صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی، کالج روڈ پر واقع نجی اسکول الخیر اسکول سسٹم کی خستہ حال عمارت کی چھت اچانک گرنے سے شہدا کی تعداد 21 ہوگئی، جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حادثے کے نتیجے میں معصوم بچے اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں بچے اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں، جبکہ 40 زخمی بچوں کو ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ہسپتال انتظامیہ نے واقعے کے بعد ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے ٹراما ہال میں زخمیوں کو فوری طبی سہولیات کی فراہمی کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر ٹیمیں اور ایمبولینسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے مزید بچوں اور افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے میں بچوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے جاں بحق بچوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی دردناک سانحہ ہے۔
سکول چھت حادثہ، خاتون ٹیچر سمیت 16 بچے شہید، 30 زخمی
انہوں نے زخمی بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کی بھی ہدایت کی۔ فیصل کریم کنڈی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید بچوں کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا کرے۔





