خیبرپختونخوا کے لیے 100 ارب روپے کے امدادی و ترقیاتی پیکج کے اعلان کی توقع ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس آج گورنر ہاؤس پشاور میں متوقع ہے۔ اجلاس میں صوبے کی امن و امان کی صورتِ حال، دہشت گردی کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اعلیٰ عسکری قیادت، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور صوبائی ایڈوائزری کونسل کے ارکان کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات اور امن و امان کی بہتری کے لیے حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
6 ماہ تک اضافی لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری، مرمت اور ترقیاتی کام کئے جائیں گے
اجلاس میں دہشت گردی سے متاثرہ اور نامزد اضلاع کے لیے مجوزہ اقدامات، انتظامی امور اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے لیے خصوصی امدادی و ترقیاتی پیکج تیار کیے جانے کی اطلاعات پہلے بھی سامنے آ چکی ہیں۔ مجوزہ منصوبوں میں سڑکوں کی تعمیر، صحت، تعلیم، کھیلوں کی سہولیات اور دیگر ترقیاتی اقدامات شامل ہیں۔ تاہم 100 ارب روپے کے حتمی حجم اور اعلان کی سرکاری تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب وزیراعظم کے دورۂ پشاور کے پیش نظر شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ کیپٹل سٹی پولیس کے مطابق دورے کے لیے 462 پولیس افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ دو پلاٹون ریزرو نفری بھی رکھی گئی ہے۔
سول سیکرٹریٹ میں ڈے کیئر سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ، داخلہ فیس اور قواعد مقرر
پولیس کے مطابق دورے کے لیے جامع سیکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت سی سی پی او پشاور انتظامات کی نگرانی کریں گے۔ ایلیٹ فورس، لیڈیز پولیس، ابابیل اسکواڈز، سٹی پٹرولنگ اور متعلقہ تھانوں کی پولیس سیکیورٹی فرائض انجام دے گی۔ سیکیورٹی پلان میں اہم مقامات، داخلی راستوں اور اطراف میں چیکنگ، نگرانی اور گشت کے انتظامات شامل ہیں۔ بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے مقامات اور گاڑیوں کی جانچ کی جائے گی، جبکہ واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز، جیمرز اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق شہریوں کی مشکلات کم کرنے اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122 کی ایمبولینسز، طبی عملے، فوری امداد اور ہنگامی انخلا کا انتظام بھی سیکیورٹی پلان کا حصہ ہے۔ متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کے ذریعے انتظامات کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔ اجلاس کے فیصلوں اور مجوزہ پیکج کی حتمی تفصیلات سامنے آنے کے بعد صوبے کے لیے اعلان کردہ اقدامات کی مالی اور انتظامی تفصیلات واضح ہوں گی۔
خیبر پختو نخوا میں غیر ائینی گورنر راج لگا کر جمہوریت کو بلڈوز کیا گیا ،محمود اچکزئی
گورنر راج اور ایمرجنسی صوبے کی معدنیات پر کنٹرول کیلئے ہے، فضل الرحمان

