Skip to main contentSkip to footer

ڈریگن فروٹ، کیوی، ایووکاڈو کا وجود ختم ہونے کا خطرہ

ڈریگن فروٹ، کیوی، ایووکاڈو کا وجود ختم ہونے کا خطرہ

صحت بخش غذا کا ذکر ہو تو آج کل ڈریگن فروٹ، کیوی، ایووکاڈو اور پیشن فروٹ جیسے مہنگے اور غیر ملکی پھل اکثر لوگوں کی پہلی پسند بن چکے ہیں، جنہیں عام طور پر امیروں کی پسندیدہ سوغاتیں بھی کہا جاتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں ان پھلوں کی کاشت میں نمایاں اضافہ ہوا کیونکہ ان کی مانگ مسلسل بڑھی اور کسانوں کو روایتی فصلوں کے مقابلے میں کہیں بہتر آمدنی حاصل ہونے لگی تاہم، اب مارکیٹ میں یہ تشویشناک سوال گونج رہا ہے کہ کیا واقعی ان میں سے چند قیمتی پھلوں کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہونے والا ہے؟ماہرینِ موسمیات اب بڑی شدومد کے ساتھ خبردار کر رہے ہیں کہ تیزی سے بدلتی ہوئی آب و ہوا ان نایاب پھلوں کی بقا اور پیداوار کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

جعلی یا اصلی؟ اے آئی تصاویر پہچاننے کے آسان طریقے سامنے آگئے

سائنس دانوں کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، بارش کے بدلتے ہوئے انداز اور شدید موسمی واقعات ان پھلوں کی افزائش، پھول آنے کے عمل اور پیداوار پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں ان پھلوں کی کاشت مزید مشکل ہو سکتی ہے۔اگرچہ سپر مارکیٹوں میں سجے رنگ برنگے غیر ملکی پھل آج بھی عام صارف کو پہلے جیسے ہی دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان پھلوں کو اگانے والے کسانوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی خاموشی سے ایک ایسا چیلنج بن چکی ہے جو باغ سے دسترخوان تک کے پورے سفر کو متاثر کر رہی ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق ہر پھل کی نشوونما کے لیے مخصوص درجہ حرارت، نمی اور موسمی حالات درکار ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیوی نسبتاً ٹھنڈے موسم میں بہتر پیداوار دیتا ہے

روزانہ 5کپ کافی جگر کی بیماریوں سے بچائو میں مددگار ثابت

جبکہ ایووکاڈو شدید گرمی، خشک سالی اور پانی کی کمی سے جلد متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح ڈریگن فروٹ اور پیشن فروٹ بھی غیر معمولی موسمی تغیرات کے باعث پیداوار میں کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اگر موسمی حالات مسلسل غیر متوازن رہے تو ان پھلوں کی کاشت مزید مشکل اور مہنگی ہوتی جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا بھر کی سپر مارکیٹوں میں یہ رنگ برنگے غیر ملکی پھل آج بھی بڑی مقدار میں دستیاب نظر آتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے کام کرنے والے کسان بڑھتے ہوئے موسمی خطرات کا مسلسل سامنا کر رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں غیر معمولی گرمی، پانی کی قلت اور بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز نے پیداوار کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں بعض باغات میں فصلیں کم ہو رہی ہیں اور پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کا اثر صرف پیداوار تک محدود نہیں بلکہ پھلوں کے معیار، سائز، ذائقے اور غذائیت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ درجہ حرارت اور پانی کی کمی بعض اوقات پھلوں کے پکنے کے عمل کو متاثر کرتی ہے، جس سے ان کی تجارتی اہمیت اور برآمدی صلاحیت بھی کم ہو سکتی ہے۔

12 سال کی عمر میں جہاز بنانے والی اگلی آئنسٹائن سبرینا کون ہے؟

زرعی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، پانی کے مؤثر استعمال، جدید آبپاشی نظام، موسمیاتی تبدیلی کے مطابق نئی اقسام کی تیاری اور پائیدار زرعی طریقوں کو  فروغ نہ دیا گیا تو آئندہ دہائیوں میں ان پھلوں کی پیداوار مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ بعض علاقوں میں ان کی کاشت معاشی طور پر غیر موزوں بھی ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ فی الحال یہ کہنا درست نہیں کہ ڈریگن فروٹ، کیوی، ایووکاڈو یا پیشن فروٹ مکمل طور پر معدوم ہونے والے ہیں، تاہم موسمیاتی تبدیلی کے باعث ان کی پیداوار، دستیابی اور کاشت کے روایتی علاقوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ اگر مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ پھل پہلے کے مقابلے میں زیادہ نایاب اور مہنگے ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے حکومتوں، زرعی اداروں اور کسانوں پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی، پانی کے بہتر انتظام، تحقیق اور موسمی حالات سے ہم آہنگ نئی فصلوں کی تیاری پر سرمایہ کاری کریں، تاکہ دنیا بھر میں ان قیمتی اور غذائیت سے بھرپور پھلوں کی پیداوار کو مستقبل میں بھی برقرار رکھا جا سکے۔

مکڑی انسانوں سے بھی زیادہ تیز نکلی ، سائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

خلائی مخلوق جیسا دکھنے والا دنیا کا انوکھا اور دیوقامت کیڑا

پچھلی پوسٹ
خلائی مخلوق جیسا دکھنے والا دنیا کا انوکھا اور دیوقامت کیڑا