Skip to main contentSkip to footer

بانی 100سال جیل گزار سکتے ہیں مگر سمجھوتہ نہیں کریں گے، بیرسٹر گوہر

Barrister Gohar Political Message

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہاہے کہ بانی پی آئی عمران خان 100 سال جیل گزار سکتے ہیں مگر سمجھوتہ نہیں کریں گے،پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی ایمرجنسی اورگورنر راج رول بیک کرانے کیلئے کردارادا کرے گی۔ پا رلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں 28 ویں آئینی ترمیم پر کوئی خاص بات ہوئی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی فیصلہ یا تجاویز سامنے آئیں۔پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل ایک دوسرے کو سننے اور ساتھ بیٹھنے سے حل ہوتے ہیں۔ بحران ختم کرنے کے نام پر مزید بحران پیدا کرنا سیاسی طرز عمل نہیں۔ ملک کے حالات بہتر بنانے کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ واپس لیا جا سکتا ہے۔بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان 100 سال جیل گزار سکتے ہیں۔ مگر کسی ڈیل پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

بیرسٹر گوہر، محمود اچکزئی نے ایمرجنسی کیخلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

تاہم سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے مقدمات اور قید کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی ادارے یا اس کے سربراہ سے محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ ہم ہم اداروں کے احترام اور ان کے وقار کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں گے۔ موجودہ صورتحال میں لانگ مارچ کے علاوہ ہمارے پاس اور کیا راستہ رہ گیا تھا۔ ہم دنیا کے سامنے ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ہمارا مارچ پر امن ہوگا۔ حکومت لانگ مارچ کی اجازت دے، تو اس کو لوگوں کے پر امن ہونے کا اندازہ ہوجائیگا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عوام کی مرضی کے بغیر کسی صوبے کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔ کسی بھی معاملے پر جذباتی فیصلے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ کسی بھی ترمیم پر بات چیت پارلیمنٹ پر چھوڑنی چاہیے، پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی جلد اس حوالے سے اپنا لائحہ عمل دے گی۔ اس حوالے سے پارٹی کا موقف پہلے سے واضح ہے کہ متنازع قانون سازی سے گریز کیا جائے۔

سیاسی اختلاف کو نفرت میں مت بدلیں، بیرسٹر گوہر

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 70 ایم این ایز اور سینیٹرز نے شرکت کی، پارلیمانی پارٹی نے قیادت اور دونوں اپوزیشن لیڈرز کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا جب کہ سہیل آفریدی کے کردار کو بھی سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کی شدید مذمت کی، گورنر راج سے پیدا ہونے والے خلا پر بھی غور ہوا جس کے بعد سفارشات دونوں اپوزیشن لیڈرز کو بھجوا دی گئی ہیں، منظوری کے بعد سفارشات حتمی ہوں گی، پارلیمانی پارٹی ایمرجنسی اورگورنر راج رول بیک کرانے کے لئے کردارادا کریگی۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ جلد بازی میں قانون سازی سے مزید بحران پیدا ہوسکتا ہے، عوام کی مرضی کے بغیرصوبوں کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے، نئے صوبے بنانے کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، صوبوں کے معاملے پر قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔

 

پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان قیادت پر پھٹ پڑے

اگلی پوسٹ
پاکستان نے ون چائنا پالیسی کے تحت تائیوانی فضائی کمپنیوں کیلئے آپریشن بند کردیا
پچھلی پوسٹ
ہم نے آپ سے اختلاف کیا تو آپ ہمارے خلاف ہوگئے، مولانا فضل الرحمان