار کیوسک کے ساتھ نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ تاہم، چناب میں خانکی کے مقام پر پانی کا بہائو  1 لاکھ 52 ہزار کیوسک ہے اور وہاں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا میں بارشوں سے تباہی، ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی

اس کے برعکس دریائے راوی، ستلج اور جہلم میں فی الحال پانی کا بہا نارمل ہے، جبکہ نالہ بئیں میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال موجود ہے۔اس ابھرتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے شہریوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ دریاں کے پاٹ میں موجود شہری فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے عوام کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ شہری موسم اور سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور دریاں، نہروں اور ندی نالوں کے اطراف سیرو تفریح کے لیے جانے سے بالکل گریز کریں۔انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ دریاں کی کراسنگ کے لیے معیاری بوٹس اور لائف جیکٹس کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ بچوں کا خاص خیال رکھیں اور انہیں کسی صورت بھی دریاں یا ندی نالوں میں نہانے کے لیے نہ جانے دیں۔دوسری جانب لنڈیکوتل میں بھی مون سون کے پیشِ نظر پاک افغان شاہراہ پر ریسکیو ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں 7 مختلف ہائی رسک مقامات پر ڈیوٹی پر موجود ہیں اور تمام ریسکیو اسٹیشنز اور ریفرل پوائنٹس پر عملے کو الرٹ رکھ دیا گیا ہے۔ریسکیو اداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ عوام ندی نالوں سے دور رہیں اور بچوں کو پانی کے قریب نہ جانے دیں۔

دو سو یونٹ کا بل 18ہزار 500 روپے؟سوالات کھڑے ہوگئے

Next Post
دوستوں کو دبئی بلائیں، 3000 درہم کا فائدہ اٹھائیں
Previous Post
دنیا میں ہر دسواں شخص انتہائی غریب، 2.3ارب افراد بھوکے سوتے ہیں