سرحد چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ملک عمران اسحق نے گذشتہ روز مشاورتی ا جلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہر بھر میں ناجا ئز تجاوزات کے خاتمہ کے لئے چیمبر، تا جر بر داری اور حکومتی اداروں کے مابین مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کا مطا لبہ کیا ہے۔ اجلا س کے دور ان انجمن تا جر ان پشاور کے چیر مین اور سینئر تا جر رہنما شو کت علی خان، سر حد چیمبر کے سینئر نا ئب صدر نعیم ا لر حما ن اور سیکر ٹری جنرل مقتصد احسن بھی مو جو د تھے۔ اجلاس کے شر کا ء نے نا جا ئز تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں کے ممکنہ معاشی و سماجی اثرات، چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو درپیش خدشات، کاروباری املاک کے تحفظ اور انتظامیہ کیلئے ایک قابلِ عمل طریقہ کار کی تیاری سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔سر حد چیمبر کے صدر ملک عمر ان نے اس موقع پر اظہار خیا ل کرتے ہو ئے مو جودہ حالا ت کے تنا ظر کاروبار و صنعت اور تجار ت پہلے ہی جمو د کا شکار ہے اور تا جر بر داری شد ید پر یشان حال ا ور مشکلا ت سے دو چا رہے ایسے حالا ت کے با وجود تا جر بر داری حکو مت کے معا شی استحکا م و تر قی اور کار وبا رو ی اور تجار تی سر گر میو ں کے فر وغ کیلئے اپنا بھر پور کر دا ر جا ری رکھے ہوئے ہے انکی دادرسی اور نقصا نا ت کا ا زالہ کرنا چا ہے۔
معاشی ترقی میں چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کاکردار مسلمہ ہے،سر حد چیمبر
سرحد چیمبر کے صدر ملک عمران اسحق نے پشاور میں تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے دو ران قانونی کاروباروں کے تحفظ، متاثرہ افراد کیلئے متبادل انتظامات اور کارروائی سے قبل واضح طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کی بہتری کیلئے کیے جانے والے اقدامات کو معاشی بے یقینی، بے روزگاری اور انسانی مشکلات کا سبب نہیں بننا چاہیے۔صدر سرحد چیمبر نے کہا کہ چھوٹے کاروباربے شما ر گھر انو ں کیلئے روزی کابڑ ا زریعہ ہے اور کسی مناسب مہلت، متبادل انتظام اور انسانی پہلوؤں کو مدنظر رکھے بغیر اچانک کارروائی ان خاندانوں کو مزید معاشی بدحالی اور غربت کی طرف دھکیل سکتی ہے جو پہلے ہی مشکل حالات میں اپنی گزر بسر کر رہے ہیں۔انجمن تا جر ان پشاور کے چیر مین شو کت علی خان نے تجویز پیش کی کہ تجاوزات کے خلاف کسی بھی کارروائی سے قبل متعلقہ بازاروں، تجارتی مراکز اور آبادیوں کو کم از کم 7 سے 10 روز کا تحریری نوٹس دیا جائے جس میں تجاوزات کی نوعیت، متعلقہ قانونی حدود، مطلوبہ اصلاحی اقدامات اور کارروائی کی متوقع تاریخ واضح طور پر درج ہو۔تاجر رہنما شوکت علی خان نے مزید کہا کہ جہاں غیر قانونی تعمیرات، بازاروں یا رہائشی آبادیوں کی منتقلی ناگزیر ہو، وہاں متعلقہ قوانین اور دستیاب وسائل کے مطابق متبادل مقامات، عارضی انتظامات اور بحالی کے قابلِ عمل منصوبوں پر پیشگی غور کیا جائے۔
سرحد چیمبر کا تاجر و صنعتکاروں کے مسائل کے حل کیلئے ورکنگ گروپس تشکیل دینے کا اعلان
ملک عمران اسحاق نے تجویز دی کہ ضلعی انتظامیہ، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، انجمن تاجران پشاور، تمام متعلقہ بازار ایسوسی ایشنز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی نمائندگی پر مشتمل ایک مشترکہ مشاورتی و رابطہ میکنزم تشکیل دیا جائے۔ اس میکنزم کے تحت تجاوزات کی نشاندہی، قانونی دستاویزات کی جانچ، پیشگی نوٹس، شکایات کے ازالے، متبادل انتظامات اور کارروائی کی نگرانی کے لیے واضح اور یکساں ایس او پیز مرتب کیے جائیں تاکہ انتظامی فیصلوں میں شفافیت، یکسانیت اور جوابدہی یقینی بنائی جاسکے۔صدر سرحد چیمبر نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ تجاوزات کے خلاف مہم کو محض انہدامی کارروائیوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے شہری نظم و نسق، قانونی کاروباری سرگرمیوں کے تحفظ اور متاثرہ افراد کی منصفانہ منتقلی کے ایک جامع منصوبے کی صورت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی اصل کامیابی صرف تجاوزات ہٹانے میں نہیں بلکہ قانون کی بالادستی قائم رکھتے ہوئے شہریوں کی جان و مال، جائز روزگار اور معاشی مستقبل کے تحفظ میں بھی مضمر ہے۔ سرحد چیمبر اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعاون جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
بلدیاتی اداروں کیلئے 72 کروڑ 92 لاکھ روپے کے فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ

