مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں تجارتی خسارے میں تقریبا 16 فیصد اضافہ ہوگیا۔ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا اکتوبر تجارتی خسارہ 14 ارب 62 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ سالانہ بنیاد پر تجارتی خسارے میں 2ارب ڈالر سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ مالی سال اسی مدت میں تجارتی خسارہ 12ارب 61 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا۔رپورٹ کے مطابق ماہ میں برآمدات 11.33 ارب ڈالر، درآمدات 25.96 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا، برآمدات میں 8.52 فیصد، درآمدات میں 12.59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ستمبر کے مقابلے اکتوبر میں برآمدات 2.84 فیصد اضافے سے 2.92ارب ڈالر رہیں، اس دوران درآمدات 5.72 فیصد اضافے سے 6.80 ارب ڈالر رہیں۔
پاکستانیوں نے3ماہ کے دوران250ارب 64کروڑ کاسوناخریدلیا
اکتوبر میں ماہانہ بنیاد پر تجارتی خسارہ 10.30 فیصد اضافیسے3.87 ارب ڈالر رہا، اکتوبر 2025 کے مقابلے تجارتی خسارہ 19.70 فیصد تک بڑھ گیا۔واضح رہے کہ ایک مقررہ مدت کے دوران جب کسی ملک کی درآمدات اس کی برآمدات سے زیادہ ہوجاتی ہیں تو یہ تجارتی خسارہ کہلاتا ہے۔تجارتی خسارہ اس وقت ہوتا ہے جب بین الاقوامی ٹرانزیکشن اکاونٹ میں منفی بیلنس ہو۔ ادائیگیوں کا توازن ملک میں رہائش پذیر اور بیرون ملک رہنے والوں کے درمیان، جہاں ملکیت میں تبدیلی واقع ہوتی ہے، تمام اقتصادی لین دین کو ریکارڈ کرتا ہے۔تجارتی خسارہ طویل مدت میں کافی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ تجارتی خسارے کا سب سے واضح نقصان یہ ہے کہ ملک اپنی پیداوار سے زیادہ اشیا اور خدمات استعمال کرتا ہے۔
پیٹرولیم کے بعد اب ایل پی جی کی قیمتیں بھی امپورٹ پیریٹی پرائس پر طے ہونگی

