Skip to main contentSkip to footer

چین پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ملک بن گیا

مالی سال 2025-26 میں پاکستان کو 2.5 ارب ڈالر کی خالص براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل ہوئی، جس میں چین سب سے بڑا سرمایہ کاری شراکت دار رہا۔

مالی سال 2025-26 کے دوران چین پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ رہا جس سے ملک کے اہم ترین سرمایہ کاری شراکت دار کی حیثیت سے چین کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی۔ مجموعی طور پر بہتر معاشی استحکام کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی بہتری آئی۔وزارتِ خزانہ کی جولائی 2026 کی ماہانہ اقتصادی صورتحال اور آئندہ کے امکانات سے متعلق رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کو 2.5 ارب ڈالر کی خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل ہوئی جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 4.7 فیصد زیادہ ہے۔ ان سرمایہ کاری رقوم میں چین کا حصہ سب سے زیادہ رہا جس کے بعد ہانگ کانگ، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ نمایاں رہے۔

چینی سرمایہ کاری سے پاکستان میں بیٹری سازی کی صنعت کا نیا دور شروع

 

رپورٹ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کو پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں سے تقویت ملی جن میں مہنگائی میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، مالیاتی استحکام اور شرحِ تبادلہ میں زیادہ استحکام شامل ہیں۔ ان عوامل نے مالی سال کے دوران ملک میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو زیادہ سازگار بنایا۔دستاویز کے مطابق تجارتی خسارے میں اضافے کے باوجود پاکستان کا بیرونی شعبہ مجموعی طور پر مستحکم رہا۔ ترسیلاتِ زر اور خدمات کی برآمدات میں مضبوط اضافے نے بیرونی دبا کو محدود رکھنے میں مدد دی جبکہ سال کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری سے بیرونی معاشی اثرات سے نمٹنے کی پاکستان کی صلاحیت بھی مضبوط ہوئی۔وزارتِ خزانہ کے مطابق حالیہ مالیاتی شعبے کی اصلاحات کا مقصد بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرنا ہے۔ سال کے دوران حکومت نے ملکی سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے کے لیے انویسٹ پاکستان کے نام سے ڈیجیٹل سرمایہ کاری پلیٹ فارم متعارف کرایا

جرمنی نے روزگار کے نئے مواقع کا اعلان کردیا، آج ہی اپلائی کریں

 

جبکہ اہل چھوٹے سرمایہ کاروں کو جاز کیش کے ذریعے حکومتی قلیل مدتی بانڈز خریدنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ عالمی منڈیوں میں مستقبل میں حکومتی بانڈز کے اجرا کے لیے بین الاقوامی بینکوں کے کنسورشیم بھی مقرر کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی کارکردگی کو عالمی مالیاتی منڈیوں کی جانب سے بھی مثبت پذیرائی ملی ہے۔ عالمی ریٹنگ ادارے ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار قرضہ ریٹنگ بی مائنس سے بڑھا کر بی کردی۔ ادارے نے اس کی وجوہات میں بہتر مالیاتی کارکردگی، اصلاحات پر مسلسل عمل درآمد، ادارہ جاتی صلاحیت میں بہتری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کو قرار دیا۔دستاویز کے مطابق حکومت کو توقع ہے کہ مالی سال 2026-27 کے دوران معاشی بحالی کا عمل جاری رہے گا

پاکستان کی سولر توانائی کی صلاحیت 38000 میگاواٹ تک پہنچ گئی

 

جسے محتاط معاشی انتظام، اصلاحات کے تسلسل اور کاروباری اعتماد میں بہتری سے مدد ملے گی۔ اگرچہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال بدستور خطرات کا باعث ہیں، تاہم وزارتِ خزانہ کے مطابق معاشی بنیادوں میں بہتری نے پاکستان کی معاشی لچک میں اضافہ کیا ہے اور سرمایہ کاری کے امکانات کو مضبوط بنایا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور بیرونی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کا تسلسل بدستور اہم رہے گا۔ آنے والے برسوں میں زیادہ سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا اور ساختی اصلاحات پر عمل درآمد حکومت کی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ رہے گا۔

یورپی اتحاد کا پاکستان کیلئے40کروڑ یورو کی مالی معاونت کا اعلان

 

 

دو سو یونٹ کا بل 18ہزار 500 روپے؟سوالات کھڑے ہوگئے

Previous Post
شدید گرمی نوجوانوں کی ذہنی صحت کیلئے انتہائی خطرناک