خیبر پختونخوا حکومت نے سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع میں 25 ڈائریکٹوریٹس اور بڑے سرکاری اداروں کا انتظامی کنٹرول ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت متعلقہ اداروں کے انتظامی، مالی اور رپورٹنگ نظام میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ محکمہ انسانی وسائل و انتظامی امور خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ ادارے اب ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ کے انتظامی کنٹرول میں کام کریں گے، جبکہ ان کی رپورٹنگ متعلقہ سیکریٹریز کو ہوگی۔ اداروں کا انتظامی کنٹرول ایڈیشنل چیف سیکریٹری یا ایڈمنسٹریٹر کے ماتحت ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اداروں کی منتقلی کے دوران ان کے اختیارات، ذمہ داریوں، سرکاری ریکارڈ، اثاثوں، واجبات، منظور شدہ اسامیوں اور دیگر وسائل سے متعلق معاملات بھی نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت مرتب کیے جائیں گے۔
کن اداروں کا کنٹرول تبدیل ہوگا؟
نئے انتظامی نظام میں تعلیم، زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، بہبودِ آبادی، زراعت، لائیو اسٹاک، ڈیری ڈویلپمنٹ، ماہی پروری اور جنگلات سے متعلق ادارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آبپاشی، پن بجلی، کھیل، صنعت، فنی تعلیم، معدنیات، تیل و گیس، چھوٹے ڈیموں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کے اداروں کو بھی شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح بلدیاتی حکومت و دیہی ترقی، ورکس اینڈ سروسز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ڈائریکٹر جنرل پراجیکٹس، منصوبہ بندی و ترقیات سے متعلق اداروں اور محکمہ اطلاعات کو بھی نئے انتظامی کنٹرول میں شامل کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق انتظامی تبدیلیوں کے باوجود موجودہ سرکاری ملازمین اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔ انتظامی کنٹرول کی منتقلی سے ملازمین کے سروس اسٹیٹس، سینیارٹی، پنشن اور دیگر جائز مراعات متاثر نہیں ہوں گی، جبکہ اس اقدام کو کیڈر یا مستقل تقرری میں تبدیلی تصور نہیں کیا جائے گا۔ افسران اور اہلکاروں کے بین المحکمانہ تبادلوں کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری یا ایڈمنسٹریٹر کی سفارش کے ساتھ چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق محکمہ خزانہ کو ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ اور متعلقہ محکموں کی مشاورت سے بجٹ اور مالی معاملات طے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تنخواہوں، دفتری اخراجات، ترقیاتی فنڈز، ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران (ڈی ڈی اوز) اور مالی اختیارات سے متعلق ضروری انتظامات بھی نئے نظام کے مطابق کیے جائیں گے۔
پاکستان کا دہشت گردوں کیلئے بھارت کی بڑھتی حمایت پر اظہارِ تشویش
متعلقہ ادارے فی الحال اپنے موجودہ دفاتر سے کام جاری رکھیں گے اور موجودہ فرنیچر، آلات، سرکاری گاڑیوں اور دیگر دفتری سہولیات کو آئندہ احکامات تک استعمال کر سکیں گے۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ انتظامی منتقلی کے دوران جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ اداروں کی منتقلی کے دوران سامنے آنے والی قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کی نشاندہی کرکے محکمہ انسانی وسائل و انتظامی امور اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری یا ایڈمنسٹریٹر سے رجوع کیا جائے گا۔ تمام متعلقہ محکموں کو نئے احکامات پر فوری عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ یہ انتظامات آئندہ احکامات تک نافذ العمل رہیں گے۔

