Skip to main contentSkip to footer

گنڈاپور کی آڈیو لیک، سہیل آفریدی کیخلاف نیا محاذ کھول دیا

علی امین گنڈاپور آڈیو لیک

پشاور: خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ سے ایک آڈیو پیغام لیک ہونے کے بعد صوبے کی سیاسی فضا میں ہلچل مچ گئی ہے۔ لیک ہونے والی آڈیو میں علی امین گنڈاپور نے اپنی ہی حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کارکردگی، گورننس، ارکان اسمبلی اور وزرا کی تنخواہوں میں اضافے، ترقیاتی منصوبوں کے معیار، بھرتیوں، تبادلوں اور صوبے میں جاری آپریشنز سے متعلق کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ بعد ازاں پشاور میں ہونے والے پارلیمانی گروپ اجلاس کے دوران بھی انہوں نے انہی معاملات پر کھل کر اظہار خیال کیا اور متعدد حکومتی فیصلوں پر سخت تنقید کی۔ دوسری جانب ان کے ترجمان فراز مغل نے بھی وائرل ہونے والی آڈیو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آڈیو علی امین گنڈاپور کی ہی ہے۔

علی امین گنڈاپور حکومتی فیصلوں پر نالاں کیوں؟


لیک ہونے والی آڈیو کے مطابق علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے حکومت کو مسلسل عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام حکومت سے بہتر طرز حکمرانی کی توقع رکھتے ہیں، مگر بعض اقدامات سے حکومت کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے اندر موجود مسائل کو بروقت حل نہ کیا گیا تو اس کے سیاسی نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی اراکین پر مراعات کی بارش ! حقیقت کیا ہے؟

 


انہوں نے آڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں ڈرون حملے اور مختلف نوعیت کے آپریشنز جاری ہیں اور ان آپریشنز کے لیے صوبائی حکومت کے فنڈز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے معاملات پر نہ صرف شفافیت ضروری ہے بلکہ عوام کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے کیونکہ صوبے کے عوام حکومت سے جان، مال اور عزت کے تحفظ کی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی مزید آپریشنز ہونے کا امکان موجود ہے، اس لیے حکومت کو اپنی پالیسی عوام کے سامنے واضح کرنی چاہیے۔
علی امین گنڈاپور نے صوبائی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ خود حکومتی وزرا اور ارکان اسمبلی غیر معیاری ترقیاتی کاموں پر اعتراضات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف حلقوں سے ناقص تعمیراتی کاموں کی شکایات موصول ہو رہی ہیں اور کئی ارکان اسمبلی خود ان منصوبوں کو رکوانے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حکومتی نمائندے ہی منصوبوں کے معیار پر سوال اٹھا رہے ہوں تو اس کا براہ راست اثر حکومت کی ساکھ پر پڑتا ہے اور بیڈ گورننس کا تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھرتیوں اور تبادلوں کے حوالے سے بھی متعدد شکایات سامنے آ رہی ہیں اور بعض معاملات میں ثبوتوں کے ساتھ اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ان معاملات کی شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو حکومت پر جانبداری اور بدانتظامی کے الزامات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ انتظامی امور میں میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے۔
سابق وزیراعلیٰ نے مالی امور پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض مقامات پر جہاں واجب الادا ادائیگیاں ہونی چاہئیں وہاں ادائیگیاں نہیں کی جا رہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے منصوبوں کے لیے بھی پیشگی رقوم جاری کی جا رہی ہیں جہاں ابھی عملی طور پر کام شروع ہی نہیں ہوا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے فیصلے کون کر رہا ہے اور ان کے پیچھے کون ذمہ دار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مالی نظم و ضبط برقرار نہ رکھا گیا تو حکومتی معاملات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

پشاورمیں ایک ہفتے کے دوران آٹے کا 20 کلو تھیلا300 روپے مہنگا

 


پارلیمانی گروپ اجلاس کے دوران علی امین گنڈاپور نے ارکان اسمبلی اور وزرا کی تنخواہوں میں اضافے کے فیصلے پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ ارکان اسمبلی اور وزرا کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، حالانکہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ موجودہ معاشی حالات میں ایسا فیصلہ مناسب نہیں ہوگا کیونکہ اس پر عوام کی جانب سے شدید تنقید ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ حقیقت یہ ہے کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہیں بہت زیادہ نہیں ہیں، تاہم موجودہ حالات میں عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے نمائندوں کو اپنے مفادات کے بجائے عوامی مشکلات کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے فیصلے عوام میں غلط تاثر پیدا کرتے ہیں اور حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف نے بھی ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے سے منع کیا تھا، اس لیے وہ اس فیصلے کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کی حمایت کرنے والوں اور متعلقہ قانون یا ایکٹ کی تائید کرنے والوں کے نام سامنے لائے جائیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ اس فیصلے کے پیچھے کون لوگ تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے پارٹی لیڈر کے وژن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

خیبرپختونخوا میں 2,004 انٹیلی جنس آپریشنز، 182 دہشت گرد ہلاک

 


انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی شخصیت یا گروہ کی خواہش پر ایسے قوانین منظور کیے جا رہے ہیں تو اس کی بھی وضاحت ہونی چاہیے۔ ان کا سوال تھا کہ آخر حکومت کے اندر ایسے احکامات کون جاری کر رہا ہے اور منظور ہونے والے قوانین کس کی خواہش پر پاس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان معاملات کی وضاحت نہ ہونے سے مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں، جن کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
سابق وزیراعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کی اولین ذمہ داری عوامی مسائل کا حل ہے۔ ان کے مطابق جب عوام مہنگائی، غربت اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہوں تو ایسے وقت میں منتخب نمائندوں کی مراعات میں اضافہ مناسب اقدام نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی تمام تر توجہ عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں کے معیار کو بہتر بنانے، گورننس کو مضبوط بنانے اور امن و امان کی صورتحال پر مرکوز رکھنی چاہیے۔


ادھر علی امین گنڈاپور کے ترجمان فراز مغل نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی آڈیو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وائرل ہونے والی آڈیو علی امین گنڈاپور کی ہی ہے۔ ترجمان کی تصدیق کے بعد آڈیو میں کیے گئے انکشافات اور گنڈاپور کے بیانات سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن گئے ہیں، جبکہ حکومتی فیصلوں، گورننس، ترقیاتی منصوبوں، مالی نظم و ضبط اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر نئی سیاسی بحث بھی شروع ہوگئی ہے۔

 

 

 

بلیو پاسپورٹ، 8 کلاشنکوف لائسنس، وضاحت سامنے آگئی

Next Post
ہاتھی نے ایک ہی خاندان کے چار افراد کوڈھونڈ ڈھونڈ کر مار ڈالا
Previous Post
خیبرپختونخوا میں 2,004 انٹیلی جنس آپریشنز، 182 دہشت گرد ہلاک