سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ملک عمران اسحق نے شہر بھر میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران قانونی طور پر رجسٹرڈ دکانوں، مارکیٹوں اور نجی املاک کومسما ر کئے جانے کے حو الے سے تاجروں کے خدشات کو مؤثر انداز میں اٹھایا اور متاثرہ دکانداروں اور مالکان کیلئے خصوصی معا وضہ، مالی پیکیج کا مطالبہ کیا۔ تا جرو ں کے مذکورہ تحفظات گذشتہ رو ز صدر ملک عمر ان کی سر بر اہی میں تا جرو ں کے سرحد چیمبر کے وفد کی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران اٹھایا گیا۔ سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر نعیم الرحمٰن، نائب صدر عابد پرویز اعوان اور بزنس مین فورم کے لیڈر و سابق صدر ایف پی سی سی آئی غضنفر بلوروفد کے ہمر ا ہ تھے۔وفد نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے سامنے تا جرو ں کے مسا ئل کے حوا لے سے مختلف اہم نکات پیش کیے۔ سر حد چیمبر کے صدر ملک عمر ان ا سحق نے ملا قا ت کے دور ان تاجروں کے جائز تحفظات کو دور کرنے کیلئے قابلِ عمل تجاویز پیش کیں۔
سرحد چیمبر کا تاجر و صنعتکاروں کے مسائل کے حل کیلئے ورکنگ گروپس تشکیل دینے کا اعلان
ملاقات میں دیگر امور کیساتھ ساتھ تجا وزا ت کے خلا ف جار ی گر ینڈ ا ٓپر یشن مرکزی موضوع رہا اور مذکورہ مہم کے دوران قانونی دکانوں اور مارکیٹوں کو مسمار کیے جانے پر تاجروں کے تحفظات تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔صدر ملک عمران اسحق نے حکومت پنجاب کی طرز پر، تجاوزات کے خلاف مہم سے متاثرہ تاجروں کومنصفا نہ معاوضہ فر اہم کر نے کیلئے ہنگا می بنیاد وں پر ا قدا ما ت ا ْٹھا نے کا پْر زور مطا لبہ کیا۔انھو ں نے تجا وزا ت ا ٓپر یشن سے متا ثرہ کا رو بار، دوکا ن اور ما رکیٹ کے تاجرو ں متبادل انتظامات تحت جگہ فر اہم کر نے تجو یز پیش کی۔ صدر ملک عمر ان ا سحق نے سرکاری اداروں اور تاجر برادری کے درمیان ہم آہنگی وتعا وں کی فضا ء کو بر قرا ر رکھنے کیلئے حکو مت پالیسیوں اور متعلقہ حکام کی ہدایات کے نفاذ سے قبل چیمبر اور تاجروں سے مشاورت کی جانی چاہیے تاکہ کاروباری برادری کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کو یقینی بنا یا جا سکے۔سر حد چیمبرکے صدر نے خیبر پختونخوا میں معاشی، کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں میں سست روی کی بنیادی وجوہات کو تفصیلی طور پر بیا ن کر تے ہوئے صوبے میں صنعت کاری اور کاروبار کو فروغ دینے کیساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی خاطر ایک جامع خصوصی مالیاتی ریلیف پیکیج فراہم کرنے پر زور دیا۔صدر ملک عمران اسحق نے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی توجہ پشاور ایکسپو سینٹر کی تکمیل میں درپیش فنڈز کی کمی اور دیگر رکاوٹوں کی جانب بھی مبذول کر اتے ہو ئے گورنر سے مذکورہ میگا پراجیکٹ کی جلد تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت کیساتھ مو ثر ا ند ا ز میں بات کر نے کا مطا لبہ کیاتاکہ تاجروں اور برآمد کنندگان کو سہولت مل سکے اور ملک کی برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔سر حد چیمبر کے صدر ملک عمرا ن ا سحق نے چینی سفا رخانے کیسا تھ ’چیمبر ویزا لیٹر‘ کا قبول کیا جانا کے مسئلہ کو ا ْجا گر کر تے ہو ئے گورنر خیبر پختونخوا سے مرکزی حکومت اور سفارتی ذرائع کے ذریعے چینی سفارت خانے کیساتھ اس معاملے کو مؤثر طریقے سے اٹھا نے کی در خوا ست کی تا کہ چیمبر کے رجسٹر ڈ ممبرا ن کی مشکلات کا از الہ ہو اور وہ کاروبا ر و تجا رت کو بڑھا نے میں اپنے کر دا ر ادا کرتے رہیں۔
معاشی ترقی میں چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کاکردار مسلمہ ہے،سر حد چیمبر
صدر ملک عمران اسحق نے تاجر برادری کی مشکلات اور مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے گورنر کے مشیر برائے صنعت و تجارت کی نگرانی میں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی جسمیں تمام متعلقہ سرکاری اداروں اور محکموں کی نمائندگی شامل کر نے کی ضرورت پر زور دیا۔سر حد چیمبر کے صدر ملک عمر ان اسحق نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا ملا قا ت کے دوران زیر بحث آنے والے تاجر برادری کے مسائل کا بغور جائزہ لیا اور ان تمام مسائل کو بروقت حل کرنے کیلئے ہدایات جاری کر نے اور بھر پور تعا ون پر شکر یہ اداکیا۔صدر ملک عمران اسحق نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تاجر برادری کے مسائل کے جلد حل، خصوصی مالیاتی ریلیف پیکیج کے حصول اور خیبر پختونخوا میں معیشت، کاروبار اور صنعت کی ترقی کیلئے مضبوط تعلقات وروابط، باہمی رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔گورنر خیبر پختو نخوا فیصل کریم کنڈی نے یقین دہانی کرائی کہ شہر بھر میں جار ی تجاوزات کیخلاف مہم سے متاثرہ تاجروں کیلئے خصوصی معاوضہ پیکیج کی کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ، چیمبر کی سفارشات کی روشنی میں، خیبر پختونخوا کی تاجر برادری کے تمام مسائل کو مرکزی اور صوبائی انتظامیہ/حکام کے سامنے مؤثر طریقے سے اٹھایا جائے گا تاکہ ان کا حل نکالا جا سکے۔
سرحد چیمبر کا کاروباری و تجارتی سرگرمیوں کے اوقات کار میں نرمی کا مطالبہ
سرحد چیمبر کا تجاوزات خاتمے کیلئے مشترکہ میکنزم و حکمت عملی وضع کرنے کا مطالبہ

