Skip to main contentSkip to footer

چترال میں 12 پولو گراؤنڈز کی تعمیر و بحالی منصوبہ کی منظوری

چترال میں 12 پولو گراؤنڈز کی تعمیر و بحالی منصوبہ کی منظوری

خیبرپختونخوا حکومت نے اپر اور لوئر چترال میں تاریخی شندور پولو گراؤنڈ سمیت 12 پولو گراؤنڈز کی تعمیر و بحالی کے لیے 2 ارب روپے کے سیاحت اور ثقافتی ورثے سے متعلق منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویز کے مطابق اس منصوبے کا مقصد چترال کی اہم ترین ثقافتی اور تاریخی روایات میں شامل پولو کے کھیل کا تحفظ اور فروغ دینا ہے۔ اس کیساتھ ساتھ کھیلوں پر مبنی سیاحت کو فروغ دینا اور مقامی آبادی کے لیے آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی اس منصوبے کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔دستاویز کے مطابق شندور پولو فیسٹیول خطے کے اہم ترین سیاحتی ایونٹس میں شمار ہوتا ہے۔ یہ میلہ شندور ٹاپ پر چترال اسکائوٹس، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور حکومت گلگت بلتستان کے تعاون سے منعقد کیا جاتا ہے۔

 

اس فیسٹیول کے دوران ٹرانسپورٹ، رہائش، خوراک، عارضی اسٹالز اور مقامی تجارت سمیت مختلف سیاحتی سرگرمیوں سے اپر اور لوئر چترال کی مقامی آبادی کو لاکھوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ چترال کی پولو ثقافت اس خطے کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ روایتی چترالی پولو رسمی کلب پولو کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتار، زیادہ جسمانی اور مقامی تہواروں و سماجی اجتماعات سے گہرا تعلق رکھنے والا کھیل ہے۔دستاویز میں خطے کے دیگر اہم ثقافتی اور سیاحتی میلوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں شندور پولو فیسٹیول، پری شندور پولو ٹورنامنٹ، قاقلشٹ فیسٹیول، بروغل فیسٹیول، کھٹ فیسٹیول، چلم جوشی فیسٹیول، اْوچال سمر فیسٹیول اور چویموس ونٹر فیسٹیول شامل ہیں۔

فرانسیسی فٹبالر متیو فلامینی دنیا کے امیر ترین فٹبالر بن گئے

 

دستاویز کے مطابق 12 پولو گراؤنڈز کی تعمیر و بحالی کا منصوبہ چترال کے لیے تجویز کردہ سیاحت سے متعلق تمام منصوبوں میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ دیگر منصوبوں میں سیاحتی آرام گاہیں، پکنک مقامات، کیمپنگ پوڈ ولیجز اور سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔دستاویز کے مطابق ان 12 پولو گراؤنڈز کی تعمیر سے چترال اپنے روایتی کھیل کو مزید مضبوط سیاحتی برانڈ میں تبدیل کر سکے گا، جس سے مقامی کھلاڑیوں، ٹرانسپورٹرز، ہوٹل مالکان، دکانداروں اور چھوٹے کاروباروں کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔پولو گراؤنڈز کے منصوبے کے علاوہ دستاویز میں چترال کے لیے متعدد دیگر سیاحتی منصوبوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں اپر چترال کے بونی میں ٹورسٹ فیسیلیٹیشن اینڈ ریسٹ ایریا کا قیام، لوئر چترال کے گرم چشمہ اور اپر چترال کے سورلاسپور میں سیاحتی پکنک مقامات کی ترقی، جبکہ بمبوریت، سورلاسپور اور یارخون لشٹ میں کیمپنگ پوڈ ولیجز کا قیام شامل ہے

فاطمہ ثنا نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں کئی ریکارڈز اپنے نام کرلیے

 

تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں اور سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔دستاویز میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبے بھی شامل ہیں، جن میں 17.1 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر پر ایک ارب 78 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے، جبکہ ایون۔بمبوریت اور زینے پاس سڑکوں کو آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ اپر چترال، لوئر چترال، اپر دیر، لوئر دیر اور مانسہرہ میں “میزبان” (ہوسٹ) ٹورازم پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے، جس کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

فیفا ورلڈکپ، ٹرمپ کی فائنل میں شرکت کی تصدیق، فاتح ٹیم کو ٹرافی دیں گے

 

