Skip to main contentSkip to footer

بلیو پاسپورٹ کیا ہے؟ کن افراد کو جاری کیا جاتا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے؟

بلیو پاسپورٹ کیا ہے؟ کن افراد کو جاری کیا جاتا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے؟

پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی میں ارکان اسمبلی اور ان کی شریک حیات کو بلیو پاسپورٹ دینے سے متعلق مجوزہ قانونی شقوں پر بحث کے بعد عوام میں بلیو پاسپورٹ کے بارے میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ اگرچہ اس معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن حلقوں میں مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں، تاہم یہ جاننا ضروری ہے کہ بلیو پاسپورٹ کیا ہوتا ہے، کن افراد کو جاری کیا جاتا ہے اور پاکستان میں اس کا قانونی طریقہ کار کیا ہے۔
پاکستان میں حالیہ دنوں بلیو پاسپورٹ ایک مرتبہ پھر قومی بحث کا موضوع بن گیا ہے عوام میں یہ سوال عام ہے کہ آخر بلیو پاسپورٹ کیا ہوتا ہے، یہ کن افراد کو دیا جاتا ہے، اس کے کیا فوائد ہوتے ہیں اور کیا ہر سرکاری ملازم یا سیاست دان اس کا حقدار ہوتا ہے؟

ماہرین کے مطابق پاکستان میں پاسپورٹس کی مختلف اقسام ہیں جن میں عام ، سرکاری یا آفیشل، سفارتی اور ایمرجنسی ٹریول ڈاکیومنٹ شامل ہیں۔ عام شہریوں کو سبز رنگ کا عام پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، جبکہ سرکاری ذمہ داریوں کے لیے بیرون ملک جانے والے مخصوص افراد کو نیلے رنگ کا آفیشل یا بلیو پاسپورٹ دیا جاتا ہے۔

بلیو پاسپورٹ کیا ہوتا ہے؟

بلیو پاسپورٹ دراصل ایک آفیشل پاسپورٹ ہے جو حکومت پاکستان کی جانب سے ان افراد کو جاری کیا جاتا ہے جو سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے بیرون ملک سفر کرتے ہیں۔ اس پاسپورٹ کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ حامل شخص نجی حیثیت میں نہیں بلکہ سرکاری ذمہ داری نبھانے کے لیے دوسرے ملک جا رہا ہے۔ یہ پاسپورٹ عام شہریوں کے لیے دستیاب نہیں ہوتا بلکہ صرف ان افراد کو جاری کیا جاتا ہے جن کا نام پاسپورٹ رولز میں درج اہل زمروں میں شامل ہو۔

ڈیڈ لائن ختم، پشاور میں ناکہ بندیاں، سینکڑوں افغان مہاجرین گرفتار

 


کن افراد کو بلیو پاسپورٹ ملتا ہے؟

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے مطابق آفیشل پاسپورٹ ان پاکستانی شہریوں کو جاری کیا جاتا ہے جو سرکاری ذمہ داری کے تحت بیرون ملک جا رہے ہوں۔ ان میں سینیٹرز، قومی اسمبلی کے ارکان، صوبائی وزراء، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز، مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں کے وہ افسران شامل ہو سکتے ہیں جو سرکاری مشن، تربیت، کانفرنس، تعیناتی یا دیگر سرکاری کام کے سلسلے میں بیرون ملک روانہ ہو رہے ہوں۔  صرف سرکاری ملازم ہونا بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں۔ متعلقہ وزارت یا ادارے کی سفارش، بیرون ملک سرکاری ذمہ داری کی منظوری اور پاسپورٹ رولز کے مطابق اہلیت ضروری ہوتی ہے۔ درخواست گزار کے لیے متعلقہ محکمے کی باضابطہ سفارش بھی لازمی ہوتی ہے۔

گنڈاپور کی آڈیو لیک، سہیل آفریدی کیخلاف نیا محاذ کھول دیا

 
 


