مشیر ِ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبرپختونخوا مولانا طیب قریشی نے دیر کالونی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے نجی سکول کے افسوسناک واقعے سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرکے تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی اور لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔مولانا طیب قریشی نے متاثرہ عمارت کا معائنہ بھی کیا اور واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک واقعے پر ہر دل غمگین ہے اور متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا طیب قریشی نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے المناک واقعات پوری قوم کے لیے باعثِ رنج و غم ہیں۔
متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور مذہبی ہم آہنگی پر زور
مشیر برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور مولانا طیب قریشی نے کہا ہے کہ دین اسلام امن، محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کا درس دیتا ہے، جبکہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور تشدد کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا کو بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی، رواداری اور اتحاد کا مثالی صوبہ بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور کی تاریخی مسجد مہابت خان میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا طیب قریشی نے کہا کہ معاشرے میں امن، برداشت اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے علماء کرام کا کردار انتہائی اہم ہے۔ علماء کرام اپنے خطبات اور تعلیمات کے ذریعے عوام میں اتحاد، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مکاتب فکر کے درمیان باہمی احترام اور ہم آہنگی کو مضبوط بنا کر معاشرے کو انتہاپسندی اور نفرت سے پاک کیا جا سکتا ہے۔
مہنگائی کا سلسلہ جاری،23اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ
مشیرِ مذہبی امور نے عوام پر زور دیا کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو پھیلانے سے گریز کریں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاشرے میں امن و استحکام کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ علماء کرام اور دینی مدارس کی بہتری، ترقی اور انہیں درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ دینی مدارس اور علماء کرام معاشرے کی اصلاح، اخلاقی تربیت اور مثبت سماجی اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس لیے ان کے مسائل کا حل اور ضروری سہولیات کی فراہمی ترجیحات میں شامل ہے۔مولانا طیب قریشی نے مزید کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ان کے دفاتر ہر خاص و عام کے لیے کھلے رہیں گے اور شہری اپنے مسائل کے حل کے لیے براہ راست رجوع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی خدمت اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
تین سال میں 18 لاکھ 71 ہزار پاکستانی بیرون ملک چلے گئے
اس موقع پر دیر کالونی میں اسکول کے افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔ ملک میں قیام امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا، جبکہ ملک میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔اس سے قبل تاجر برادری نے ان کا استقبال کیا اور نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی۔
مریم نواز نے مولانا فضل الرحمن کو دہشتگردوں کا سہولت کار کہہ دیا





