Skip to main contentSkip to footer

عمران خان سٹیڈیم کا نام دوبارہ ارباب نیاز سٹیڈیم رکھنے پر غور

عمران خان سٹیڈیم کا نام دوبارہ ارباب نیاز سٹیڈیم رکھنے پر غور

پشاور کے تاریخی ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم رکھنے کا فیصلہ ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا ہے۔ ڈاکٹر افشاں ارباب نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیڈیم کا سابقہ نام بحال کیا جائے۔ تاہم، نام کی بحالی سے متعلق تازہ حکومتی فیصلے یا باضابطہ اعلان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ خیبرپختونخوا حکومت نے فروری 2025 میں ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی کرکٹ کے لیے خدمات کے اعتراف میں یہ نام تجویز کیا گیا ہے۔ بعد ازاں اسٹیڈیم پر نئے نام کے بورڈ بھی نصب کیے گئے تھے۔

مارخور ہنٹنگ پرمٹس کی بولیاں 12 لاکھ 11 ہزار 800 ڈالر تک پہنچ گئیں

نام کی تبدیلی کے فیصلے کو سیاسی اور عوامی سطح پر مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ ارباب نیاز کے اہل خانہ اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے اس فیصلے پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ معاملہ عدالت تک بھی پہنچ گیا۔ مارچ 2026 میں پشاور ہائی کورٹ نے اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر خیبرپختونخوا حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کسی زندہ شخصیت کے نام پر سرکاری مقام کا نام رکھنے سے متعلق انتظامی قواعد کی پابندی ضروری ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے 6 بدنصیب بیٹسمین جو سنچری نہ کر سکے

ڈاکٹر افشاں ارباب کی جانب سے سابقہ نام بحال کرنے کے مطالبے کے تناظر میں اب یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا صوبائی حکومت اس معاملے پر نظرثانی کرے گی یا نام کی تبدیلی سے متعلق قانونی کارروائی کے نتیجے کا انتظار کیا جائے گا۔ ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم پشاور کی اہم کھیلوں کی شناخت میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے ماضی میں پاکستان اور بھارت سمیت مختلف ٹیموں کے بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی کی۔ اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش پر بھی بھاری سرکاری رقم خرچ کی گئی ہے۔

ورلڈ ریکارڈ ہولڈر رضا اللہ کا تعلق مردان سے نکلا

خیبرپختونخوا کے53 مقامات پر پرندوں کے شکار پر پابندی عائد

اگلی پوسٹ
وہ مسلمان جنہوں نے میت جلانے کی وصیت کی
پچھلی پوسٹ
گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد کیا ہونے جا رہا ہے؟