پشاور(ہفتہ 17 اکتوبر)خیبر پختون خوا میں گورنر راج کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں، گورنر فیصل کریم کنڈی گزشتہ ادوار میں نظر انداز کیے گئے اضلاع جن میں ایبٹ اباد شامل ہیں کی ترقی پر خصوصی توجہ دیں اور پاک فوج کو قیام امن میں بہترین کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ خیبر پختون خوا میں لوٹ مار کرنے والے سیاست دانوں کا کھل کر احتساب کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت اہلحدیث پاکستان کے نائب امیر اور امیر جمیعت اہلحدیث پاکستان کے خیبر پختون خوا مولانا فضل الرحمٰن مدنی نے ہفتہ کے روز جمعیت اہلحدیث کے صوبائی رہنماؤں سید بادشاہ اف مردان، ڈاکٹر انعام الرحمن، مولانا ابوبکر، سید صلاح الدین اور حاجی شاہجہان اف مالاکنڈ کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی قیادت سنبھال کر ایک بہترین اقدام کیا ہے کیونکہ وہ پارلیمان کا کافی تجربہ رکھتے ہیں۔
سرحد چیمبر کا کاروباری و تجارتی سرگرمیوں کے اوقات کار میں نرمی کا مطالبہ
مولانا فضل الرحمٰن مدنی نے کہا کہ اج وطن عزیز کے دفاع میں پاک فوج اور دیگر قومی ادارے جس عظمت اور جان نثاری اور قربانی کی مثال قائم کر رہے ہیں وہ تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ وفاق اور صوبے ایک پیج پر رہیں اور گزشتہ ادوار میں نظر انداز ہونے والے اضلاع کی ترقی کو اولین ترجیح دیں۔ جس میں بالخصوص ایبٹ اباد جو کبھی صوبے کا گرمائی صدر مقام اور سیاحت و تعلیم کا مرکز رہا اج ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قوم کے اثاثوں کو لوٹنے والوں کا احتساب کیا جائے۔ اور جن لوگوں نے قوم کے اربوں روپے کھائے ہیں ان سے وہ اربوں روپے اکٹھے کر کے قومی خزانے میں جمع کیے جائیں۔ مولانا فضل الرحمن مدنی نے کہا کہ اس وقت جو سیاسی کشمکش چل رہی ہے ہماری حکومت اور سیاسی و مذہبی جماعتوں سے اپیل ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے سیاسی مسائل کا حل تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکی کے مابین ہونے والا دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کے لیے بڑی کامیابی ہے انہوں نے کہا کہ تین بڑے مسلم ممالک کا یہ اتحاد اخوت کا مظہر ہے اور مشترکہ دفاعی عزم و جارحیت کے ہر ارادے کو روکنے کی قوی ضمانت ہے۔
خیبر پختو نخوا میں غیر ائینی گورنر راج لگا کر جمہوریت کو بلڈوز کیا گیا ،محمود اچکزئی
انہوں نے مزید کہا کہ وفاق نے 11 اکتوبر کو صوبے میں گورنر راج نافذ کیا اور گورنر نے انتظامی ذمہ داریاں سنبھال لی ان حالات میں عوام ان سے امن و امان کی بحالی دہشتگردی کے خاتمے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی حوصلہ بلندی گڈ گورنس اور میرٹ کی بالادستی کی توقع رکھتے ہیں ہم ان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ انتشار سے بچیں اور صوبے کے استحکام کے لیے جائز اور ائینی اقدامات میں ہم موجودہ سیٹ اپ سے بھرپور تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک سے ہونے والی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے کاروائیوں کی بھرپور انداز میں حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور حرمین شریفین کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
منتخب حکومت پر گورنر راج نافذ کرنا غیر آئینی ہے،شاندانہ گلزار





