پشاور: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس ختم ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس تقریباً تین گھنٹے جاری رہا، جس میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں اور سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ یہ اجلاس خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعظم کے پہلے دورۂ پشاور کے موقع پر منعقد ہوا۔ اس سے قبل 22 اکتوبر کو وزیراعظم کی پشاور آمد اور اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی اور صوبائی قیادت نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک، بالخصوص خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں گے۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کو وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جوانوں اور افسران کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانے اور صوبے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے وفاقی حکومت اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبر پختونخوا پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ضروریات پر بھی غور کیا گیا۔ آئی جی خیبر پختونخوا پولیس اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی انتظامات، اداروں کی استعداد کار اور دستیاب سہولیات سے متعلق بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے صوبائی انتظامیہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ان کے مطابق پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر متعلقہ اداروں کو درکار سہولیات اور وسائل فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی صوبے کی معدنیات پر کنٹرول کیلئے ہے، فضل الرحمان
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنائی جائے اور سکیورٹی اہلکاروں کو درپیش ضروریات پوری کی جائیں۔ اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر امیر مقام، رانا ثناء اللہ اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، انسپکٹر جنرل پولیس، کور کمانڈر پشاور اور صوبائی مشاورتی کونسل کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں سکیورٹی صورتحال، انتظامی معاملات اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ اجلاس میں وزیراعظم کو خیبر پختونخوا کے بارہ اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ، امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
سول سیکرٹریٹ میں ڈے کیئر سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ، داخلہ فیس اور قواعد مقرر
شرکاء نے صوبے میں سکیورٹی کے مسائل سے نمٹنے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کی 12 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق صوبائی ایپکس کمیٹی نے بھی دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھنے، پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید وسائل اور افرادی قوت فراہم کرنے اور متاثرہ علاقوں میں سماجی و اقتصادی ترقی پر توجہ دینے کی ہدایات دی تھیں۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اجلاس میں سابق صوبائی حکومت کے بعض اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس معاملے پر گفتگو خیبر پختونخوا کی سیاسی اور انتظامی صورتحال کے تناظر میں ہوئی۔ تاہم سابق حکومت کے اقدامات سے متعلق اعتراضات کو اجلاس کے شرکاء سے منسوب مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔ ان اعتراضات کی مکمل تفصیلات اور متعلقہ فریق کا مؤقف الگ سے سامنے آنا ضروری ہے۔ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے خصوصی مالی پیکج کے اعلان کا امکان بھی زیر بحث تھا، تاہم اس پیکج کی منظوری، رقم یا دیگر تفصیلات کی باضابطہ تصدیق سامنے آنے تک اسے حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں کی پشاور ہائیکورٹ میں سماعت
انتظامی اختیارات تبدیل، سابق فاٹا کے 25 اداروں کا کنٹرول ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ کو منتقل

