Skip to main contentSkip to footer

خیبر پختونخوا میں سونے کے اربوں روپے کے ٹھیکوں پر نیب کے اعتراضات

خیبر پختونخوا میں سونے کے اربوں روپے کے ٹھیکوں پر نیب کے اعتراضات

خیبر پختونخوا میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کنارے سونے کی تلاش اور کان کنی کے لیے دیے گئے اربوں روپے کے ٹھیکوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آگیا ہے۔ نیب کے اعتراضات، معدنی بلاکس کی بنیادی قیمتوں کے تعین، نیلامی کے طریقہ کار، ماحولیاتی منظوریوں اور کان کنی کی سرگرمیوں سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ روزنامہ دی نیوز کی 25 اگست 2025 کی رپورٹ کے مطابق، نیب نے معدنی بلاکس کی کم بنیادی قیمتیں مقرر کیے جانے، جیولوجیکل مطالعات کو نظر انداز کرنے، لیز کی غیر مجاز ذیلی منتقلی اور سونے کی پیداوار و فروخت کا مکمل ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ بعد ازاں صوبائی حکومت نے نیلامی اور کان کنی کے معاملات کی تحقیقات کے لیے انکوائری کا فیصلہ بھی کیا۔

ستمبر 2026 میں ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں بھی سونے کی مبینہ غیر قانونی کان کنی، بھاری مشینری کے استعمال اور سونے کی بیرون ملک اسمگلنگ سے متعلق ایف آئی آر میں درج الزامات سامنے آئے۔ تاہم ان الزامات کو کسی حتمی عدالتی فیصلے یا ثابت شدہ بدعنوانی کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

چار معدنی بلاکس کی نیلامی تقریباً 4 ارب 93 کروڑ روپے میں ہوئی

اکتوبر 2024 میں خیبر پختونخوا حکومت نے دریائے سندھ کے کنارے سونے کی تلاش اور کان کنی کے لیے چار معدنی بلاکس کی نیلامی کا اعلان کیا تھا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس نیلامی سے صوبائی خزانے کو مجموعی طور پر تقریباً 4 ارب 93 کروڑ روپے کی آمدن متوقع تھی۔

اے پی پی کی 11 اکتوبر 2024 کی رپورٹ کے مطابق چاروں بلاکس کی کامیاب بولیوں کی تفصیلات یہ تھیں:
– بلاک اے: گلوبا کور پرائیویٹ لمیٹڈ — ایک ارب 25 کروڑ روپے۔
– بلاک بی: ماجکو پرائیویٹ لمیٹڈ — ایک ارب 26 کروڑ 10 لاکھ روپے۔
– بلاک سی: ہمالیہ ارتھ پرائیویٹ لمیٹڈ — ایک ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے۔
– بلاک ڈی: شکردرہ منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ — ایک ارب 11 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد۔
ان بولیوں کا مجموعی تخمینہ تقریباً 4 ارب 92 کروڑ 71 لاکھ روپے بنتا ہے، جسے رپورٹنگ میں تقریباً 4 ارب 93 کروڑ روپے بتایا گیا۔

اس وقت صوبائی حکومت کے نمائندوں نے نیلامی کو معدنی وسائل سے آمدن بڑھانے اور غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کی کوشش قرار دیا تھا۔ بعد ازاں بنیادی قیمتوں کے تعین اور ٹھیکوں کی شرائط پر اعتراضات سامنے آئے، جس سے پورے عمل کی شفافیت پر بحث شروع ہوئی۔ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق نیب کے اعتراضات میں ایک اہم نکتہ معدنی بلاکس کی بنیادی قیمتوں کا تعین تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیشنل سینٹر آف ایکسیلینس اِن جیولوجی، پشاور کی 2015 کی تحقیق میں سونے کی مقدار سے متعلق معلومات موجود تھیں، لیکن ان معلومات کو نیلامی کی قیمتیں مقرر کرتے وقت مناسب طور پر استعمال نہ کیے جانے پر سوالات اٹھائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق سونے کے ذخائر کی درست مقدار اور ان کی ممکنہ تجارتی قدر کا تعین کیے بغیر بنیادی قیمتیں مقرر کیے جانے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نیب کے اعتراضات میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ معدنی وسائل کی نئی جانچ کے لیے شروع کیے گئے جیولوجیکل میپنگ منصوبے کو نومبر 2023 میں کیوں روک دیا گیا، جبکہ اس سے سونے کے ذخائر کی بہتر جانچ اور بنیادی قیمتوں کے تعین میں مدد مل سکتی تھی۔

