Site icon bnnwatch.com

پاکستان نے ناممکن کو ممکن کردیا، ایٹمی جنگ روکنے میں کامیاب

US Iran Ceasefire 2026 Pakistan Mediation

Table of Contents

Toggle

پاکستان نے ناممکن کو ممکن کردیا، ایٹمی جنگ روکنے میں کامیاب

پاکستان نے عالمی سطح پر کامیاب سفارتکاری کا لوہا منواتے ہوئے ناممکن کو ممکن کردکھایا ہے ، پاکستا ن نے ایٹمی جنگ روک کر دنیا کو بڑی تباہی سے بچالیاہے، پاکستان کی سفارتی کوششوں سے امریکہ ایران کے درمیان دو ہفتوں کیلئے جنگ بندی ہوگئی ہے

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی اپیل پر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو عارضی طور پر مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے کو عالمی امن کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے ایک ممکنہ تباہ کن جنگ کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ذرائع کے مطابق، امریکی صدر نے یہ فیصلہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کی براہ راست سفارتی کوششوں کے نتیجے میں کیا۔ دونوں رہنماؤں نے نہ صرف امریکی قیادت سے رابطہ کیا بلکہ ایران کو بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے آمادہ کیا، جس کے نتیجے میں خطے میں فوری جنگ کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا۔

اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے نہایت حساس وقت میں ایک متوازن سفارتی حکمت عملی اپنائی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کو موقع دیں۔ انہوں نے ایران سے بھی درخواست کی کہ وہ آبنائے ہرمز کو محدود مدت کے لیے کھول دے تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

اسی دوران، امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک اہم بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کی پاکستانی قیادت سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کی درخواست پر انہوں نے ایران پر ممکنہ حملے کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع پر آمادگی ظاہر کی۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ مشروط ہے، اور ایران کو آبنائے ہرمز کی مکمل حفاظت اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اپنے فوجی اہداف پہلے ہی حاصل کر چکا ہے، اس لیے اب سفارتی حل کو موقع دینا ضروری ہے۔

پاکستان کی کوششوں کا فوری اثر ایران کی جانب سے بھی دیکھنے میں آیا۔ ایرانی حکومت نے نہ صرف جنگ بندی کی حمایت کی بلکہ پاکستان کی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان نے امن کے قیام کے لیے غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اپنی جارحانہ پالیسی روک دیتا ہے تو ایران بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کرنے کے لیے تیار ہے۔ مزید برآں، ایران نے اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھولنے پر آمادہ ہے، تاکہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو۔

ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل نے بھی اس پیش رفت کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکا کو ایک جامع 10 نکاتی تجویز بھیجی ہے، جس میں اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور بیرون ملک منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔

دوسری جانب، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی سرگرمیاں عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ان کے مطابق، ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔

تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امریکا ایک قابل عمل حل کی تلاش میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ثالثی ایک مثبت پیش رفت ہے جس سے مذاکرات کا راستہ ہموار ہوا ہے۔

اہم پیش رفت کے طور پر، امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی تیاری بھی شروع ہو چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، 10 اپریل کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات متوقع ہیں۔

امریکی میڈیا، خصوصاً CNN نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر عہدیدار ان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ ممکنہ طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف اس عمل کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، پاکستانی حکام بھی ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کریں گے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتکاری میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطہ شدید کشیدگی کا شکار تھا اور امریکا کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ حتیٰ کہ بعض رپورٹس کے مطابق، امریکی حملہ آخری لمحات میں روک دیا گیا، جو کہ ایک ممکنہ بڑے سانحے کو ٹالنے کے مترادف ہے۔

ماہرین کے مطابق، اگر یہ جنگ شروع ہو جاتی تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا اس کے اثرات سے متاثر ہوتی۔ تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ، عالمی معیشت کا عدم استحکام، اور بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان اس کے ممکنہ نتائج میں شامل تھے۔

اس تمام صورتحال پر بھارت میں بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بھارتی تجزیہ کاروں نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی حکومت پر تنقید کی۔ بعض تجزیہ کاروں نے کہا کہ جہاں ایک وقت میں نریندر مودی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بات کرتے تھے، آج وہی پاکستان عالمی سفارتکاری کا مرکز بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نہایت مہارت کے ساتھ ایک عالمی بحران کو کم کرنے میں کردار ادا کیا، جبکہ بھارت اس عمل میں کہیں نظر نہیں آیا۔

موجودہ صورتحال کو ایک عارضی جنگ بندی قرار دیا جا رہا ہے، جو آئندہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والے مذاکرات پر منحصر ہے۔ اگر فریقین کسی مستقل معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس حوالے سے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ ایک طویل المدتی امن معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایک ممکنہ عالمی بحران کو ٹالنے میں جو کردار ادا کیا، اسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ مؤثر سفارتکاری اور بروقت فیصلے کس طرح دنیا کو بڑے بحرانوں سے بچا سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ عارضی جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو سکتی ہے یا نہیں۔

آؓبنائے ہرمز سے پاکستان کے جہاز بھی گزرگئے، 28 دن کا سٹاک بھی موجود، پھر قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں؟

Exit mobile version