اس وقت پٹرول 297.53 روپے اور ڈیزل 309.50 روپے فی لیٹر ہے لیکن اس اصل قیمت اس سے کہیں کم ہے۔حکومت کی جانب سے گزشتہ ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کے بعد پٹرول اور ڈیزل پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ کر دیا۔ عوام پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس ڈیوٹیز کے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔
پٹرول پر حکومت کتنے ٹیکس وصول کر رہی ہے؟
اس وقت پٹرول فی لیٹر 297.53 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 309 روپے فی لیٹر ہے۔ تاہم موجودہ قیمت میں حکومت کی جانب سے کئی اقسام کے ٹیکسز بھی شامل ہیں، جن کو اگر منہا کیا جائے تو اس کی اصل قیمت اس سے کہیں کم ہوتی ہے۔پٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی اصل قیمت اور ٹیکسز کی تفصیلات جانیے۔4 جولائی 2026 سے نافذ ہونے والی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے مطابق پٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 179.47 روپے فی لیٹر ہے۔اس میں پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی 8.64 روپے، پٹرولیم لیوی 70.36 روپے اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے شامل کی گئی ہے۔اس کے علاوہ 19.33 روپے کسٹمز ڈیوٹی فریٹ مارجن، 6.86 روپے تیل کمپنیوں کا مارجن، 7.87 روپے ڈیلرز مارجن 8.64 روپے بھی شامل ہے۔پٹرول پر جی ایس ٹی صفر ہے
پیٹرولیم قیمتوں میں معمولی کمی، ملک بھر میں احتجاج کا اعلان
تاہم مجموعی ٹیکس 94.69 روپے فی لیٹر وصول کیا جا رہا ہے، جو پٹرول کی موجودہ فی لیٹر قیمت 297.53 کا 32 فیصد بنتا ہے۔ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 199.06 روپے جب کہ یہ 309.50 روپے فی لیٹر فروخت کیا جا رہا ہے۔ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی 70.82 روپے اور 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی وصول کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 15.68 روپے، فریٹ مارجن 2.43 روپے، تیل کمپنیوں کا مارجن 7.87 اور ڈیلرز مارجن 8.64 روپے ہے۔اس پر بھی جی ایس ٹی صفر ہے جب کہ مجموعی ٹیکس 91.56 روپے فی لیٹر وصول کیا جا رہا ہے، جو موجودہ قیمت کا 30 فیصد بنتا ہے۔مٹی کا تیل زیادہ تر گھروں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی فی لیٹر موجودہ قیمت 231.14 روپے ہے۔
آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کی تازہ جھڑپیں، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
تاہم اس کی ایکس ریفائنری قیمت 200.91 روپے فی لیٹر ہے۔مٹی کے تیل پر 8.29 روپے فریٹ مارجن، 1.58 روپے تیل کمپنیوں کا مارجن اور 20.36 روپے پٹرولیم لیوی شامل ہے۔ اس پر بھی جی ایس ٹی صفر جبکہ مجموعی ٹیکس 20.36 روپے فی لیٹر یعنی 9 فیصد ہے۔لائٹ ڈیزل کی موجودہ قیمت 195.42 روپے فی لیٹر ہے جب کہ اس کی ایکس ریفائنری قیمت 172.67 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔لائٹ ڈیزل پر 5.36 روپے فریٹ مارجن، 1.61 روپے تیل کمپنیوں کا مارجن اور 15.84 روپے پٹرولیم لیوی سمیت 15.84 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جو موجودہ قیمت کا 8 فیصد بنتا ہے۔
پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدل کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات پر پڑتا ہے۔ اسی لیے قیمت کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ صارفین کی ادا کی گئی رقم میں اصل ایندھن کی قیمت کتنی ہے اور حکومت مختلف لیویز اور دیگر مدات میں کتنا وصول کر رہی ہے۔
FAQ
کیا پٹرول پر جی ایس ٹی وصول کیا جا رہا ہے؟
نہیں، موجودہ قیمت میں جنرل سیلز ٹیکس صفر ہے، تاہم دیگر لیویز اور چارجز شامل ہیں۔
حکومت فی لیٹر کتنا ٹیکس وصول کرتی ہے؟
موجودہ قیمتوں کے مطابق پٹرول پر تقریباً 94.69 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 91.56 روپے فی لیٹر مختلف لیویز اور ٹیکسوں کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔
سولر پینل فی پلیٹ 3000 روپے سستی ہوگئی، بیٹریاں اور انورٹر بھی سستے