اس پروگرام کے تحت ہوم اسٹے سہولتوں کے فروغ کے لیے ایک سے تین ملین روپے تک کے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ شندور پولو فیسٹیول پاکستان کے قدیم ترین اور منفرد ثقافتی و کھیلوں کے میلوں میں شمار ہوتا ہے، جو ہر سال شندور ٹاپ پر منعقد کیا جاتا ہے۔ یہ مقام سطح سمندر سے تقریباً 3,700 میٹر (12 ہزار فٹ سے زائد) کی بلندی پر واقع ہے اور اسے دنیا کا بلند ترین قدرتی پولو گراؤنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ اس میلے میں خیبر پختونخوا کے ضلع اپر چترال اور گلگت بلتستان کی ٹیموں کے درمیان روایتی فری اسٹائل پولو کے دلچسپ مقابلے منعقد ہوتے ہیں، جنہیں ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح دیکھنے آتے ہیں۔ تاریخی روایات کے مطابق شندور کے علاقے میں پولو صدیوں سے کھیلا جاتا رہا ہے، تاہم موجودہ شندور پولو گراؤنڈ کی تعمیر 1935 میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران اس وقت عمل میں آئی جب شمالی علاقوں کے برطانوی سیاسی منتظم میجر ایولین ہیے کوب  نے مقامی عمائدین کی مدد سے یہاں ایک باقاعدہ پولو گراؤنڈ تعمیر کرایا۔ اس میدان کو ابتدا میں مقامی زبان کھوار میں “ماس جونالی” کہا جاتا تھا، جس کا مطلب “چاندنی میں پولو کھیلنے کا میدان” بتایا جاتا ہے۔

شندور پولو فیسٹیول کا آغاز کب ہوا؟

شندور میں باقاعدہ سالانہ پولو مقابلوں کا آغاز 1936 میں ہوا، جس کے بعد یہ روایت مسلسل فروغ پاتی گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ صرف کھیل تک محدود نہ رہی بلکہ ایک بین الاقوامی ثقافتی میلے کی شکل اختیار کر گئی، جہاں پولو کے ساتھ ساتھ روایتی موسیقی، لوک رقص، مقامی دستکاری، ثقافتی نمائشیں، کیمپنگ اور سیاحتی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا جانے لگا۔ شندور پولو کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا فری اسٹائل پولو ہے، جس میں روایتی بین الاقوامی پولو کے مقابلے میں قوانین نسبتاً کم ہوتے ہیں اور کھیل زیادہ تیز، سنسنی خیز اور جسمانی مہارت کا امتحان سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے شندور پولو کو دنیا بھر میں منفرد مقام حاصل ہے اور غیر ملکی سیاح بھی ہر سال اس کھیل کا مشاہدہ کرنے پاکستان آتے ہیں۔

آسٹریلیا میں اونٹوں کی ریس، ینگ گن نے ٹائٹل جیت لیا

 

یہ میلہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کے اشتراک سے منعقد کیا جاتا ہے، جبکہ مختلف سرکاری ادارے اس کے انتظامات میں حصہ لیتے ہیں۔ شندور پولو فیسٹیول نہ صرف دونوں خطوں کے درمیان روایتی کھیلوں کی صحت مند مسابقت کی علامت ہے بلکہ قومی یکجہتی، ثقافتی ہم آہنگی اور سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سیاحتی ماہرین کے مطابق شندور پولو فیسٹیول پاکستان کی قدرتی خوبصورتی، ثقافتی تنوع اور روایتی کھیلوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ ہر سال ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح اس منفرد میلے میں شرکت کے لیے شندور کا رخ کرتے ہیں، جس سے مقامی معیشت، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور دستکاری کے شعبوں کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچتا ہے۔ شندور پولو فیسٹیول آج پاکستان کی ثقافتی شناخت اور سیاحتی ورثے کی ایک نمایاں علامت تصور کیا جاتا ہے۔

 

 

جان سینا کا پاکستانی فین سے محبت کا اظہار’ سوال کا دلچسپ جواب دیا

Next Post
کاغذ سے پہلے قرآنِ کریم کن چیزوں پر لکھا جاتا تھا؟ قرآن میوزیم میں نمائش
Previous Post
مس ورلڈ میں پاکستان کی پہلی نمائندگی، انیقہ جمال نئی تاریخ رقم کریں گی