پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی، جنید اکبر اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے کیسز چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ معاملے کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جا سکے۔ درخواستوں پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ اور اسپیکر کئی دنوں سے غائب ہیں اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا اور مشیروں نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ، اسپیکر اور جنید اکبر حفاظتی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی اسمبلی نے اسپیکر اور ارکان اسمبلی کے حوالے سے استثنیٰ کا بل بھی منظور کیا ہے، جس کے تحت وزیراعلیٰ، اسپیکر اور دیگر ارکان کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔
ہنگو میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد قتل، کمسن بچہ بھی شامل
اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل ثناء اللہ نے عدالت سے مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور محکمہ داخلہ سے رپورٹ طلب کی گئی ہے، رپورٹ جمع کرانے کے لیے وقت دیا جائے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ تھری ایم پی او کے تحت 200 سے زائد کیسز زیرِ التوا ہیں۔ جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ یہ صوبے کے وزیراعلیٰ اور اسپیکر ہیں، کوئی عام شخصیات نہیں ہیں۔ یہ تھری ایم پی او کا کیس نہیں بلکہ ایک اہم معاملہ ہے کہ صوبے کا وزیراعلیٰ غائب ہے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ پہلے ہی دس دن کا وقت دیا گیا تھا، اس کے باوجود عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ عدالت تین دن کے لیے بھی سماعت ملتوی کر سکتی تھی لیکن حکومت کو دس دن دیے گئے تھے۔
افغان طالبان نے دہشت گردوں کی حمایت بند نہ کی تو قیمت چکانا پڑے گی،ڈی جی آئی ایس پی آر
ممبر خیبرپختونخوا بار کونسل فاروق احمد خٹک ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر متعلقہ افراد کو تھری ایم پی او کے تحت تحویل میں لیا گیا ہے تو عدالت کو آگاہ کیا جائے۔ درخواست گزاروں کے وکیل یاسر خٹک ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت احکامات جاری کرتی ہے لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی کے گھر کو ڈی سیل کرنے کا عدالتی حکم بھی تاحال نافذ نہیں کیا گیا، جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ کیسز چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو بھجوا دیتے ہیں تاکہ وہ لارجر بینچ تشکیل دیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بھی لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے درخواستوں کو چیف جسٹس کے پاس بھجوانے کا فیصلہ کیا۔

