پشاور: خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہوا، جس میں صوبے سے متعلق مختلف اہم امور پر غور کرتے ہوئے متعدد فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں محکمہ انسداد دہشتگردی، صحت، تعلیم، سماجی بہبود اور دیگر شعبوں سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ سرکاری حکام کے مطابق کابینہ نے محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کے قیام کے لیے ترقیاتی اسکیم کے تحت فنڈز کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں دیہی علاقوں کے کلینلی نس پروگرام کو مالی سال 2026-27 تک توسیع دینے کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی مشترکہ قرارداد نمبر 283 کی منظوری بھی دے دی، جبکہ مالی سال 2026-27 کے تعلیمی سیشن کے لیے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کی پالیسی بھی منظور کرلی گئی۔ اجلاس میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اپیلٹ ٹریبونل رولز 2020 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری بھی دی گئی۔ سرکاری حکام کے مطابق کابینہ نے مختلف مریضوں اور درخواست گزاروں کے علاج کے لیے بھی مالی معاونت کی منظوری دی۔ 20ویں، 21ویں اور 22ویں اسکروٹنی کمیٹی کے اجلاسوں سے متعلق 38 مریضوں اور درخواست گزاروں کے علاج کے لیے مالی معاونت منظور کی گئی، جبکہ مزید 22 مریضوں اور درخواست گزاروں اور 21 دیگر مریضوں و درخواست گزاروں کے طبی علاج کے لیے بھی مالی امداد کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے محکمہ اوقاف کی 4 کنال 17 مرلہ اراضی محکمہ سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و خواتین کو بااختیار بنانے کے محکمے کو منتقل کرنے کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ 50 کنال اراضی بھی محکمہ سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و خواتین کو بااختیار بنانے کے محکمے کے نام منتقل کرنے کی منظوری دی گئی۔
گورنر کے اقدامات پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا سخت ردعمل
صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے گورنر کی جانب سے گزشتہ روز کیے جانے والے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ گورنر کی جانب سے گزشتہ روز کیا جانے والا اقدام انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ خیبرپختونخوا میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے اور صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت مکمل طور پر فعال اور برقرار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر چیف سیکریٹری اور آئی جی کو بلا رہے ہیں اور غیر آئینی اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ گورنر کا اس نوعیت کے اجلاس کی صدارت کرنا آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ دو تہائی اکثریت والی صوبائی حکومت کی موجودگی میں گورنر کا اس طرح اجلاس منعقد کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ موجود ہے اور اس کے لیے عدم اعتماد کا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔ کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے اور گورنر نے غیر آئینی کام کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جماعت ماضی میں بھی غلط کردار ادا کر چکی ہے اور موجودہ اقدامات سے ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلز پارٹی کا وتیرہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کی غیر آئینی سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا اور اسے ردعمل دینے پر مجبور کرنا ہے، تاہم صوبائی حکومت پرامن رہے گی اور صرف آئین و قانون کی بات کرے گی۔
مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، وزیراعلی کی شرائط رکاوٹ بنیں، طلال چوہدری
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف جاری اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دوبارہ دہشتگردی مسلط کیے جانے کے بعد حالات مسلسل خراب کیے گئے ہیں۔ عمران خان اور ان کی حکومت نے ہمیشہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام کا ساتھ دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق 15 اکتوبر 2025 کو حلف اٹھانے کے بعد سے پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مسلسل مضبوط کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے پاس پاکستان میں موجود کسی بھی پولیس کے مقابلے میں جدید ترین اسلحہ اور آلات موجود ہیں جبکہ سی ٹی ڈی کے انفراسٹرکچر اور اسپیشل برانچ کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری اور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کا ہمیشہ خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہا ہے۔ ان کے مطابق 2018 میں قبائلی اضلاع کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا لیکن آج تک ان کا مالی طور پر مکمل انضمام نہیں کیا گیا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے وہ مالی حقوق آج تک نہیں دیے جا رہے جو ان کے انضمام کے وقت طے کیے گئے تھے۔ ان کے بقول 2024 سے آج تک وفاقی حکومت مسلسل خیبرپختونخوا پر ملٹری آپریشن مسلط کرتی رہی ہے۔
بجلی شارٹ فال 4 ہزارمیگاواٹ سے تجاوز کرگیا، بدترین لوڈشیڈنگ
