چین کی کمپنی ڈونگ جن گروپ کے تعاون سے فیصل آباد میں خشک بیٹریوں کی تیاری کے مجوزہ منصوبے کو ماہرین پاکستان میں بیٹری سازی کی ایک وسیع اور مربوط مقامی صنعت کے قیام کی جانب اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ یہ رائے پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری و تجارت اور چینی کمپنی کے درمیان 15 ملین ڈالر کے حالیہ معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے۔فیصل آباد کے قریب علامہ اقبال صنعتی شہر میں قائم ہونے والا یہ منصوبہ توانائی ذخیرہ کرنے والی مصنوعات کی مقامی تیاری کو فروغ دینے اور درآمدی بیٹریوں پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے انحصار کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین بیٹری سازی کے عالمی شعبے میں اپنی برتری مزید مضبوط کر چکا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2024 کے دوران دنیا بھر میں تیار ہونے والے تقریبا 80 فیصد بیٹری سیل چین میں بنائے گئے
جبکہ بیٹریوں کے اہم خام مواد کی عالمی پیداوار میں بھی چین کا حصہ 85 سے 90 فیصد سے زائد رہا۔چینی موٹر گاڑی بیٹری اتحاد کے مطابق 2026 کے پہلے چار ماہ میں چین نے 671.3 گیگاواٹ گھنٹے صلاحیت کی توانائی اور ذخیرہ کاری بیٹریاں تیار کیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 51 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ بیٹریوں کی برآمدات میں 38.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔شین ژین میں قائم ڈونگ جن پاور کے گوانگ ڈونگ اور جیانگ شی صوبوں میں پیداواری مراکز موجود ہیں اور کمپنی چار ہزار سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ یہ ادارہ برقی گاڑیوں، گھریلو توانائی ذخیرہ نظام اور مواصلاتی مراکز کے لیے مختلف اقسام کی بیٹریاں تیار کرتا ہے۔ کمپنی 2019 سے پاکستان میں موجود ہے اور 2021 میں اس نے مقامی سطح پر پیداوار بھی شروع کر دی تھی۔دوسری جانب پاکستان میں درآمدی بیٹریوں کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ادار شماریات پاکستان اور مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے پہلے پانچ ماہ میں بیٹریوں کی درآمدات 101.8 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں تقریبا 80 فیصد زیادہ ہیں۔
جرمنی نے روزگار کے نئے مواقع کا اعلان کردیا، آج ہی اپلائی کریں
ادھر پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں مقامی ذخیرہ کاری بیٹریوں کی پیداوار 26.1 فیصد کم ہو کر 112,897 یونٹس رہ گئی۔ اس کمی کی ایک بڑی وجہ صارفین کا مقامی روایتی بیٹریوں کے بجائے درآمدی جدید بیٹریوں کی جانب بڑھتا ہوا رجحان بتایا گیا ہے۔توانائی اور مالیاتی تجزیے کے ادارے کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان نے تقریبا 1.25 گیگاواٹ گھنٹے صلاحیت کی جدید بیٹریاں درآمد کیں، جبکہ 2030 تک یہ حجم بڑھ کر 8.75 گیگاواٹ گھنٹے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے نزدیک یہ صورتحال مقامی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈونگ جن کی سرمایہ کاری پاکستان کو محض بیٹریوں کی جوڑائی تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مکمل اور مربوط صنعتی ڈھانچہ قائم کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔قومی جامعہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے توانائی تحقیقاتی مرکز کے سربراہ ڈاکٹر غلام علی کے مطابق اگلا اہم مرحلہ بیٹریوں میں استعمال ہونے والے بنیادی خام مال کی مقامی تیاری ہے۔ انہوں نے بیٹری معیار کے گریفائٹ، مثبت برقی مواد، ایلومینیم اور تانبے کی پرتوں، جداکار مواد اور برقی محلول کو ایسے اہم اجزا قرار دیا جن کی مقامی پیداوار ناگزیر ہوگی۔
پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدات میں 10 گنا اضافہ
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان میں سے کسی ایک جزو کی فراہمی بھی متاثر ہو جائے تو بیٹریوں کی پوری پیداواری سرگرمی رک سکتی ہے، اس لیے مقامی رسدی نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ڈاکٹر غلام علی کے مطابق بیٹریوں کے خام مال کی مقامی پیداوار اور سرمایہ کاری کے فروغ سے درآمدی انحصار کم ہوگا اور صنعتی شعبے کی طویل مدتی پائیداری میں اضافہ ہوگا۔سی ای سی او ایس یونیورسٹی کے شعب برقی انجینئرنگ کے معاون پروفیسر ڈاکٹر ولید جان نے معاہدے کو صنعتی اور توانائی شعبوں کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی اصل کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا پاکستان اس کے ذریعے فنی مہارت، مقامی رسدی نظام اور شمسی توانائی و برقی گاڑیوں سے وابستہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا کر پاتا ہے یا نہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر منصوبہ صرف درآمدی خام مال کی بنیاد پر جوڑائی تک محدود رہا تو اس کے صنعتی فوائد محدود رہ جائیں گے۔
ان کے مطابق طویل المدتی صنعتی حکمت عملی کے بغیر یہ منصوبہ حقیقی صنعتی انقلاب کے بجائے کم قدر کی پیداواری سرگرمی بن سکتا ہے۔ڈاکٹر ولید جان نے زور دیا کہ پاکستان کو اس سرمایہ کاری سے انجینئرنگ کی مقامی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعمال شدہ بیٹریوں کی دوبارہ کارآمد بنانے کے نظام کو بھی فروغ دینا چاہیے۔زائیپ ٹیکنالوجیز کے شعب بیٹری کے سربراہ حسن شہباز نے بھی اس معاہدے کو پاکستان کے ابھرتے ہوئے بیٹری شعبے کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق ڈونگ جن کا مختلف بیٹری ٹیکنالوجیز میں تجربہ پاکستان کو جدید بیٹری سازی کی صلاحیت فراہم کر سکتا ہے، جس سے شمسی توانائی، بلا تعطل بجلی کے نظام، برقی موٹر سائیکلوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
پاکستان کی سولر توانائی کی صلاحیت 38000 میگاواٹ تک پہنچ گئی
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بیٹری منڈی پر اب بھی چند محدود صنعت کاروں کا غلبہ ہے جبکہ بیٹریوں اور خام مال کا بڑا حصہ بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ مقامی پیداوار کے فروغ سے درآمدی دبا کم ہوگا، قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور فنی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔حسن شہباز کے مطابق طویل مدت میں اصل فائدہ صرف بیٹریوں کی تیاری نہیں بلکہ اس کے گرد تشکیل پانے والا مقامی رسدی نظام اور فنی مہارت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سستی بیٹریوں سے زیادہ اہم ایک مضبوط مقامی بیٹری صنعت کا قیام ہے۔صنعتی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس منصوبے کو مستقل صنعتی پالیسی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی رسدی نظام کی ترقی کی بھرپور حمایت حاصل رہی تو پنجاب اور ڈونگ جن کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ پاکستان کے اہم ترین صنعتی شعبوں میں سے ایک کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکہ میں ملازمت مزید سخت، غیر ملکی طلبہ سے 1 لاکھ ڈالر لینے کی تجویز