 

یہ اعتراضات اس لیے اہم ہیں کہ معدنی وسائل کی نیلامی میں بنیادی قیمتوں کا تعین صوبائی حکومت کی آمدن اور عوامی اثاثوں کے تحفظ سے براہ راست تعلق رکھتا ہے۔ تاہم قیمتوں کے تعین میں دانستہ غلطی یا کسی بولی دہندہ کو فائدہ پہنچانے کے الزامات کی حتمی حیثیت متعلقہ تحقیقات کے نتائج سے ہی طے ہو سکتی ہے۔ نیب کے اعتراضات میں معدنی ٹھیکوں کے معاہدوں اور الاٹمنٹ لیٹرز کے اجرا کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق متعلقہ قواعد کے تحت مقررہ 14 روز میں معاہدہ مکمل نہ ہونے کی صورت میں پیشکش واپس لینے کا معاملہ زیر بحث آیا، لیکن تاخیر کے باوجود الاٹمنٹ لیٹرز جاری کیے جانے کے الزامات سامنے آئے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ نومبر 2024 میں پشاور ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کے باوجود کان کنی کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ عدالتی حکم کے دوران کام جاری رکھنے کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی۔ تاہم حکم امتناعی کی مخصوص شرائط، اس کا اطلاق کن بلاکس پر تھا اور اس کی مبینہ خلاف ورزی کے ذمہ دار کون تھے، ان نکات کی تصدیق عدالتی حکم اور متعلقہ سرکاری ریکارڈ سے ضروری ہے۔

پولیس کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ، 32 سالہ غیرقانونی نوکری

سونے کی کان کنی کے معاملے میں سب سے اہم الزامات میں سے ایک دریاؤں کے کنارے بھاری مشینری کے ذریعے مبینہ غیر قانونی استخراج ہے۔ دی نیوز کی 25 اگست 2025 کی رپورٹ کے مطابق نیب سے منسوب دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متعلقہ علاقوں میں 1500 سے زائد ایکسکیویٹرز استعمال کیے جا رہے تھے۔ لیز ہولڈرز کی جانب سے ہر ایکسکیویٹر سے ہفتہ وار 5 لاکھ سے 7 لاکھ روپے وصول کیے جانے کے الزامات بھی رپورٹ ہوئے۔ ان اعدادوشمار کی بنیاد پر ہفتہ وار آمدن 75 کروڑ سے ایک ارب روپے یا اس سے زائد ہونے کا تخمینہ پیش کیا گیا۔ یہ رقم مبینہ سرگرمیوں سے متعلق تخمینہ ہے، نہ کہ عدالت یا کسی حتمی آڈٹ سے ثابت شدہ آمدن۔ ستمبر 2026 میں ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں بھی ایف آئی آر کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کنارے نوشہرہ، صوابی اور کوہاٹ سمیت مختلف علاقوں میں 1500 سے زیادہ بھاری مشینیں غیر مجاز طور پر استعمال ہو رہی تھیں۔ ایف آئی آر میں مبینہ طور پر حاصل ہونے والے سونے پر ٹیکس کی عدم ادائیگی اور اسے سرحد پار اسمگل کرنے کے الزامات بھی شامل تھے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور ان میں نامزد یا زیر تفتیش افراد کی ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالتوں کا کام ہے۔

نیب سے متعلق رپورٹنگ میں کان کنی کے دوران ماحولیاتی قوانین اور معدنی ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔ ان اعتراضات میں درج ذیل امور شامل تھے:
– ماحولیاتی اثرات کے جائزے اور متعلقہ اجازت ناموں کی عدم موجودگی کے الزامات۔
– منظور شدہ مائننگ پلان اور معدنی وسائل نکالنے کی اسکیم پر عمل درآمد سے متعلق سوالات۔
– سونے کی پیداوار، فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا مکمل ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے کے اعتراضات۔
– لیز کی مبینہ غیر مجاز ذیلی منتقلی اور کان کنی کے کام میں تیسرے فریق کی شمولیت۔
– سونا نکالنے کے عمل میں پارے (مرکری) کے غیر محفوظ استعمال سے متعلق ماحولیاتی خدشات۔
دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ان امور کو منرل آکشن رولز 2022 اور متعلقہ ماحولیاتی ضوابط کی روشنی میں دیکھا گیا تھا۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد کیا ہونے جا رہا ہے؟