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کی غلط پالیسیوں سے بے گھر ہونے والے لوگ سڑکوں پر روتے رہے لیکن انہیں آج تک مکمل معاوضہ نہیں ملا۔ ان کے مطابق قبائلی اضلاع کے متاثرین کے تقریباً 100 ارب روپے کے معاوضے اب بھی واجب الادا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے گھر اجڑے، خاندان متاثر ہوئے اور مساجد شہید ہوئیں، وہ آج بھی اپنے معاوضوں کے لیے دربدر ہیں۔ پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والے قبائلی خاندانوں کے لیے فی گھر صرف چار لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا، لیکن یہ رقم بھی متاثرہ خاندانوں کو ادا نہیں کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بکا خیل کیمپ میں شمالی وزیرستان کے متاثرین کو ماہانہ 37 سے 38 کروڑ روپے دینے کی کمٹمنٹ کی گئی تھی، تاہم بکا خیل کے متاثرین کو آج تک وعدے کے مطابق ماہانہ رقم فراہم نہیں کی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سنبھالنے کے بعد اب تک بے گھر افراد کے لیے 21 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں جبکہ ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصانات کی ذمہ داری بھی صوبائی حکومت کو پوری کرنا پڑتی ہے۔
خیبرپختونخوا، ہڑتال میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹرز کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والوں کو ان فیصلوں کے نتیجے میں عوام پر پڑنے والی مشکلات کا احساس نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ مخلص ہے تو صوبے کا این ایف سی شیئر اپ گریڈ کیا جائے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے تقریباً سوا ارب روپے کے واجبات ادا کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو ایک طرف دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے اور دوسری طرف وفاق کی غلط پالیسیوں سے پیدا ہونے والے حالات کا بھی سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور پولیس امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ ہیں، تاہم پولیس کو ذاتی نوکر بنا کر دوسرے کاموں میں لگانا غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ سہیل آفریدی کے مطابق گزشتہ 22 سال کے دوران 14 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے ملٹری آپریشنز کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ 22 سال میں 80 ہزار جانوں کی قربانی کے باوجود امن نہ آنا وفاقی پالیسی کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 22 سال بعد بھی خیبرپختونخوا میں امن کا مسئلہ موجود ہے اور اگر وفاقی حکومت دہشتگردی کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو اسے اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تعاون نہ کرنے کا بہانہ قابل قبول نہیں، کیونکہ بلوچستان میں بھی یہی پالیسی ناکام ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون کر رہی ہے لیکن وہاں بھی امن قائم نہیں ہو رہا، اس لیے وفاق کی موجودہ پالیسی نہ خیبرپختونخوا میں موثر ہے اور نہ بلوچستان میں۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے اور خیبرپختونخوا 100 دن میں امن قائم کر کے دکھا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی وزیر فضل شکور خان کو اٹھایا گیا جبکہ وہ صوبائی کابینہ کے رکن ہیں۔ ان کے مطابق وزیرستان میں صوبائی حکومت کے کارکنوں کو زخمی کیا گیا۔ انہوں نے شکیل خان پر مبینہ سیدھی فائرنگ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جوابی فائرنگ میں گنڈا زخمی ہوا تو اسے اپنا آدمی قرار دیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق یہ تمام اقدامات صوبائی حکومت کو اشتعال دلانے اور کوئی ایسا بیان دینے پر مجبور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں جس سے حالات خراب ہوں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت پرامن رہے گی اور صرف آئین و قانون کی بات کرے گی۔ انہوں نے کہا، "میں عمران خان کا سپاہی ہوں” اور عمران خان نے انہیں پوری عمر غیر آئینی و غیر قانونی کام نہ کرنے کی تربیت دی ہے۔ وزیراعلیٰ نے آئی جی اور چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور انتظامیہ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ نے سخت حالات میں صوبے کو گولہ بارود اور خودکش دھماکوں سے نکال کر امن کی طرف لے جانے میں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے ساؤتھ وزیرستان اور اپر وزیرستان میں پولیس سے متعلق شکایات پر بھی کارروائی کی ہدایت کی اور کہا کہ اگر پولیس نے کسی کے ذاتی نوکر بن کر فائرنگ کی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے لاچی کے ایس ایچ او کے خلاف بھی فوری انکوائری کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ لاچی کا ایس ایچ او پولیس افسر نہیں بلکہ غنڈہ بنا ہوا تھا۔ انہوں نے لاچی کے ایس ایچ او پر بندوق کی نوک پر لوگوں سے پیسے لینے کے الزامات کی انکوائری کرنے اور اسے عہدے سے ہٹانے کی بھی ہدایت کی۔ یوں صوبائی کابینہ کے اجلاس میں جہاں صحت، تعلیم، انسداد دہشتگردی اور سماجی بہبود سے متعلق متعدد انتظامی و مالی فیصلوں کی منظوری دی گئی، وہیں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے کی سیاسی صورتحال، گورنر کے اقدامات، دہشتگردی، قبائلی اضلاع کے مسائل اور وفاقی پالیسیوں پر حکومت کا مؤقف بھی واضح کیا۔
ناچنے والے گھوڑے میدان میں نہیں دوڑتے، فیصل کنڈی کا علی امین پر طنز

