Skip to main contentSkip to footer

پیٹرول 8، ڈیزل 40 روپے مہنگا ہونے کا امکان

پٹرول کی قیمت میں اضافہ

پشاور: ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی اطلاعات کے بعد پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں پیٹرول پمپس پر گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد ممکنہ اضافے سے قبل اپنی ٹینکیاں فل کروانے کے لیے پمپس کا رخ کر رہی ہے، جس کے باعث کئی مقامات پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ نجی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی اطلاعات کے مطابق آئندہ قیمتوں کے تعین میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 40 روپے فی لیٹر جبکہ پٹرول کی قیمت میں تقریباً 10 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز زیر غور ہے

قیمتوں میں اضافہ کیوں متوقع ہے؟

خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک ہی رات میں 5 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی قیمتوں میں اضافے کی توقع کی جارہی ہے جس کے باعث پشاور کے مختلف علاقوں، جن میں یونیورسٹی روڈ، رنگ روڈ، حیات آباد، جی ٹی روڈ، دلہ زاک روڈ اور کوہاٹ روڈ شامل ہیں، پیٹرول پمپس پر صبح سے ہی گاڑیوں کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ موٹر سائیکل سوار، رکشہ ڈرائیور، ٹیکسی مالکان، نجی گاڑیوں کے مالکان اور ٹرانسپورٹرز بڑی تعداد میں ایندھن خریدتے رہے تاکہ ممکنہ اضافے سے قبل موجودہ نرخوں پر ٹینکیاں بھروا سکیں۔ پیٹرول پمپ مالکان کے مطابق معمول کے مقابلے میں فروخت میں کئی گنا اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ بعض پمپوں پر قطاریں اتنی طویل ہو گئیں کہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی، جس کے باعث متعلقہ اداروں کو ٹریفک کی صورتحال معمول پر رکھنے کے لیے اقدامات کرنا پڑے۔

موبائل بینکنگ ایپس استعمال کرنیوالے صارفین کی تعداد 13.7کروڑ ہوگئی

 

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ڈیزل کی قیمت میں واقعی 40 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اشیائے خورونوش، زرعی پیداوار، تعمیراتی سامان اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا بھی مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، ایسے میں مزید اضافہ برداشت کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔ ٹرانسپورٹرز اور مال بردار گاڑیوں کے مالکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے سے مال برداری کے کرایوں میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا، جس کا براہ راست بوجھ صارفین پر منتقل ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر تجارتی سامان کی ترسیل ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے ڈیزل مہنگا ہونے سے مہنگائی کی نئی لہر آ سکتی ہے۔

کویت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے 15سال کا پرمٹ متعارف کرادیا

 

ماہرین اقتصادیات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، درآمدی لاگت میں اضافے اور روپے کی قدر پر دباؤ جیسے عوامل مقامی پٹرولیم قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور خطے میں جاری جغرافیائی کشیدگی نے بھی کئی ممالک کو اپنی توانائی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کیا ہے۔
دوسری جانب کاروباری حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر مجوزہ اضافہ نافذ ہوا تو پیداواری لاگت مزید بڑھ جائے گی، جس سے صنعتی سرگرمیوں پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہ بالآخر ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔ زرعی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹیوب ویل، ٹریکٹر، ہارویسٹر اور دیگر زرعی مشینری چلانے کی لاگت بڑھ جائے گی، جس کے نتیجے میں زرعی اجناس کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

ایف بی آر کی ہٹ دھرمی، ملک بھر میں ٹیکسٹائل ملز بند ہونے کا خدشہ

 

واضح رہے کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان عموماً وفاقی حکومت اوگرا کی سفارشات اور متعلقہ معاشی عوامل کا جائزہ لینے کے بعد کرتی ہے۔ موجودہ اطلاعات بھی انہی ابتدائی ورکنگ اور تخمینوں پر مبنی ہیں، جبکہ حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کے باضابطہ اعلان کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ممکنہ اضافے پر نظرثانی کی جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے مہنگائی کے مزید بوجھ سے عام شہریوں کو بچایا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا تو نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ روزمرہ زندگی کے تمام شعبے متاثر ہوں گے اور پہلے سے بڑھتی ہوئی مہنگائی میں مزید شدت آ جائے گی۔

 

 

ایک لیٹر پٹرول اور ڈیزل کی اصل قیمت کتنی ہے؟ حکومت ٹیکس سے کتنا کما رہی ہے؟

Next Post
ایران، متحدہ عرب امارات اور عمان پاکستانی آم کے بڑے خریدار بن گئے
Previous Post
موبائل بینکنگ ایپس استعمال کرنیوالے صارفین کی تعداد 13.7کروڑ ہوگئی