Skip to main contentSkip to footer

ٹرمپ کے سیاسی مستقبل کا امتحان قریب، امریکی وسط مدتی انتخابات منگل کو ہوں گے

ٹرمپ کے سیاسی مستقبل کا امتحان قریب، امریکی وسط مدتی انتخابات منگل کو ہوں گے

)امریکا میں وسط مدتی انتخابات منگل 3 نومبر کو ہوں گے، جن کے نتائج سے فیصلہ ہوگا کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کس سیاسی جماعت کا کنٹرول ہوگا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے آئندہ 2 سال اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کتنا آسان یا مشکل رہے گا۔اس وقت سینیٹ میں ری پبلکنز کو 53 جبکہ ڈیموکریٹس کو 47 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل ہے، ڈیموکریٹس کو دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہوگا۔دوسری جانب حالیہ سرویز کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس سے ری پبلکن جماعت کیلئے انتخابی چیلنجز بڑھنے کا امکان ہے۔انتخابات کے نتائج نہ صرف کانگریس میں طاقت کا توازن طے کریں گے بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، قانون سازی اور آئندہ 2 سال کی سیاسی سمت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

جین زی کا احتجاج جرمنی تک پہنچ گیا، لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

دوسری جانب امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں اب ایک ہفتے سے بھی کم وقت باقی ہے اور یونیورسٹی آف فلوریڈا الیکشن لیب کے اعداد و شمار کے مطابق روزانہ 40 سے 50 لاکھ کے درمیان قبل از وقت ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جو گذشتہ بیشتر انتخابات کے مقابلے میں کہیں زیادہ شرح ہے۔ڈیٹا بیس چلانے والے پروفیسر مائیک میک ڈونلڈ کے مطابق اب تک اوسط سے زیادہ ووٹر ٹرن آٹ ٹیکساس میں دیکھا گیا ہے۔ ہسپانوی نژاد امریکی برادریوں میں بھی ووٹنگ کی شرح معمول سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔مجموعی طور پر ووٹر ٹرن آئو ٹ 2020 کے مقابلے میں زیادہ رہنے کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے، اور ممکن ہے کہ 2018 کا ریکارڈ بھی ٹوٹ جائے، جس نے 1914 کے بعد کسی بھی وسط مدتی انتخاب میں سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آٹ کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔میک ڈونلڈ کے مطابق ٹیکساس میں 2022 کے مقابلے میں تقریبا 17 لاکھ 50 ہزار زیادہ ووٹرز پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ریاست میں 58 لاکھ سے زائد بیلٹ کاسٹ ہو چکے ہیں۔ ٹیکساس ایک اہم انتخابی میدان بن کر ابھرا ہے، جہاں کے نتائج یہ طے کر سکتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے باقی عرصے میں سینیٹ کا کنٹرول کس جماعت کے پاس ہوگا۔ان ریاستوں کے اعداد و شمار جہاں ووٹرز کو سیاسی وابستگی درج کرانا ضروری ہے

گورنر راج اور ایمرجنسی نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو نقصان ہو سکتا تھا،شہبازشریف

ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں کی ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ رپبلکن ووٹرز کی قبل از وقت ووٹنگ کی تعداد مجموعی طور پر 2022 کے برابر ہے۔میک ڈونلڈ کے مطابق ایسے ووٹرز کی جانب سے بھی قبل از وقت ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے جنہوں نے کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ظاہر نہیں کی، تاہم دستیاب اعداد و شمار سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے کس امیدوار کو ووٹ دیا۔ گزشتہ روز کے اعداد و شمار کے مطابق قبل از وقت ڈالے گئے ووٹوں میں سے 44 فیصد ڈیموکریٹس، 31.2 فیصد ریپبلکنز اور 24.7 فیصد غیر وابستہ ووٹرز کے تھے۔ تاہم یہ اعداد و شمار صرف ان تقریبا نصف ریاستوں سے متعلق ہیں جہاں سیاسی وابستگی درج کرنا لازمی ہے۔شمالی کیرولائنا، جارجیا اور فلوریڈا وہ تین ریاستیں ہیں جہاں رجسٹریشن کے وقت نسلی شناخت بھی درج کرنی ہوتی ہے۔ ان ریاستوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہسپانوی اور سیاہ فام برادریوں کی ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے

پاک بھارت جنگ مصنوعی تھی ،سینیٹر ایمل ولی کا دعویٰ

جبکہ سفید فام ووٹرز کی شرکت 2022 کی قبل از وقت ووٹنگ کے برابر ہے۔میک ڈونلڈ کے مطابق، یہ فطری بات ہے کیونکہ نسلی اقلیتوں کی برادریاں زیادہ تر ڈیموکریٹک اتحاد کا حصہ ہوتی ہیں، جبکہ سفید فام ووٹرز عموما ریپبلکن اتحاد سے وابستہ ہوتے ہیں۔ٹیکساس میں ووٹرز کے لیے سیاسی وابستگی یا نسلی شناخت درج کرنا ضروری نہیں، تاہم اعداد و شمار میکسیکو کی سرحد سے متصل بعض اضلاع میں ووٹنگ میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں 90 فیصد سے زیادہ آبادی ہسپانوی نژاد افراد پر مشتمل ہے۔میک ڈونلڈ کا کہنااہے کہ جب میں ان اضلاع کو دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض صرف قبل از وقت ووٹنگ ہی کے دوران 2022 کے مجموعی ٹرن آئوٹ سے آگے نکل جائیں گے۔

 

سہیل آفریدی پارٹی کا بھٹا بٹھاکر وی آئی پی تحویل میں مرغے کھا رہے ہیں،بیرسٹرسیف

اگلی پوسٹ
حوثیوں کا مکہ کی جانب داغا گیا ڈرون فضا میں تباہ
پچھلی پوسٹ
پلوٹو کے مدار سے آگے ایک ممکنہ نئے بونے سیارے کی نشاندہی