Skip to main contentSkip to footer

مس ورلڈ میں پاکستان کی پہلی نمائندگی، انیقہ جمال نئی تاریخ رقم کریں گی

مس ورلڈ میں پاکستان کی پہلی نمائندگی، انیقہ جمال نئی تاریخ رقم کریں گی

پاکستان نے عالمی مقابلہ حسن مس ورلڈ کی 73سالہ تاریخ میں پہلی بار باضابطہ طور پر شرکت کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔تاریخی موقع پر انیقہ جمال اقبال کو مس ورلڈ پاکستان 2026ء کا تاج پہنایا گیا جو مس ورلڈ 2026مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔ انیقہ جمال اقبال کی تاج پوشی لاہور میں ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب کے دوران ہوئی، جہاں مس پاکستان یونیورسل 2022ڈاکٹر شفق اختر نے انہیں تاج پہنایا، مس پاکستان ورلڈ آرگنائزیشن کا قیام 2002ء میں عمل میں آیا تھا، گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستانی خواتین کو مختلف عالمی مقابلہ حسن تک پہنچانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ادارے کی سربراہ سونیا احمد کا کہنا ہے کہ مس ورلڈ میں پاکستان کی پہلی باضابطہ شرکت نہ صرف عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کا اہم سنگِ میل ہے بلکہ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی خواتین مختلف شعبوں کی طرح بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ 1989میں اداکارہ اور ماڈل انیتا ایوب نے پاکستان کی جانب سے مس ایشیا پیسیفک انٹرنیشنل میں حصہ لیا تھا

انیتا ایوب کو کس وجہ سے مقابلہ چھوڑنا پڑا؟

مس ورلڈ میں پاکستان کی پہلی نمائندگی، انیقہ جمال نئی تاریخ رقم کریں گی

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تاہم ایک متنازع بیان کے بعد انہیں مقابلہ ادھورا چھوڑنا پڑا تھا۔ بعد ازاں مختلف پاکستانی امیدواروں نے مس ارتھ، مس سپرا نیشنل، مس انٹرنیشنل، مس گرینڈ انٹرنیشنل، مس کاسمو اور دیگر عالمی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ 2023 میں ایریکا رابن پہلی پاکستانی امیدوار بنیں جنہوں نے مس یونیورس کے مرکزی مقابلے میں شرکت کی، جبکہ بعد ازاں نور زرمینہ، روما ریاض اور دیگر امیدوار بھی اس پلیٹ فارم تک پہنچیں۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان پہلی مرتبہ انیقہ جمال اقبال مس ورلڈ کے مقابلے میں حصہ لیں گی ۔ مس ورلڈ دنیا کا قدیم اور معروف بین الاقوامی مقابلۂ حسن ہے، جس کا آغاز 1951 میں برطانیہ میں ہوا۔ اس مقابلے میں دنیا بھر کے مختلف ممالک کی منتخب خواتین حصہ لیتی ہیں اور صرف ظاہری خوبصورتی ہی نہیں بلکہ ذہانت، شخصیت، اعتماد، سماجی خدمات اور مختلف صلاحیتوں کی بنیاد پر ان کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

میں نے کبھی روزہ نہیں رکھا’سارادن کھاتی رہتی ہوں، کرینہ کپور

 


مس ورلڈ مقابلے کا بنیادی مقصد خواتین کو ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، ماحولیات اور انسانی فلاح و بہبود جیسے شعبوں میں اپنی خدمات کو بھی اجاگر کرسکیں۔ اس مقابلے کا معروف نعرہ مقصد کے ساتھ خوبصورتی” ہے، جس کے تحت ہر شریک امیدوار کو کسی نہ کسی سماجی یا فلاحی منصوبے پر کام کرنا ہوتا ہے۔ مقابلے میں شریک امیدواروں کو مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جن میں انٹرویو، ٹیلنٹ شو، اسپورٹس چیلنج، فیشن پریزنٹیشن، ہیڈ ٹو ہیڈ چیلنج اور سماجی خدمت سے متعلق منصوبوں کی پیشکش شامل ہوتی ہے۔ ان تمام سرگرمیوں میں امیدواروں کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فاتح کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ مس ورلڈ تنظیم کے مطابق مقابلے کا مقصد دنیا بھر کی نوجوان خواتین کو بااختیار بنانا، انہیں قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ کا موقع فراہم کرنا اور عالمی سطح پر مثبت سماجی تبدیلی کے لیے ان کے کردار کو نمایاں کرنا ہے۔ فاتح بننے والی امیدوار ایک سال تک مس ورلڈ کا اعزاز اپنے پاس رکھتی ہے اور مختلف ممالک میں فلاحی سرگرمیوں، تعلیمی منصوبوں اور خیراتی تقریبات میں تنظیم کی نمائندگی کرتی ہے۔

رنویر سنگھ نے فلم کا 355کروڑروپے معاوضہ لے کر ریکارڈ قائم کردیا

 

اگرچہ مس ورلڈ کو دنیا کے معتبر مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم بعض ممالک اور سماجی و مذہبی حلقوں کی جانب سے اس پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ ناقدین کے مطابق ایسے مقابلے خواتین کی ظاہری خوبصورتی کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جبکہ حامیوں کا مؤقف ہے کہ جدید دور میں اس مقابلے کی توجہ سماجی خدمت، تعلیم، ذہانت اور خواتین کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہو چکی ہے۔ مس ورلڈ کے مقابلے میں ہر ملک کی نمائندہ قومی سطح پر منعقد ہونے والے مقابلوں کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے۔ فاتح امیدوار کو تاج، انعامات اور عالمی سطح پر مختلف فلاحی اور سفارتی تقریبات میں شرکت کا موقع ملتا ہے۔ مس ورلڈ کے ساتھ ساتھ مس یونیورس، مس انٹرنیشنل اور مس ارتھ بھی دنیا کے نمایاں بین الاقوامی مقابلوں میں شمار کیے جاتے ہیں، تاہم مس ورلڈ اپنی طویل تاریخ، عالمی شہرت اور سماجی خدمت پر زور دینے کے باعث منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ہر سال اس مقابلے کو دنیا بھر میں کروڑوں افراد ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے دیکھتے ہیں، جبکہ اس میں شریک امیدوار مختلف ثقافتوں، روایات اور ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی ہم آہنگی اور خیرسگالی کے پیغام کو فروغ دیتی ہیں۔

تھائی لینڈ میں مقابلہ حسن کے دوران امیدوار کے دانت گر گئے

 

 

 

ہانیہ عامر پھر منفرد انداز کے باعث خبروں کی زینت بن گئیں

Next Post
چترال میں 12 پولو گراؤنڈز کی تعمیر و بحالی منصوبہ کی منظوری
Previous Post
سی ڈی ٹی خیبرپختونخوا کا بلوچستان سے بھی پیچھے ہونے کا انکشاف