پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ (آرٹیکل 232) سے متعلق صدارتی فیصلے کی توثیق کردی ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ وفاقی حکومت نے پہلے قومی اسمبلی اور پھر سینیٹ سے قرارداد کی منظوری لی۔سردار ایاز صادق کی زیر صدارت بدھ کے روز اجلاس شروع ہوا تو وفاقی وزیرِ برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک پیش کی۔ جس کے بعد انہوں نے ایوان میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے صدارتی فیصلے کی توثیق کی قرارداد پیش کی۔اس دوران اپوزیشن اراکین جانب سے ایوان میں احتجاج کے باوجود ایوان نے قرارداد کو کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔بعد ازاں وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اس قرارداد کو منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کیا۔ اس دوران پی ٹی آئی ارکان نے احتجاجا اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔
33 بچے، 2 اساتذہ جاں بحق، ہسپتال انتظامیہ نے رپورٹ جاری کردی
تاہم وفاقی حکومت قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی یہ قرارداد منظور کروانے میں کامیاب رہی۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی آئینی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، اندرونی خلفشار اور سرحد پار سے جاری دراندازی کے تناظر میں یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا۔وزیر قانون نے انکشاف کیا کہ وفاقی کابینہ نے ڈھائی گھنٹے کے طویل اجلاس میں حالات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد وزیراعظم کو صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز دی، جس کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت یہ فیصلہ عمل میں لایا گیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران انہوں نے صوبے میں امن و امان کی تشویشناک صورت حال کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2021 سے 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 2 ہزار 911 واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 تک یہ تعداد خطرناک حد تک بڑھ کر 3 ہزار 787 تک جا پہنچی۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اس سنگین لہر کے مقابلے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے تھا اور مسلح افواج، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیوں کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات اٹھانے چاہیے تھے، لیکن صوبائی حکومت سیکیورٹی صورت حال سے نمٹنے میں مکمل ناکام رہی۔وزیر قانون نے سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کو یقینی بنانے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں، دیگر شہروں کے دوروں اور اسلام آباد پر چڑھائی جیسے بیانات کو ترجیح دی گئی۔
بلی تھیلے سے باہر آگئی، ایمرجنسی کا فیصلہ معدنیات کیلئے کیا گیا
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے طاقت کا استعمال کرنے کے بجائے آخری وقت تک مذاکرات کا راستہ اپنایا، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثنا اللہ اور امیر مقام پر مشتمل ٹیم نے اسپیکر چیمبر میں دو روز تک اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ متعدد مسودوں پر بات چیت کی تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ انسدادِ دہشت گردی کے اہم موضوع پر بات چیت کے دوران اپوزیشن کی توجہ قید بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور انہیں سہولتیں دینے پر مرکوز رہی، جبکہ قانونی طور پر یہ اختیار صرف عدالتی نظام یا آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر مملکت کے پاس ہے۔انہوں نے ماضی کے سیاسی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2023 میں بھی ایک ساتھ انتخابات اور اسمبلیوں کی تحلیل پر اتفاقِ رائے ہو چکا تھا، لیکن فیصلے کو پی ٹی آئی قیادت نے بعد میں مسترد کر دیا جس کے بعد نو مئی کے واقعات پیش آئے اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد 10 روز کے اندر پارلیمنٹ سے اس کی منظوری حاصل کرنا آئینی تقاضا ہے، اور اس موڑ پر پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کو سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔
شانگلہ،پی ٹی آئی رہنمائوں و کارکنوں کے گھروں ، ڈیروں پر چھاپے





