عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے ڈیڈ لاک ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک سیاسی مذاکرات نہیں ہوں گے، مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔ پی ٹی آئی کے سابق وزیراعلی نے جو حالات اور ماحول پیدا کیا، اس کے نتیجے میں جو کچھ ہوا، وہ ہو گیا، اب بہتر یہی ہے کہ سیاسی ڈیڈ لاک ختم کیا جائے۔پیر کی شام ضلع صوابی میں شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ گزشتہ 13 سال کے دوران جس طریقے سے لوٹ مار کی گئی اور خیبرپختونخوا کے وسائل ضائع کیے گئے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ پی ٹی آئی کی سابق حکومت کے وزیراعلی نے ایسے حالات اور ماحول پیدا کیے کہ اس کا نتیجہ وہی نکلنا تھا جو سامنے آیا۔ اب سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے ڈیڈ لاک ختم کرنا ضروری ہے، کیونکہ جب تک سیاسی حل نہیں نکلے گا، یہ صورتحال برقرار رہے گی، جو کسی صورت خیبرپختونخوا کے لیے مناسب نہیں۔
مذاکراتی کمیٹی کی نمائندگی کیلیے علی امین کو شامل کیا جائے، پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی
انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی اقتدار میں نہیں تھی اور ان کی حکومت تھی تو پی ٹی آئی کا بار بار احتساب کا نعرہ تھا۔ ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد پی ٹی آئی نے بھرپور کوشش کی اور جب ان سے حساب مانگا گیا تو انہوں نے اپنا حساب کتاب دیا جس طرح ان کا احتساب ہوا، اب سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی سے بھی پوچھا جائے گا اور اس کا احتساب ہوگا؟ اگر کوئی ان کے پانچ سالہ دور حکومت کا دوبارہ احتساب کرنا چاہتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن گزشتہ 13 سال کے دوران جو کچھ ہوا، اس کا احتساب بھی ضروری ہے۔ جب تک یہ احتساب نہیں ہوگا، احتساب کا جواز ہی باقی نہیں رہتا۔ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ جنہیں 13 سال ملے، ان کی ترجیح خیبرپختونخوا کی ترقی، بہتری اور عوام کی بھلائی ہونی چاہیے تھی، لیکن بدقسمتی سے وہ انتشار اور تقسیم کی سیاست کی طرف چلے گئے۔ اگر انہوں نے کسی کی بھلائی کا سوچا بھی تو عوام کی بجائے اپنا مفاد سامنے رکھا۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ 13 سال کے دوران صوبے میں ترقی کے بہت سے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔
علی امین سہیل آفریدی پر برہم، بکائو مال کہنے پر آپے سے باہر
انہوں نے کہا کہ اب غیر جانبدارانہ، منصفانہ اور حقیقی احتساب ہونا چاہیے، جس کے بعد وفاق کے ساتھ خیبرپختونخوا کے مسائل حل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتے کہ ماضی میں صوبائی حکومت نے وفاق سے تعاون لینے کی کوشش نہیں کی یا مرکز نے صوبے کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔سابق وزیراعلی نے کہا کہ گورنر راج کو وہ غیر جمہوری عمل سمجھتے ہیں، تاہم اب یہ نافذ ہو چکا ہے۔ خیبرپختونخوا کے بنیادی مسائل میں سب سے اہم دہشت گردی ہے، جبکہ صوبے میں تجارت کے تمام راستے بند ہیں، جس کا نقصان عوام کو ہو رہا ہے۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور صحت و تعلیم کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ بجلی اور گیس کی مد میں اربوں روپے کے بقایاجات بھی وفاق کے ذمے ہیں۔امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اگر گورنر خیبرپختونخوا کے بقول وفاق اور صوبہ ایک پیج پر آ گئے ہیں تو صرف تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنے کی بجائے صوبے کے بنیادی مسائل پر توجہ دی جائے اور انہیں حل کیا جائے۔

