Skip to main contentSkip to footer

خیبر پختونخوا کا ایف ایم اور ٹی وی لائسنسنگ کا اختیار صوبوں کو دینے کا مطالبہ

خیبر پختونخوا کا ایف ایم اور ٹی وی لائسنسنگ کا اختیار صوبوں کو دینے کا مطالبہ

خیبر پختونخوا حکومت نے ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز اور ٹیلی ویژن چینلز کے لائسنس کے اجرا، تجدید اور نگرانی میں صوبوں کو باقاعدہ کردار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب ایک دستاویز کے مطابق تجویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 159(1) صوبوں کو اپنے اپنے علاقوں میں ٹرانسمیٹر تعمیر کرنے اور استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے جبکہ ان کی تعمیر اور استعمال سے متعلق ضوابط وضع کرنے اور فیس عائد کرنے کا اختیار بھی دیتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں تمام غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کا فیصلہ

تاہم یہ آئینی شق ابھی تک صوبوں کو منتقل نہیں کی گئی۔خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی پہلی تجویز میں ایف ایم ریڈیو اور ٹی وی لائسنس کے اجرا، تجدید اور نگرانی میں صوبوں کو کردار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایسا طریقہ کار وضع کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت صوبے لائسنس جاری کرنے کے عمل میں شریک ہو سکیں۔حکومت نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے صوبائی دفاتر قائم کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیمرا ملک بھر میں الیکٹرانک میڈیا کو منظم کرنے والا وفاقی ادارہ ہے جبکہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد صوبائی پیمرا دفاتر قائم کر سکتی ہے جن میں متعلقہ صوبوں کی نمائندگی ہو۔تجویز کا ایک اہم حصہ لائسنس فیس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے متعلق ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیمرا اس وقت لائسنس کے اجرا اور تجدید کی فیس وصول کرتا ہے جبکہ جن صوبوں کی فضائی حدود میں یہ نشریاتی سرگرمیاں ہوتی ہیں

میں گریڈ 17 اور 16 کے افسر زکواة فنڈ کھا گئے

انہیں اس آمدنی میں کوئی حصہ نہیں ملتا۔خیبر پختونخوا حکومت نے تجویز دی ہے کہ وفاقی حکومت صوبوں سے مشاورت کے بعد ایسا طریقہ کار وضع کرے جس کے تحت پیمرا سے وصول ہونے والی آمدنی میں وفاقی حکومت اور صوبوں دونوں کو مخصوص حصہ دیا جائے۔صوبائی حکومت نے اپنے ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کو وفاقی لائسنسنگ کی ضروریات سے مستثنی قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔تجویز میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اپنا ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کا نیٹ ورک رکھنے والا پہلا صوبہ ہے۔ حکومت کا مقف ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف کوششوں میں صف اول کا صوبہ ہونے کے باعث مزید ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کے قیام کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔دستاویز کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت پاکختونخوا ریڈیو ایف ایم نیٹ ورک کے لیے سالانہ کروڑوں روپے مختص کرتی ہے، تاہم اس سے کوئی مالی آمدنی حاصل نہیں ہوتی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ صوبائی ایف ایم اسٹیشنز کو کام کرنے اور اشتہارات نشر کرنے کی اجازت دینے سے ایسے ریڈیو نیٹ ورکس کو مالی طور پر پائیدار بنانے میں مدد ملے گی۔ان تجاویز سے الیکٹرانک میڈیا کے حوالے سے موجود وفاقی اور صوبائی نظام میں ممکنہ طور پر تبدیلی آ سکتی ہے کیونکہ ان کے ذریعے صوبوں کو لائسنسنگ، انتظامی نگرانی اور نشریاتی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں زیادہ کردار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ پلس پروگرام کے بجٹ میں اضافہ

 

مالِ مفت دل بے رحم ،خیبر پختونخوا اسمبلی افسران اور ملازمین میں بندر بانٹ

Next Post
رواں 21 ویں صدی کا سب سے طویل سورج گرہن اگلے سال ہوگا
Previous Post
ستمبر کی وہ تاریخ جب دن اور رات کا دورانیہ یکساں ہو جائے گا