Skip to main contentSkip to footer

ٹرمپ ہار گئے، مگر صدر برقرار رہیں گے، یاہو کا مستقبل بھی سوالیہ نشان بن گیا!

ٹرمپ ہار گئے، مگر صدر برقرار رہیں گے، یاہو کا مستقبل بھی سوالیہ نشان بن گیا!

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی شکست کے بعد عالمی سطح پر یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار سے باہر ہو گئے ہیں اور امریکہ کو جلد نیا صدر ملنے والا ہے، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ٹرمپ نہ تو صدارت سے فارغ ہوئے ہیں اور نہ ہی فوری طور پر ان کی جگہ کوئی نیا صدر آئے گا۔ وہ آئینی مدت کے مطابق جنوری 2029 تک امریکہ کے صدر رہیں گے، یعنی ان کے پاس ابھی تقریباً دو سال کا عرصہ باقی ہے۔ البتہ انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی نے ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن تبدیل کر دی ہے۔ ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے، جس کے بعد ٹرمپ کو قانون سازی، حکومتی تقرریوں اور اپنے سیاسی ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں تو موجود رہیں گے، لیکن کانگریس میں اپنی جماعت کی اکثریت سے محروم ہو چکے ہیں۔ ڈیموکریٹس اب ان کی پالیسیوں کی مخالفت، حکومتی اقدامات کی تحقیقات اور اہم فیصلوں پر نگرانی کا اختیار استعمال کر سکیں گے۔ تاہم ٹرمپ کے پاس صدارتی اختیارات اور ویٹو کا حق برقرار رہے گا دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کا مستقبل بھی کئی سوالات کی زد میں ہے۔ اسرائیل میں سیاسی اتحاد کی مشکلات، غزہ جنگ، ایران کے ساتھ کشیدگی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ممکنہ تبدیلیاں ان کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد سے متعلق اعلان اور امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت نیتن یاہو کی حکومت کے لیے بھی نئی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

اسرائیل میں نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو کتنی نشستیں ملیں؟

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ اپنے باقی دو سال ڈیموکریٹک اکثریت والی کانگریس کے ساتھ گزار کر اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا سکیں گے؟ اور کیا نیتن یاہو امریکی حمایت میں ممکنہ تبدیلیوں کے باوجود اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھ پائیں گے؟ امریکی انتخابات میں ٹرمپ کی شکست کا مطلب صدارت کا خاتمہ نہیں، بلکہ اقتدار کے باقی دو سال میں ان کے لیے سیاسی اور پارلیمانی مشکلات کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ امریکی انتخابات کے بعد بعض حلقوں میں یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ ٹرمپ اقتدار سے باہر ہو گئے ہیں اور اب امریکہ کو نیا صدر ملے گا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ بدستور امریکہ کے صدر رہیں گے اور ان کی آئینی مدت جنوری 2029 میں مکمل ہوگی۔ انہیں ابھی تقریباً دو سال مزید اقتدار میں رہنا ہے۔ البتہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ٹرمپ اپنی جماعت کی پارلیمانی اکثریت سے محروم ہو گئے ہیں۔ اب انہیں قانون سازی، حکومتی پالیسیوں اور اپنے سیاسی ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے ڈیموکریٹس کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس طرح ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں تو رہیں گے، لیکن کانگریس میں ان کے لیے فیصلے کرنا پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کی پارٹی کو بڑا دھچکا، ڈیموکریٹس نے بڑی کامیابی حاصل کرلی

اسرائیل کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے 27 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ان کے پورے حکومتی اتحاد کو مجموعی طور پر 53 نشستیں ملیں۔ دوسری جانب گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کے یہودی سیاسی اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کیں، جبکہ عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیت کر پارلیمان میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی۔ اسرائیلی پارلیمان کی مجموعی 120 نشستوں میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی ضرورت ہے۔ اس طرح نیتن یاہو کا اتحاد آٹھ نشستوں کی کمی کا شکار ہے، جبکہ اپوزیشن کو بھی تنہا حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں۔ عرب جماعتوں میں جوائنٹ لسٹ نے 11 جبکہ رام جماعت نے 8 نشستیں حاصل کی ہیں۔ یہ 19 نشستیں نئی حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

یوکرین میں جنگ سے بھاگے فوجیوں پر نجی قید میں تشدد

اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ نے انتخابی نتائج کی توثیق کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کو نئی حکومت بنانے کے لیے ایک اہم امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ ایک ممکنہ راستہ یہ ہے کہ آئزن کوٹ عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرکے نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر کر دیں۔ اگر اپوزیشن کے 48 ارکان اور عرب جماعتوں کے 19 ارکان ایک مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہو جاتے ہیں تو ان کی مجموعی تعداد 67 ہو سکتی ہے، جو حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت سے زیادہ ہے۔ تاہم اس راستے میں مشکلات بھی موجود ہیں، کیونکہ اپوزیشن کی بعض جماعتیں عرب جماعتوں کے ساتھ حکومتی اتحاد بنانے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ رام جماعت نے آئزن کوٹ کی حمایت کا عندیہ دیا ہے، جبکہ جوائنٹ لسٹ کا کردار بھی اہم ہوگا۔ دوسرا امکان نیتن یاہو اور اپوزیشن کے بعض دھڑوں کے درمیان کسی مشترکہ یا قومی حکومت کے قیام کا ہے۔ اگر سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق نہ ہو سکا تو اسرائیل میں ایک مرتبہ پھر نئے انتخابات کا راستہ بھی کھل سکتا ہے۔

پاکستان، سعودی عرب کا مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں کو اپنے اپنے ملکوں میں سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹرمپ کو امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کے ساتھ کام کرنا ہوگا، جبکہ نیتن یاہو کو اسرائیل میں حکومت برقرار رکھنے کے لیے نئی سیاسی حمایت درکار ہوگی۔ امریکی پالیسی میں اسرائیل کے لیے فوجی امداد، غزہ کی صورتحال، ایران کے ساتھ کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی کردار بھی دونوں رہنماؤں کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ اپنے باقی دو سال سیاسی مخالفین کی اکثریت کے ساتھ گزار سکیں گے؟ کیا نیتن یاہو عرب جماعتوں کی ممکنہ حمایت سے بننے والی نئی اپوزیشن حکومت کے سامنے اقتدار برقرار رکھ پائیں گے، یا اسرائیل کو ایک مرتبہ پھر انتخابات کا سامنا کرنا پڑے گا؟ دونوں ملکوں کی موجودہ سیاسی صورتحال آنے والے عرصے میں مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست کے لیے اہم نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

امریکا نے ایران کے جزیرہ قشم پر حملہ کردیا

صلاح الدین ایوبی کی قبر کو جب 600 سال بعد کھولا گیا

اگلی پوسٹ
پی ٹی آئی سوشل میڈیا کا ایک گروپ پاکستان مخالف ایجنڈے کیلئے کام کرتا ہے، فواد چوہدری
پچھلی پوسٹ
عتیق الرحمن نے جماعت اسلامی ضلع پشاور کے امیر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا