Skip to main contentSkip to footer

افغانستان کے سابق فاسٹ باؤلر شاہ پور زدران کینسر سے انتقال کر گئے

افغانستان کے سابق فاسٹ باؤلر شاہ پور زدران کینسر سے انتقال کر گئے

افغانستان کرکٹ کے سابق مایہ ناز فاسٹ باؤلر شاہ پور زدران طویل علالت کے بعد 38 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، افغانستان کرکٹ بورڈ نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ،شاہ پور زدران گزشتہ کئی ماہ سے جان لیوا مدافعتی بیماری ہیموفیگوسائٹک لیمفو ہسٹیوسائٹوسس کا علاج کروا رہے تھے۔


ان کا علاج بھارت کے شہر نئی دہلی کے ایک اسپتال میں جاری تھا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
شاہ پور زدران کا انتقال نہ صرف افغانستان بلکہ عالمی کرکٹ کے لیے بھی ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ ان کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں افغان کرکٹ کی بنیاد رکھنے اور اسے عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی جارحانہ فاسٹ باؤلنگ، بلند قامت شخصیت اور میدان میں پُرجوش انداز نے انہیں مداحوں کے دلوں میں منفرد مقام دلایا۔

جان سینا کا پاکستانی فین سے محبت کا اظہار’ سوال کا دلچسپ جواب دیا

 


افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ شہپور زدران ان عظیم کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہوں نے افغانستان کرکٹ کو بین الاقوامی سطح تک پہنچانے کے سفر میں بنیادی کردار ادا کیا۔ بورڈ کے مطابق ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آنے والی نسلیں ان کی جدوجہد سے رہنمائی حاصل کرتی رہیں گی۔

شاہ پور زدران کی ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا سفر


شاہ پور زدران 8 جولائی 1987 کو افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے۔ افغانستان میں حالات خراب ہونے کے باعث ان کا خاندان پاکستان منتقل ہوا، جہاں انہوں نے پشاور میں رہتے ہوئے کرکٹ کھیلنا شروع کی۔

اسی دور میں انہوں نے دیگر افغان نوجوان کرکٹرز کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو نکھارا اور بعد ازاں افغانستان کی قومی ٹیم تک رسائی حاصل کی۔
افغانستان میں امن کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد وہ وطن واپس لوٹے اور قومی ٹیم کا حصہ بنے۔ اس وقت افغانستان عالمی کرکٹ میں اپنی شناخت بنانے کی کوشش کر رہا تھا، اور شہپور زدران ان کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنی محنت اور کارکردگی سے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں مدد دی۔


شاہ پور زدران نے 2009 میں ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں ڈیبیو کیا جبکہ 2010 میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں افغانستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں 40 سے زائد ون ڈے اور 30 سے زائد ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے اور متعدد اہم وکٹیں حاصل کیں۔ وہ اپنی رفتار، سوئنگ اور نئی گیند سے خطرناک باؤلنگ کے لیے مشہور تھے۔

افغانستان کے سابق فاسٹ باؤلر شاہ پور زدران کینسر سے انتقال کر گئے
شاہ پور زدران نے افغانستان کی اس ٹیم کا حصہ بن کر تاریخ رقم کی جس نے عالمی کرکٹ میں اپنی جگہ بنائی۔ وہ متعدد عالمی ایونٹس میں افغانستان کی نمائندگی کرتے رہے اور ٹیم کی کئی یادگار کامیابیوں میں ان کا اہم کردار رہا۔
شاہ پور زدران کے کیریئر کا سب سے یادگار لمحہ 2015 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں آیا، جب افغانستان نے اسکاٹ لینڈ کو شکست دے کر ورلڈ کپ کی تاریخ میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کی۔ اس میچ میں شہپور زدران نے نہ صرف باؤلنگ میں اہم کردار ادا کیا بلکہ آخری لمحات میں فاتحانہ رنز بھی اسکور کیے، جسے افغان کرکٹ کی تاریخ کے سنہری لمحات میں شمار کیا جاتا ہے۔

فاطمہ ثنا نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں کئی ریکارڈز اپنے نام کرلیے

 


رپورٹس کے مطابق شہپور زدران گزشتہ کئی ماہ سے شدید بیماری میں مبتلا تھے۔ انہیں ایک نایاب مدافعتی نظام کی بیماری ایچ ایل ایچ لاحق تھی، جس کے باعث ان کی صحت مسلسل خراب ہوتی گئی۔ علاج کے لیے انہیں بھارت منتقل کیا گیا جہاں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ان کا علاج جاری رہا، مگر تمام کوششوں کے باوجود وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔


ان کی بیماری کے دوران افغانستان کے موجودہ اور سابق کرکٹرز، شائقین اور کھیلوں کی شخصیات مسلسل ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں کرتی رہیں۔
شاہ پور زدران کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی کرکٹ حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ افغانستان کے موجودہ اور سابق کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات جاری کیے اور ان کی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔


افغانستان کرکٹ بورڈ نے کہا کہ شہپور زدران صرف ایک بہترین فاسٹ باؤلر ہی نہیں بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک متاثر کن شخصیت بھی تھے۔ ان کی محنت، جذبہ اور ملک سے محبت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
شاہ پور زدران کا شمار ان کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے افغانستان کرکٹ کے ابتدائی دور میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ایسے وقت میں قومی ٹیم کا بوجھ اٹھایا جب افغانستان کو عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے کے لیے سخت جدوجہد کرنا پڑ رہی تھی۔

فیفا ورلڈکپ، ٹرمپ کی فائنل میں شرکت کی تصدیق، فاتح ٹیم کو ٹرافی دیں گے

 


ان کی فاسٹ باؤلنگ، ٹیم اسپرٹ اور جذبہ آج بھی افغان نوجوان کرکٹرز کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اگرچہ وہ آج اس دنیا میں موجود نہیں، لیکن ان کی کرکٹ، ان کی کامیابیاں اور افغانستان کرکٹ کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہیں گی۔


شاہ پور زدران کے انتقال پر دنیا بھر کے کرکٹ شائقین، سابق کھلاڑیوں اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات نے ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔

 

 

آسٹریلیا میں اونٹوں کی ریس، ینگ گن نے ٹائٹل جیت لیا

Previous Post
مردان میں کم از کم پرانی ایم آر آئی مشین ہی ٹھیک کروادیں ، حیدر ہوتی