خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی اسمبلی کے ارکان کے اختیارات، استحقاق، استثنیٰ اور خصوصی مراعات سے متعلق بل خیبرپختونخوا اسمبلی اختیارات، استثنیٰ اور استحقاق ایکٹ کا گزٹ جاری کردیا ہے۔ جس کے بعد صوبائی اسمبلی کے ارکان کو متعدد نئی قانونی، انتظامی، سفری، پروٹوکول، سیکیورٹی اور خصوصی سہولیات حاصل ہو گئی ہیں۔
نئے قانون کے تحت نہ صرف ارکان اسمبلی بلکہ بعض معاملات میں ان کے شریک حیات کو بھی خصوصی مراعات دی گئی ہیں بلکہ اسمبلی ارکان کے انتظامی اختیارات اور قانونی تحفظ میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی کے ہر رکن اور اس کے شریک حیات کو تاحیات آفیشل (بلیو) پاسپورٹ حاصل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ارکان اسمبلی کے شریک حیات کو خصوصی اسمبلی شناختی کارڈ بھی جاری کیا جائے گا، جس کے ذریعے انہیں متعلقہ سرکاری سہولیات اور پروٹوکول سے استفادہ کرنے کی اجازت ہوگی۔
قانون کے مطابق صوبائی اسمبلی کے ارکان کو پاکستان بھر کے تمام ہوائی اڈوں پر وی آئی پی لانج استعمال کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ارکان اسمبلی اپنی ذاتی گاڑیوں پر خصوصی ایم پی اے نمبر پلیٹ لگانے کے مجاز ہوں گے، جبکہ انہیں قانون کے تحت کالے شیشوں والی ذاتی گاڑی استعمال کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ اس اقدام کو ارکان اسمبلی کے پروٹوکول اور سیکیورٹی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
ارکان اسمبلی کو کون سی نئی مراعات ملیں؟
خیبرپختونخوا اسمبلی مراعات بل میں ارکان اسمبلی کو سفری سہولیات کے حوالے سے بھی خصوصی رعایت دی گئی ہے۔ قانون کے مطابق ارکان اسمبلی کو ملک بھر کے تمام ٹول پلازوں پر ٹول ٹیکس کی ادائیگی سے استثنیٰ حاصل ہوگا، جس کے باعث وہ سرکاری یا نجی سفر کے دوران ٹول ٹیکس ادا کرنے کے پابند نہیں ہوں گے۔
قانون کے تحت ارکان اسمبلی کو سرکاری افسران کے مساوی کلب ممبرشپ کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں جیلوں، سرکاری ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، اصلاحی مراکز، سرکاری دفاتر اور دیگر عوامی اداروں کے دورے کرنے، وہاں کی صورتحال کا جائزہ لینے اور سرکاری ترقیاتی منصوبوں اور سکیموں کا معائنہ کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔ ان اختیارات کا مقصد عوامی نمائندوں کو ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر مؤثر نگرانی کا قانونی اختیار فراہم کرنا قرار دیا گیا ہے۔
گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان کو جسٹس آف دی پیس کے اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔ اس شق کے تحت انہیں قانون میں درج حدود کے اندر بعض انتظامی اور قانونی نوعیت کے اختیارات استعمال کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

عدالتی کارروائی سے متعلق بھی نئے قانون میں خصوصی استثنیٰ شامل کیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق اگر اسمبلی یا کسی قائمہ کمیٹی کا اجلاس جاری ہو تو متعلقہ رکن اسمبلی اس دوران عدالت میں پیش ہونے کا پابند نہیں ہوگا۔ اگر عدالت کو اسمبلی یا کمیٹی کے اجلاس کے شیڈول سے آگاہ کر دیا جائے تو عدالت سماعت کو ملتوی کر سکتی ہے یا نئی تاریخ مقرر کر سکتی ہے۔ تاہم اگر متعلقہ رکن اسمبلی اپنی مرضی سے عدالت میں پیش ہونا چاہے تو اسے اس کی اجازت ہوگی۔
سولر پینل فی پلیٹ 3000 روپے سستی ہوگئی، بیٹریاں اور انورٹر بھی سستے
سیکیورٹی کے حوالے سے بھی نئے قانون میں اہم شقیں شامل کی گئی ہیں۔ قانون کے مطابق ہر رکن اسمبلی اپنی مدتِ رکنیت کے دوران عمومی طور پر بی کیٹیگری سیکیورٹی کا حق دار ہوگا۔ اگر کسی رکن کو غیر معمولی یا سنگین نوعیت کے سیکیورٹی خطرات لاحق ہوں تو متعلقہ اداروں کی سفارش اور خطرے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اے کیٹگری تک بڑھائی جاسکے گی،
مزید یہ کہ ایک مرتبہ سیکورٹی فراہم کئے جانے کے بعد رکن اسمبلی پاکستان بھر بشمول گلگت اور آزاد جموں و کشمیر میں بھی اس سیکورٹی کا مستحق ہوگا۔
قانون میں ارکان اسمبلی کے انتظامی اختیارات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ہر رکن اسمبلی اپنے انتخابی حلقے یا متعلقہ ضلع میں کسی بھی عوامی مقام پر اجلاس طلب کر سکتا ہے۔ ایسے اجلاس کی اطلاع ملنے پر متعلقہ ضلع کے تمام سرکاری افسران اور متعلقہ محکموں کے نمائندے اجلاس میں شرکت کے پابند ہوں گے تاکہ عوامی مسائل، ترقیاتی سکیموں اور انتظامی معاملات پر براہ راست بریفنگ دی جا سکے۔
قانون کے مطابق اگر کوئی متعلقہ سرکاری افسر بلاجواز ایسے اجلاس میں شرکت سے گریز کرے تو اس عمل کو اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس پر قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی بھی کی جا سکے گی۔ مزید یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جس اجلاس میں کسی رکن اسمبلی کی شرکت متوقع ہوگی، وہی اس اجلاس کی صدارت کرے گا۔
ارکان اسمبلی کی گرفتاری یا حراست سے متعلق بھی نئے قانون میں خصوصی قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق کسی بھی رکن اسمبلی کی گرفتاری یا حراست سے قبل اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوگی۔ اسپیکر اگر ضروری سمجھیں تو متعلقہ پولیس رپورٹ، انکوائری ریکارڈ یا چالان طلب کر سکتے ہیں تاکہ معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔ مزید برآں، عدالت میں چالان جمع ہونے سے قبل اسپیکر کو انکوائری کرانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
بی فار یو متاثرین 1 سال بعد بھی نیب سے رقوم کی واپسی کے منتظر
قانون میں اسمبلی کے استحقاق کے تحفظ کے لیے مزید شقیں بھی شامل کی گئی ہیں، جن کا مقصد عوامی نمائندوں کو ان کے آئینی اور قانونی فرائض کی انجام دہی میں غیر ضروری رکاوٹوں سے محفوظ رکھنا بتایا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان مراعات اور اختیارات کا مقصد منتخب نمائندوں کو عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور سرکاری اداروں کے احتساب کے لیے مؤثر قانونی حیثیت فراہم کرنا ہے۔
گزٹ نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان کے استحقاق، استثنیٰ، خصوصی مراعات، سفری سہولیات، وی آئی پی پروٹوکول، سیکیورٹی، انتظامی اختیارات اور دیگر قانونی حقوق کو باضابطہ طور پر قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔ نئے قانون کے نفاذ کے بعد متعلقہ ادارے ان تمام مراعات اور اختیارات پر عمل درآمد کے پابند ہوں گے، جبکہ ارکان اسمبلی قانون میں درج طریقہ کار کے مطابق ان سہولیات سے استفادہ کر سکیں گے۔
افغان مہاجرین کی گرفتاری، ڈیڈلائن میں صرف 4 روز باقی رہ گئے
دوسری جانب پشاور پریس کلب نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اختیارات، استثنیٰ اور استحقاق سے متعلق خیبرپختونخوا اسمبلی مراعات بل میں کی گئی ترامیم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی پر کسی بھی قسم کا قدغن قبول نہیں کیا جائے گا۔
پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، جنرل سیکرٹری عالمگیر خان اور منتخب باڈی کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ پشاور پریس کلب منتخب عوامی نمائندوں، معزز ارکانِ اسمبلی اور تمام آئینی و جمہوری اداروں کا مکمل احترام کرتا ہے اور پارلیمانی بالادستی پر یقین رکھتا ہے، تاہم کسی بھی قانون یا قانونی ترمیم کی آڑ میں صحافت، آزادیٔ اظہار اور شہریوں کے آئینی حقوق پر قدغن لگانے کی ہر کوشش کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں صحافت کی تاریخ آزادیٔ اظہار کے تحفظ کے لیے دی گئی بے مثال قربانیوں سے عبارت ہے، اس لیے ایسے کسی بھی قانون یا ترمیم کو قبول نہیں کیا جا سکتا جو آزاد صحافت، عوام کے حقِ معلومات یا آئینی آزادیوں کو متاثر کرے۔
پشاورمیں ایک ہفتے کے دوران آٹے کا 20 کلو تھیلا300 روپے مہنگا
پریس کلب کی قیادت نے واضح کیا کہ ادارہ ہمیشہ ذمہ دار، متوازن اور پیشہ ورانہ صحافت کے فروغ کے لیے کوشاں رہا ہے۔ بیان کے مطابق صحافی برادری نے نہ صرف عوامی مسائل کو اجاگر کیا بلکہ خیبرپختونخوا کے حقوق، مفادات اور جمہوری اقدار کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
پشاور پریس کلب نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی صحافی برادری کے خدشات اور تحفظات کا فوری نوٹس لیں گے، جبکہ اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی مشاورت سے قانون میں شامل ان شقوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا جن پر میڈیا تنظیموں کو تحفظات ہیں، تاکہ آئین، جمہوری روایات، آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہار اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
پریس کلب کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحافی برادری اظہارِ رائے کی آزادی، آئینی حقوق اور آزاد صحافت کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد آئینی اور جمہوری طریقے سے جاری رکھے گی اور اس حوالے سے تمام متعلقہ فورمز پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرے گی۔
افغانستان کے سابق فاسٹ باؤلر شاہ پور زدران کینسر سے انتقال کر گئے

