Skip to main contentSkip to footer

پاکستان کی برآمدات کے فروغ کے لیے ترجیحی تجارتی رسائی ڈیٹا بیس متعارف

مشینری کی درآمدات میں اضافہ، پاکستان کی درآمدی ساخت میں بہتری

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) نے مشترکہ طور پر ایف پی سی سی آئی کے ہیڈ آفس، فیڈریشن ہاؤس کراچی میں ترجیحی تجارتی رسائی ڈیٹا بیس (Preferential Trade Access Database – PTAD) کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس ڈیٹا بیس کا مقصد پاکستانی برآمد کنندگان، درآمد کنندگان اور صنعتکاروں کو عالمی منڈیوں میں دستیاب ترجیحی تجارتی سہولیات سے متعلق جامع اور مستند معلومات ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ عالمی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے یہ اقدام ایک اہم ادارہ جاتی سنگ میل ہے۔ ترجیحی تجارتی رسائی ڈیٹا بیس مقامی برآمد کنندگان، درآمد کنندگان، صنعتکاروں اور بین الاقوامی خریداروں کو قابلِ عمل تجارتی معلومات فراہم کرکے پاکستان کی برآمدات میں اضافے اور ملک کو عالمی تجارتی مواقع سے منسلک کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی نئی اسکیم بھی ناکام ہوگئی

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے بتایا کہ تقریب کے دوران کاروباری برادری اور تجارتی نمائندوں کو نئے ڈیٹا بیس کی بنیادی خصوصیات اور افادیت سے آگاہ کیا گیا۔ ان کے مطابق اس پلیٹ فارم کے ذریعے 29 ترجیحی تجارتی معاہدوں اور انتظامات کے تحت 95 ممالک کی منڈیوں میں دستیاب تجارتی مواقع سے متعلق منظم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ برآمدات سے متعلق فیصلوں کو آسان بنانے اور تجارتی ضوابط پر عمل درآمد کے لیے ڈیٹا بیس میں ٹیرف کی رعایتوں، قواعدِ منشائے مال (Rules of Origin) اور ضروری دستاویزات سے متعلق تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ صارفین ایچ ایس کوڈ (HS Code) یا مصنوعات کی تفصیل درج کرکے اپنی مطلوبہ اشیائ تلاش کرسکتے ہیں اور متعلقہ عالمی منڈیوں میں دستیاب تجارتی سہولیات اور رسائی کے طریقہ کار سے آگاہی حاصل کرسکتے ہیں۔

حکومتی اقدامات سے کاٹن سٹیک ہولڈرز کی مایوسی بڑھ گئی

ثاقب فیاض مگوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اور ازبکستان کے ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) میں توسیع سے متعلق تازہ معلومات بھی اس ڈیٹا بیس کا حصہ ہیں، جو علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے نئی راہیں فراہم کریں گی۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ٹی ڈی اے پی عبد الکریم میمن نے کہا کہ ترجیحی تجارتی رسائی ڈیٹا بیس کا آغاز پاکستان کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق طویل عرصے سے برآمد کنندگان اور صنعتکار مستند اور یکجا معلومات کی عدم دستیابی کے باعث موجودہ تجارتی معاہدوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اب 95 ممالک میں 29 ترجیحی تجارتی معاہدوں اور انتظامات سے متعلق معلومات ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں گی، جس سے کاروباری برادری کو ٹیرف کی رعایتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور پائیدار برآمدی ترقی کے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔عبدالکریم میمن کا کہنا تھا کہ ٹی ڈی اے پی کا بنیادی مشن پاکستان کو تجارتی مواقع سے منسلک کرنا ہے۔

تعلیمی اسناد کی تصدیق کے نام پر دھوکے سے کیسے بچا جائے؟

ایف پی سی سی آئی کے ساتھ یہ مشترکہ اقدام اہم تجارتی معلومات براہِ راست برآمد کنندگان، صنعتکاروں اور بین الاقوامی خریداروں تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوگا۔ ترجیحی تجارتی سہولیات سے متعلق معلومات کے فقدان کو دور کرکے یہ ڈیٹا بیس برآمدی فیصلوں کو آسان بنانے، تجارتی ضوابط پر عمل درآمد بہتر کرنے اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں زیادہ مؤثر انداز میں مسابقت کے قابل بنانے میں کردار ادا کرے گا۔ایف پی سی سی آئی کے مطابق اس پلیٹ فارم پر مصنوعات کی تلاش کے ساتھ قواعدِ منشائے مال اور ضروری دستاویزات سے متعلق عملی رہنمائی بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ برآمد کنندگان متعلقہ منڈیوں کے تجارتی تقاضے بہتر طور پر پورے کرسکیں۔ پاکستان اور ازبکستان کے ترجیحی تجارتی معاہدے میں توسیع سے متعلق معلومات کی شمولیت بھی علاقائی تجارت کے فروغ میں معاون ہوگی۔تقریب کے اختتام پر ایف پی سی سی آئی اور ٹی ڈی اے پی نے تجارتی معلومات کی فراہمی، عالمی منڈیوں تک رسائی میں بہتری اور پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے مشترکہ وڑن کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

 

پاکستان، سعودی عرب کا مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

اگلی پوسٹ
شاہ اللہ دتہ بدھا غاروں کے تحفظ و بحالی منصوبے کا افتتاح
پچھلی پوسٹ
پی ٹی آئی سوشل میڈیا کا ایک گروپ پاکستان مخالف ایجنڈے کیلئے کام کرتا ہے، فواد چوہدری