امریکی ریاست ٹینیسی میں انجکشن کے ذریعے ملنے والی سزائے موت ناکام ہونے کے بعد زندہ بچ جانے والی 50 سالہ کرسٹا پائیک نے کہا ہے کہ میں مسلسل جسمانی درد میں مبتلا ہوں اور مجھے بولنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کرسٹا پائیک نے 30 ستمبر کو زہریلے انجکشن کے ذریعے سزائے موت دیے جانے کی ناکام کوشش کے بعد گزشتہ روز پہلی بار بیان دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ مجھے خود بھی نہیں معلوم کہ میں زندہ کیسے بچ گئی
پاک بھارت جنگ مصنوعی تھی ،سینیٹر ایمل ولی کا دعویٰ
سزائے موت ملنے کی ناکام کوشش کی رات کے بعد سے ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا جب مجھے درد محسوس نہ ہوا ہو، مجھے بازو، ہاتھ اور گلے میں شدید تکلیف ہے، ذہنی اور جذباتی اذیت بھی برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔کرسٹا پائیک نے اس واقعے کو حکام کی نااہلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے کئی افراد کو سنگین صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔جیل واپس منتقل ہونے والی کرسٹا پائیک نے اپنی جان بچانے والے طبی عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اب صحت یابی پر توجہ دے رہی ہوں۔
آزادکشمیر ،باغ میں گھر میں دھماکے سے 3 خواتین سمیت 4 افراد جاں بحق،بچی زخمی

