ملک کے مختلف شہروں میں مون سون کے نئے سپیل نے انٹری دیدی۔ لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی سمیت دیگر مقامات پر بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا، نشیبی علاقے زیر آب آگئے ،شاہراہوں ہر پانی جمع ہوگیا جس سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا ، کئی علاقوں میں فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی،مختلف واقعات میں دوبچوں سمیت تین افراد جاںبحق اور چار زخمی ہوگئے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کی بارشوں کا نیا سسٹم 5 اگست تک ملک میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش برسائے گا
لاہور میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ جار ی رہی ، بارش کے باعث گرمی کی شدت میں کمی آگئی اور موسم خوش گوار ہوگیا۔ لاہور کے علاقوں لکشمی چوک میں 15.2 ، اپر مال 0.8، مغلپورہ 7.8، تاجپورہ 4.4، چوک ناخدا 13.2 ، پانی والا تالاب میں 19.6 ، فرخ آباد 1، سگیاں 0.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا موجودہ درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، کم سے کم درجہ حرارت 27 اور زیادہ سے زیادہ 33 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔ لاہور میں ایم ڈی واسا کی ہدایت پر آپریشنل اسٹاف کو بارش کے ہوتے ہی نکاسی آب کیلئے شاہراہوں پر پہنچنے کی ہدایات کی گئی۔ اس کے علاوہ اسلام آباد، راولپنڈیوزیرآباد، پھالیہ، مریدکے، گوجرانوالہ، خانپور اور ہری پور سمیت دیگر شہروں میں بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا
ملک میں بارشوں کا نیا طاقتور سپیل داخل ،سیلاب کا خدشہ ،ہائی الرٹ جاری
کالی گھٹائو ں کا راج ہونے سے گرمی کی شدت میں بھی کمی آئی ہے ۔ طوفانی بار ش سے نشیبی علاقے اور گلی محلے زیر آب آگئے جبکہ شہر کے انڈر پاسز پانی سے بھر گئے جس کی وجہ سے ہر قسم کی آمدورفت بند ہوگئی۔سول اسپتال روڈ، سیالکوٹ روڈ، کمشنر روڈ، ڈی سی روڈ، پسرور روڈ، گل روڈ پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ اسی طرح مین جی ٹی روڈ، حافظ آباد روڈ، ماڈل ٹان، پیپلز کالونی سمیت شہر کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ڈپٹی کمشنر نوید احمد کے مطابق گجرانوالہ میں اوسطا 140 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے، سب سے زیادہ 171 ملی میٹر بارش پیپلز کالونی میں ریکارڈ ہوئی جبکہ نوشہرہ روڈ پر 151 ملی میٹر، سیٹلائٹ ٹائو ن میں 150 ملی میٹر، عالم چوک میں 149 ملی میٹر، کھیالی میں 142 ملی میٹر اور راجکوٹ میں 77 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔سیالکوٹ میں دو گھنٹے کی بارش نے شہر کے مختلف علاقوں کو ڈبو دیا، دارا ارائیاں اور ارد گرد کے علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔تیز بارش سے پانی لوگوں کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا
جبکہ نکاسی کے لیے ضلع انتظامیہ اور مشینری کہیں پر نظر نہیں آ رہی۔ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کے نئے سلسلے سے لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں فلیش فلڈنگ اور لینڈسلائیڈنگ کا خطرہ ہے، 31 جولائی سے 2 اگست کے دوران سندھ میں بھی مزید مون سون بارشیں متوقع ہیں۔ ادھر پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، خوشاب، میانوالی، لیہ، بھکر، نورپور تھل، سرگودھا، ساہیوال، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان، خانیوال، ملتان، وہاڑی، لودھراں، مظفرگڑھ، کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور، راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہائوالدین، گجرات، گجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، سیالکوٹ اور نارووال میں بارش کا امکان ہے۔ لاہور، راولپنڈی، گجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے جبکہ مری گلیات اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ماجد نامی مریض کیساتھ کیا واقعہ پیش آیا
لاہور ٹریفک پولیس نے رین ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے بارش کے دوران حتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کر دی، شہری مناسب رفتار سے اگلی گاڑی سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھیں اور اچانک بریک لگانے سے گریز کریں جبکہ موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ لازمی پہنیں اور پھسلن کے باعث غیر ضروری اوور ٹیکنگ سے اجتناب کریں۔دوسری جانب کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم گرم، مرطوب اور مطلع جزوی ابرآلود رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 28.5 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہے۔اس کیع لاوہ ہوا میں نمی کا تناسب 78فیصد ہے اور سمندری ہوائیں 18کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے مزید بتایا کہ 24گھنٹوں کے دوران چند مقامات پر بونداباندی کا بھی امکان ہے۔ ادھر پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق پنجاب کے بیشتر دریائوں میں پانی کا بہائو نارمل ہے، دریائے سندھ میں کالا باغ اور تونسہ پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی پر بھی سیلاب دم توڑ گیا اور بہائو معمول پر آگیا۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق دریائے سندھ میں سکھر بیراج پر پانی کی آمد میں اضافہ ہوا ہے اور بہا ئو بڑھ کر 2 لاکھ 78 ہزار کیوسک ہوگیا جس سے نچلے درجے کا سیلاب آگیا۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور نے بتایا کہ کالا باغ ، تونسہ اور گڈو بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب بر قرار ہے۔ علاوہ ازیں ملتان کی تحصیل جلالپوپیروالا میں دریائے چناب کا سیلابی پانی 2 درجن سے زائد بستیوں میں داخل ہوگیا جس کے باعث لوگ نقل مکانی پرمجبور ہوگئے جب کہ سیلابی پانی میں ڈوب کر ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔سرگودھا میں بارش کے باعث ڈیری فارم کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 2 بچے جاں بحق ہوگئے اور 4 افراد زخمی ہوئے جب کہ شیخوپورہ میں آبی ریلے سے ریلوے ٹریک متاثر ہوا۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ ایک کھرب سے تجاوز کرنے کا امکان
اپر اور لوئر چترال میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام شدید متاثر