بلیو اور سفارتی پاسپورٹ میں فرق

اکثر لوگ بلیو پاسپورٹ اور سفارتی (ریڈ) پاسپورٹ کو ایک ہی سمجھتے ہیں، حالانکہ دونوں میں واضح فرق موجود ہے۔ سفارتی پاسپورٹ صرف سفیروں، سفارت کاروں، بعض اعلیٰ ریاستی شخصیات اور ان افراد کو جاری کیا جاتا ہے جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سفارتی نمائندگی کرتے ہیں۔ دوسری جانب بلیو پاسپورٹ ان سرکاری اہلکاروں اور منتخب نمائندوں کے لیے ہوتا ہے جو سرکاری ذمہ داری کے تحت بیرون ملک سفر کر رہے ہوں، لیکن انہیں سفارتی حیثیت یا سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا۔  یہ ایک عام غلط فہمی ہے۔ بلیو پاسپورٹ رکھنے والوں کو ہر ملک میں بغیر ویزا داخلے کی اجازت نہیں ملتی۔ ویزا کی شرائط متعلقہ ملک کی امیگریشن پالیسی اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں پر منحصر ہوتی ہیں۔ بعض ممالک سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کو خصوصی سہولت یا آسان ویزا طریقہ کار فراہم کرتے ہیں، تاہم یہ ہر ملک کے اپنے قوانین کے مطابق ہوتا ہے۔

بلیو پاسپورٹ، 8 کلاشنکوف لائسنس، وضاحت سامنے آگئی

 


عام طور پر آفیشل پاسپورٹ سرکاری ذمہ داری کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ متعدد صورتوں میں سرکاری دورہ یا تعیناتی مکمل ہونے کے بعد متعلقہ قواعد کے مطابق اسے واپس بھی جمع کرایا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے حتمی طریقہ کار متعلقہ وزارت، محکمہ اور پاسپورٹ رولز کے مطابق طے ہوتا ہے۔ حالیہ عرصے میں وفاقی حکومت نے ملک کے نمایاں ٹیکس دہندگان میں سے 42 افراد کو “ایمبیسیڈر ایٹ لارج” کا درجہ دیتے ہوئے انہیں بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی منظوری دی، جس کے بعد اس معاملے پر سیاسی اور عوامی سطح پر بحث شروع ہوگئی۔ اس کے علاوہ مختلف قانون سازی کی تجاویز اور سرکاری مراعات سے متعلق معاملات نے بھی بلیو پاسپورٹ کو قومی توجہ کا مرکز بنا دیا۔
پاکستان میں بنیادی طور پر چار اقسام کے سفری دستاویزات جاری کیے جاتے ہیں
 عام (گرین) پاسپورٹ: تمام پاکستانی شہریوں کے لیے۔
 آفیشل (بلیو) پاسپورٹ: سرکاری ذمہ داری پر بیرون ملک جانے والے اہل افراد کے لیے۔
 سفارتی (ریڈ) پاسپورٹ: سفارت کاروں اور مخصوص اعلیٰ حکومتی شخصیات کے لیے۔
 ایمرجنسی ٹریول ڈاکیومنٹ: بیرون ملک ہنگامی حالات میں وطن واپسی کے لیے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی اراکین پر مراعات کی بارش ! حقیقت کیا ہے؟

 


امیگریشن قوانین سے واقف ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک میں مختلف رنگوں کے پاسپورٹس کا مقصد حامل شخص کی سرکاری حیثیت کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے۔ تاہم کسی بھی رنگ کا پاسپورٹ قانون سے بالاتر حیثیت یا غیر معمولی مراعات کی ضمانت نہیں دیتا۔ ہر پاسپورٹ ہولڈر کو متعلقہ ممالک کے امیگریشن قوانین، ویزا شرائط اور سفری ضوابط پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ معلومات پر یقین کرنے کے بجائے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ قواعد و ضوابط سے رہنمائی حاصل کریں، کیونکہ بلیو پاسپورٹ ایک مخصوص سرکاری دستاویز ہے جو صرف مقررہ قانونی شرائط پوری کرنے والوں کو ہی جاری کیا جاتا ہے۔

 

 

موت سے پہلے انسان کیا محسوس کرتا ہے؟ برطانوی نرس نے تجربہ بیان کر دیا

Next Post
ستائیس برس سے پیدل دنیا کی سیر کرنے والا کارل بشبی کون ہے؟
Previous Post
موت سے پہلے انسان کیا محسوس کرتا ہے؟ برطانوی نرس نے تجربہ بیان کر دیا