جنوری 2025 میں ڈان نے رپورٹ کیا تھا کہ پشاور ہائیکورٹ نے کوہاٹ کے علاقے خوشحال گڑھ میں سونے کی کان کنی کے دوران پارے کے استعمال کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کا حکم دیا اور متعلقہ لیز ہولڈر کو مزید حکم تک کان کنی سے روکنے کا عبوری ریلیف برقرار رکھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کان کنی کے منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ کا معاملہ بھی عدالتی سطح پر زیر بحث رہا ہے۔ دی نیوز کی 26 اگست 2025 کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کابینہ کے اجلاس میں سونے کی کان کنی کے بلاکس کی نیلامی اور اس کے بعد ہونے والی سرگرمیوں کی جامع تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق انکوائری کمیٹی کو بنیادی قیمتوں کے تعین، نیلامی کے طریقہ کار اور کان کنی کے دوران سامنے آنے والی مبینہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی۔ کمیٹی کو 15 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا کہا گیا تھا۔ تاہم دستیاب رپورٹ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انکوائری کی حتمی رپورٹ میں کیا نتائج اخذ کیے گئے، کن افراد کی ذمہ داری متعین ہوئی یا کسی کے خلاف حتمی کارروائی کی سفارش کی گئی۔ اس لیے انکوائری کے قیام کو بدعنوانی ثابت ہونے کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے معدنی بلاکس کی نیلامی کا دفاع کیا تھا۔ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ان کا مؤقف تھا کہ ان کی حکومت نے پہلے کے مقابلے میں زیادہ قیمت مقرر کرکے چار بلاکس تقریباً 4 ارب 60 کروڑ روپے میں دس سال کے لیے نیلام کیے۔ ان کے مطابق ماضی میں ایک بلاک کی قیمت تقریباً 65 کروڑ روپے تک رہی تھی، جبکہ ان کی حکومت نے کم از کم قیمت تقریباً ایک ارب 10 کروڑ روپے مقرر کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نیلامی میں قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور اس عمل میں نیب کے ایک افسر کی موجودگی تھی۔ گنڈاپور نے جیولوجیکل اسٹڈی کے کام کو روکے جانے کے معاملے پر بھی سوال اٹھایا تھا۔ یوں ان کا مؤقف نیلامی کے دفاع اور سرکاری آمدن بڑھانے پر مبنی تھا، جبکہ نیب سے منسوب اعتراضات میں بنیادی قیمتوں کے تعین اور قواعد پر عمل درآمد کی جانچ کا مطالبہ کیا گیا۔

بیرسٹر گوہر، محمود اچکزئی نے ایمرجنسی کیخلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

معاملے میں اب اہم سوالات کیا ہیں؟
دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کنارے سونے کی کان کنی کے ٹھیکوں سے متعلق تنازع میں چند بنیادی سوالات کے جواب سامنے آنا ضروری ہیں:
1. کیا نیلامی سے پہلے سونے کے ذخائر اور ان کی تجارتی قدر کا قابل اعتماد تخمینہ لگایا گیا تھا؟
2. کیا چاروں بلاکس کی بنیادی قیمتیں مقرر کرتے وقت متعلقہ جیولوجیکل مطالعات کو مدنظر رکھا گیا؟
3. کیا تمام معاہدے اور الاٹمنٹ لیٹرز متعلقہ قواعد اور عدالتی احکامات کے مطابق جاری ہوئے؟
4. کیا کان کنی کے دوران ماحولیاتی منظوری، مائننگ پلان اور پیداوار و فروخت کا ریکارڈ برقرار رکھا گیا؟
5. کیا لیز ہولڈرز کی جانب سے غیر مجاز سب لیزنگ یا غیر قانونی کان کنی کے الزامات کی تصدیق ہوئی؟
6. انکوائری کے نتیجے میں کن سرکاری اہلکاروں، کمپنیوں یا دیگر افراد کے کردار سے متعلق کوئی حتمی نتیجہ اخذ کیا گیا؟
ان سوالات کے واضح جوابات کے لیے نیب کی تازہ ترین تحقیقاتی رپورٹ، صوبائی حکومت کی انکوائری کے نتائج، محکمہ معدنیات کا ریکارڈ اور متعلقہ عدالتی احکامات اہم ہوں گے۔

 

خیبرپختونخوا کے سرکاری افسران و اہلکاروں کیخلاف 827 کیسز سامنے آگئے

اگلی پوسٹ
پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں ایل پی جی 600 روپے کلو ہوگئی
پچھلی پوسٹ
گلگت بلتستان،لینڈ سلائیڈنگ کے باعث جگلوٹ اسکردو شاہراہ بند