امریکی پائلٹ ایران سے زندہ بچ نکلنے میں کیسے کامیاب ہوا؟
ایران کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پیش آنے والا یہ واقعہ جدید عسکری تاریخ کے ان چند واقعات میں شامل ہو چکا ہے جنہوں نے نہ صرف عالمی توجہ حاصل کی بلکہ جدید جنگی حکمت عملی، ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے استعمال کو بھی ایک نئی جہت دی۔
ایران کے اندر کارروائی کے دوران امریکہ کے دو سٹرائیک ایگل ایف پندرہ جدید طیارے ایرانی فورسز کی جانب سے نشانہ بنے اور پہاڑوں میں گر کر تباہ ہوگئے، مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ طیارے ایرانی فضائی دفاعی نظام کی زد میں آگئے تھے ۔
جس کے بعد اس میں سوار دو اہلکاروں نے ایجیکٹ کر کے اپنی جان بچائی، تاہم وہ ایران کے اندر ایک انتہائی خطرناک اور دشوار گزار پہاڑی علاقے میں جا گرے جہاں سے ان کی بازیابی ایک بڑا چیلنج بن گئی۔
حادثے کے فوراً بعد ایران کی سیکیورٹی فورسز اور مقامی رضاکاروں نے اس علاقے کا محاصرہ کر لیا اور وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ امریکی فوج کے لیے یہ صورتحال نہایت حساس تھی کیونکہ دشمن ملک کے اندر کسی فوجی اہلکار کا زندہ پکڑا جانا نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی سطح پر بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔
اسی لیے امریکہ نے فوری طور پر “کمبیٹ سرچ اینڈ ریسکیو” آپریشن کا آغاز کیا، جس کا مقصد دونوں اہلکاروں کو ہر قیمت پر بحفاظت نکالنا تھا۔
ابتدائی مرحلے میں امریکی فورسز نے انتہائی تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے ایک پائلٹ کو چند گھنٹوں کے اندر ریسکیو کر لیا۔ اس آپریشن کے دوران امریکی ہیلی کاپٹرز اور سپیشل فورسز کو ایرانی فائرنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم وہ کامیابی کے ساتھ پہلے اہلکار کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے میں کامیاب رہے۔ اس کے برعکس دوسرے اہلکار، جو ویپن سسٹمز آفیسر تھا، زیادہ دشوار حالات میں پھنس گیا۔ وہ ایک ایسے پہاڑی علاقے میں جا گرا جہاں نہ صرف راستے پیچیدہ تھے بلکہ ایرانی فورسز بھی تیزی سے اس کی تلاش میں سرگرم تھیں۔
یہ افسر تقریباً 48 گھنٹے تک پہاڑوں میں تنہا رہا۔ اس دوران وہ زخمی بھی تھا اور اسے شدید سردی، بھوک اور پیاس کا سامنا تھا۔ اس نے اپنی ابتدائی طبی امداد خود کی اور مسلسل اپنی پوزیشن تبدیل کرتا رہا تاکہ ایرانی فورسز کی نظروں سے بچ سکے۔ رپورٹس کے مطابق وہ ایک وقت میں تقریباً 7000 فٹ کی بلندی تک چڑھ گیا تاکہ بہتر چھپنے کی جگہ حاصل کر سکے اور اپنی لوکیشن تبدیل کرتا رہے۔ اس دوران ہزاروں ایرانی اہلکار اور مقامی افراد اس کی تلاش میں مصروف تھے، جس سے اس کی گرفتاری کا خطرہ ہر لمحہ موجود تھا۔
اس کی بقا میں ایک جدید امریکی ڈیوائس نے کلیدی کردار ادا کیا جسے کمبیٹ سروائیور ایویڈر لوکیٹر کہا جاتا ہے
یہ ایک چھوٹا مگر نہایت جدید آلہ ہوتا ہے جو سیٹلائٹ کے ذریعے خفیہ سگنلز بھیجتا ہے اور ریسکیو ٹیموں کو درست مقام کی معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس ڈیوائس کی مدد سے امریکی فورسز کو مسلسل اس افسر کی پوزیشن کا اندازہ ہوتا رہا، اگرچہ وہ خود دشمن کے علاقے میں چھپا ہوا تھا۔
امریکہ نے اس اہلکار کو بچانے کے لیے ایک غیر معمولی پیمانے پر آپریشن کی منصوبہ بندی کی۔ رپورٹس کے مطابق اس ریسکیو مشن میں 150 سے زائد طیارے شامل کیے گئے جن میں جنگی جہاز، بمبار طیارے، ڈرونز، ایندھن فراہم کرنے والے طیارے اور خصوصی ہیلی کاپٹرز شامل تھے۔
اس کے علاوہ سینکڑوں کمانڈوز اور سپیشل فورسز کے اہلکار بھی اس آپریشن کا حصہ تھے۔ بعض دفاعی تجزیہ کاروں نے اسے جدید دور کے سب سے بڑے ریسکیو آپریشنز میں سے ایک قرار دیا ہے۔
اس آپریشن کی خاص بات صرف اس کا حجم نہیں بلکہ اس میں استعمال ہونے والی حکمت عملی بھی تھی۔ امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے ایران کو گمراہ کرنے کیلئے ایک پیچیدہ حکمت عملی اپنائی جس کے تحت ایرانی ریڈارز پر جعلی نقل و حرکت دکھائی گئی
کئی مقامات پر طیاروں کی پروازیں کی گئیں اور سات سے زائد ایسے مقامات بنائے گئے جہاں ایرانی فورسز کو یہ تاثر دیا گیا کہ ممکنہ طور پر وہاں ریسکیو آپریشن ہو سکتا ہے۔ اس دوران اصل ہدف کو خفیہ رکھا گیا اور ایرانی فورسز کو مسلسل الجھن میں رکھا گیا۔
جب امریکی کمانڈرز کو یقین ہو گیا کہ وہ افسر کی درست لوکیشن تک پہنچ سکتے ہیں تو ایک حتمی ریسکیو مشن شروع کیا گیا۔ اس مرحلے میں خصوصی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کمانڈوز کو پہاڑی علاقے میں اتارا گیا جبکہ فضاء میں جنگی طیارے اور ڈرونز مسلسل نگرانی اور حفاظتی کور فراہم کرتے رہے۔
اس دوران ایرانی فورسز کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی، جس کے باعث صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی۔ تاہم امریکی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس افسر تک رسائی حاصل کر لی اور اسے بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔
ریسکیو کے فوراً بعد اس افسر کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا جہاں اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، اس کے بعد اسے فوری طور پر ایران سے باہر نکال کر ایک امریکی فوجی اڈے پر منتقل کر دیا گیا۔ امریکی حکام نے اس آپریشن کو مکمل کامیاب قرار دیا اور اسے اپنی فوجی تاریخ کی ایک بڑی کامیابی بتایا۔
تاہم یہ کامیابی بغیر نقصان کے حاصل نہیں ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق اس آپریشن کے دوران امریکہ کو کچھ عسکری نقصان بھی اٹھانا پڑا اور انتہائی مہنگا اے ٹین طیارہ بھی اس آپریشن میں تباہ ہوا جبکہ کچھ طیاروں کو جان بوجھ کر تباہ کردیا گیا تاکہ ایران کے ہاتھ ٹیکنالوجی نہ لگ سکے
اس کے علاوہ بعض ہیلی کاپٹرز کو بھی نقصان پہنچا اور کچھ اہلکار معمولی زخمی ہوئے، تاہم کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اس واقعے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان بیانات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ امریکہ نے اسے ایک خالص انسانی اور عسکری ریسکیو آپریشن قرار دیا، جس کا مقصد صرف اپنے اہلکاروں کو بچانا تھا۔ دوسری جانب ایران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اس آپریشن کو کسی اور خفیہ مقصد کے لیے استعمال کیا اور اس دوران کئی امریکی طیارے تباہ کیے گئے۔ بعض ایرانی ذرائع نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ یہ آپریشن کسی حساس مواد یا معلومات کے حصول کے لیے بھی کیا گیا ہو سکتا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
اس واقعے کے عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا اور خلیج فارس میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، اس کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہوئے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بھی وقتی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ آپریشن اس بات کی واضح مثال ہے کہ جدید جنگ میں صرف طاقت ہی کافی نہیں بلکہ معلومات، ٹیکنالوجی، رفتار اور حکمت عملی بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ اس واقعے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ امریکہ اپنے فوجی اہلکاروں کو بچانے کے لیے کس حد تک جا سکتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ کس قدر بڑے پیمانے پر وسائل استعمال کرنے کو تیار ہے۔
ایران کے پہاڑوں میں پھنسے اس امریکی افسر کی کہانی کسی فلمی منظر سے کم نہیں، جہاں ایک زخمی شخص دشمن کے علاقے میں چھپا رہتا ہے، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی پوزیشن خفیہ رکھتا ہے اور بالآخر ایک انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ریسکیو آپریشن کے ذریعے بحفاظت نکال لیا جاتا ہے۔