قطر کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کو زیادہ سے زیادہ 30 روز کے لیے یہ سہولت دی جاتی ہے، تاہم اس کے حصول کے لئے بعض شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔قطر کی وزارتِ داخلہ کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری معلومات کے مطابق پاکستانی شہریوں کی آمد پر مفت سیاحتی ویزا جاری کیا جاتا ہے، جس کی مدت زیادہ سے زیادہ 30 دن ہوتی ہے۔ تاہم ویزے کی مدت ہوٹل کی بکنگ کے مطابق بھی مقرر کی جا سکتی ہے۔
پاکستان دنیا کے منفرد سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل
اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کیلئے پاکستانی شہریوں کے پاسپورٹ کی میعاد کم از کم تین ماہ باقی ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مسافروں کے پاس واپسی کا کنفرم ٹکٹ بھی ہونا چاہیے۔قطر کی جانب سے ہوٹل کی بکنگ کے حوالے سے بھی ایک مخصوص شرط عائد کی گئی ہے اور وہ یہ کہ مسافروں کو اپنی ہوٹل ریزرویشن صرف سرکاری سیاحتی ویب سائٹ ڈسکور قطر کے ذریعے کرانا ہوگی۔ دیگر ویب سائٹس یا آن لائن بکنگ پلیٹ فارمز سے حاصل کی گئی ہوٹل ریزرویشن اس سہولت کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ قطر آنے والے پاکستانی شہریوں کے لئے کسی منظور شدہ انشورنس کمپنی سے ہیلتھ انشورنس حاصل کرنا بھی لازمی ہے۔
آزاد کشمیر کے 20 بہترین سیاحتی مقامات جہاں قدرت اور سکون ایک ساتھ ملتے ہیں
یہ انشورنس قطر کی وزارتِ صحت کی جانب سے تسلیم شدہ کمپنیوں میں سے کسی ایک سے ہونی چاہیے۔وزارتِ داخلہ کے مطابق مفت آن ارائیول ویزا حاصل کرنے کے لیے مذکورہ چاروں شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی مسافر مطلوبہ شرائط اور دستاویزات فراہم نہ کر سکے تو اسے اس سہولت کے تحت ویزا ملنے کی ضمانت نہیں ہوگی۔یہ سہولت قطر کے دیگر ویزا فری داخلے اور سیاحتی ویزا پروگراموں سے الگ ہے۔ اس لئے مسافروں کو سفر سے پہلے متعلقہ شرائط اور ضروری دستاویزات کی تکمیل یقینی بنانا ہوگی۔ہوٹل بکنگ اور مزید معلومات کے لیے قطر کی سرکاری ویب سائٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
کمزور پاسپورٹ کے باوجود بھی پاکستانی 30ممالک میں با آسانی جاسکتے ہیں

