Skip to main contentSkip to footer

چین میں 13 فٹ طویل ہیومنائیڈ روبوٹ متعارف

چین میں 13 فٹ طویل ہیومنائیڈ روبوٹ متعارف

چین کے ایک سٹارٹ اپ نے 13 فٹ طویل مصنوعی ذہانت سے لیس ہیومنائیڈ روبوٹ متعارف کروا دیا۔روبوٹ کے بارے میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ 500 کلوگرام تک وزن اٹھانے کے ساتھ سوئی میں دھاگا ڈالنے جیسے انتہائی باریک کام بھی انجام دے سکتا ہے۔بیجنگ میں قائم کمپنی نیوڈرا ڈائنامکس کے مطابق Neo1 نامی اس روبوٹ کو صنعتی ماحول میں مشکل اور بھاری کام انجام دینے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ روبوٹ اپنے دونوں بازوں کی مدد سے ایک چھوٹی گاڑی یا مکمل گائے کے برابر وزن اٹھا سکتا ہے۔کمپنی کے بانی یانگ تا کے مطابق روبوٹس کو صرف انسانی شکل کی نقل تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں انسانی جسمانی صلاحیتوں سے آگے بڑھ کر کام کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔

بھارت میں طوفانی نظام کے اثرات،آسمان سرخ ہوگیا

تقریبا 1.2 میٹرک ٹن وزنی اس روبوٹ میں روایتی الیکٹرک موٹرز کے بجائے ہائیڈرولک ایکچیویٹرز استعمال کیے گئے ہیں، جو اس کی جسمانی طاقت میں اضافہ کرتے ہیں۔کمپنی کا دعوی ہے کہ روبوٹ کی انگلیوں کے سروں کی درستگی 0.01 ملی میٹر تک ہے، جس کی مدد سے یہ سوئی میں دھاگا ڈالنے جیسے باریک کام بھی کرسکتا ہے۔Neo1 کو رواں ماہ ہونے والے چائنا انٹرنیشنل انڈسٹری فیئر 2026 میں متعارف کروایا گیا۔ اسے بھاری مشینری کی اسمبلی، کان کنی اور قدرتی آفات کے بعد ملبہ ہٹانے جیسے کاموں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔نیوڈرا ڈائنامکس کے مطابق ہائیڈرولک اور الیکٹرک ٹیکنالوجی کے امتزاج سے روبوٹس کی طاقت اور پائیداری سے متعلق بنیادی مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔کمپنی اپنی ویب سائٹ پر اسے سپر ہیومنائیڈ روبوٹ قرار دیتی ہے اور دعوی کرتی ہے کہ مجسم مصنوعی ذہانت کی مدد سے مستقبل میں اسے گھریلو استعمال کے لیے بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔

جین زی کا احتجاج جرمنی تک پہنچ گیا، لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

تاہم، کمپنی نے ابھی تک روبوٹ کی بیان کردہ صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ نہیں کیا۔ صنعتی نمائش میں پیش کیے گئے ماڈل میں اس کے اعضا کی محدود حرکت دکھائی گئی۔چین میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس کو قومی اقتصادی حکمت عملی میں اہم مقام دیا گیا ہے۔ ملک کے قومی ادار شماریات کے مطابق چین میں پہلے ہی 20 لاکھ سے زیادہ صنعتی روبوٹ کام کر رہے ہیں۔انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کی گزشتہ ماہ جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں فیکٹریوں میں نصب کیے جانے والے نئے روبوٹس میں چین کا حصہ 59 فیصد ہے۔ چین دنیا بھر میں ہیومنائیڈ روبوٹ بنانے والی نصف سے زیادہ کمپنیوں کا مرکز بھی ہے۔

پاکستانی رکشے فلپائن کی سڑکوں پر چلنے کے لیے تیار

زہر سے سزائے موت پا کر بچ جانیوالی خاتون کا بیان سامنے آگیا

اگلی پوسٹ
پلوٹو کے مدار سے آگے ایک ممکنہ نئے بونے سیارے کی نشاندہی
پچھلی پوسٹ
ایل پی جی کی قیمت کم نہ ہو سکی، صارفین 600 روپے فی کلو خریدنے پر مجبور