Skip to main contentSkip to footer

ایرانی حکومت کی مخالفت کرنے والی دو فٹبالرز آسٹریلوی شہری بن گئیں

ایرانی حکومت کی مخالفت کرنے والی دو فٹبالرز آسٹریلوی شہری بن گئیں

ایران کی دو خواتین فٹبالرز، جنھوں نے عوامی طور پر تہران حکومت کے خلاف مقف اپنایا تھا، آسٹریلیا کی شہریت حاصل کر لی ۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق 34 سالہ عاطفہ رمضانی زادہ اور 22 سالہ فاطمہ پسندیدہ کو ریاست کوئنزلینڈ کے شہر برسبین میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران آسٹریلوی شہریت دی گئی۔شہریت حاصل کرنے کے بعد رمضانی زادہ نے اس موقع کو انتہائی خصوصی اور ناقابلِ فراموش دن قرار دیا، جبکہ ان کی ساتھی کھلاڑی فاطمہ پسندیدہ نے کہا کہ اس لمحے کی اہمیت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔یہ دونوں کھلاڑیاں ان سات ایرانی قومی ٹیم کے اراکین میں شامل تھیں جنھیں مارچ میں ویمنز ایشین کپ کے لیے آسٹریلیا آنے کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے دیے گئے تھے۔

آئی سی سی نے مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2027کے 12وینیوز کا اعلان کر دیا

 

تاہم، دیگر پانچ کھلاڑیوں نے بعد میں اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ایران واپس جانے کو ترجیح دی۔اس وقت خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ ایران اور اسرائیل، امریکہ تنازع کے آغاز کے چند روز بعد قومی ترانے کے دوران خاموش رہنے پر ایرانی ٹیم کو وطن واپسی پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔آسٹریلیا میں مقیم ایرانی برادری کے دبائو کے بعد حکام نے کھلاڑیوں کو پناہ کی درخواست دینے کا موقع فراہم کیا تھا، لیکن بالآخر صرف رمضانی زادہ اور پسندیدہ نے یہ پیشکش قبول کی۔اگرچہ ان دونوں کی شہریت کے حصول پر کوئی سوال نہیں تھا، تاہم یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آسٹریلوی حکومت امیگریشن میں کمی لانے کے لیے ویزا قوانین مزید سخت بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔متوقع نئی پالیسی کے تحت پناہ کے متلاشی افراد کے کام کرنے اور اپیل کے حقوق محدود کیے جا سکتے ہیں، جبکہ وزٹ ویزا پر آنے والے افراد کے لیے خاندانی ویزے کی درخواستوں پر بھی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

کرسٹیانو رونالڈو کی ایک منٹ کی کمائی کتنی ؟ جان کر حیران رہ جائیں گے

 

آسٹریلوی حکومت کو ایک جانب سیاسی مخالفین کی طرف سے مزید سخت امیگریشن پالیسی اپنانے کے مطالبات کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق اور مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں موجودہ پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ ان کا مقف ہے کہ سخت اقدامات پناہ گزینوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔برسبین میں ہونے والی شہریت کی تقریب میں آسٹریلیا کے وزیرِ داخلہ ٹونی برک بھی موجود تھے، جنھوں نے دونوں کھلاڑیوں کو شہریت کے سرٹیفکیٹس پیش کیے۔فاطمہ پسندیدہ نے کہا، یہ میری زندگی کی ایک نئی شروعات ہے اور مجھے فخر ہے کہ اب میں آسٹریلیا کو اپنا گھر کہہ سکتی ہوں۔عاطفہ رمضانی زادہ نے اپنے بیان میں ماضی کی مشکلات کو یاد کرتے ہوئے کہا، ہم نے بہت سے چیلنجز کا سامنا کیا، لیکن آج آسٹریلوی شہری بننا میرے لیے باعثِ فخر اور گہری شکرگزاری کا لمحہ ہے۔دونوں کھلاڑیاں اب آسٹریلیا کی خواتین کی پیشہ ور فٹبال لیگ اے لیگ ویمن کی ٹیم برسبین رور کے ساتھ تربیت حاصل کر رہی ہیں اور اپنے کھیل کے کریئر کو یہیں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ارجنٹینا کو فیفا ورلڈ کپ سے نکالنے کی درخواست پر 2کروڑ 33 لاکھ افراد کے دستخط

 

ایرانی ٹیم سے متعلق یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب ان کے ملک میں جنگی صورتحال جاری تھی۔ دو مارچ کو ایرانی قومی ترانے کے دوران کھلاڑیوں کی خاموشی کے بعد سرکاری ٹی وی کے ایک میزبان کی ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں انھوں نے ان کھلاڑیوں کو غدار قرار دیتے ہوئے سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایران واپس جانے والی بعض کھلاڑیوں نے مبینہ طور پر اپنے خاندانوں کو لاحق خطرات اور دبا ئوکے باعث آسٹریلیا میں رہنے کا فیصلہ واپس لیا۔دوسری جانب ایران کی وزارتِ کھیل نے اس وقت ایک بیان میں وطن واپس آنے والی کھلاڑیوں کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے اپنے قومی جذبے اور حب الوطنی کے ذریعے دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔

 

وہ لمحہ جب ٹنڈولکر نے پاکستان کے لیے کرکٹ کھیلی

Next Post
عالمی پابندیاں، ایران نے جوئے سے رقم منتقلی کا طریقہ کھوج لیا
Previous Post
بچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم میں پنجاب سرفہرست