Skip to main contentSkip to footer

ڈیرہ اسماعیل خان ، فائرنگ سے 5سرکاری اہلکار شہید

ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم دہشت گردوں دن دیہاڑے آٹو میٹک گنوں سے فائرنگ کر کے دو مختلف واقعات میں 5سرکاری اہلکاروں کو شہید کردیا اور ملزمان فرار ہو گئے جبکہ صدر آصف علی زر داری ،وزیر اعظم شہبازشریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونی سرپرستی اور مقامی سہولت کاروں کی طرف سے جاری دہشت گردی کے خلاف پاکستانی عوام اور سکیورٹی ادارے فولادی دیوار کی طرح کھڑے ہیں،دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک دہشت گرد عناصر کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادراوں کی کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رہیں گی۔ڈی پی او کے مطابق ایف بی آر کے چاراہلکاروں اورایک ٹریفک پولیس اہلکار کودوران ڈیوٹی نشانہ بنایاگیا، ایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہوا۔

خانہ کعبہ کے قریب خودکش دھماکے کی کوشش کی مبینہ اطلاعات

ڈیرہ کے نواح میں واقع ابھایا پل کے قریب مسلح افراد نے ایف بی آر اہلکاروں کو دوران ڈیوٹی نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں ایف بی آر کے 4 اہلکار شہید ہوگئے۔ڈی پی او کے مطابق شہید ہونے والے اہلکاروں میں 2 ایف بی آر کے مستقل ملازم اور2 کنٹریکٹ ملازم تھے۔دوسرے واقعے میں بنوں روڈ پر مفتی محمود چوک کے قریب نامعلوم افراد نے ٹریفک پولیس کی موبائل پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار محمد حبیب شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔دونوں واقعات کے بعد ڈی آئی خان شہر اور گردونواح میں سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے واقعہ کے بعد لوگوںمیں خوف وہراس پھیل گیا ۔ دریں اثناء صدر مملکت آصف علی زرداری نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی سرپرستی اور مقامی سہولت کاروں کی طرف سے جاری دہشت گردی کے خلاف پاکستانی عوام اور سکیورٹی ادارے فولادی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ صدر مملکت نے ڈیرہ اسماعیل خان میں فائرنگ کے واقعات میں ٹریفک اہلکار اور کسٹمز اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ بیرونی سرپرستی اور مقامی سہولت کاروں کی طرف سے جاری دہشت گردی کے خلاف پاکستانی عوام اور سکیورٹی ادارے فولادی دیوار کی طرح کھڑے ہیں، پاکستانی عوام اس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے شہید اہلکاروں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعات میں زخمی ہونے والے اہلکار کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔

موبائل فون کے غلط سے استعمال سے زندگیوں کو خطرات لاحق

اپنے بیان میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چار کسٹم اور ایک ٹریفک اہلکار کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات باعث تشویش ہیں۔وزیراعظم نے دہشت گردوں کی فائرنگ سے چار کسٹم اہلکار اور ایک ٹریفک اہلکار کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں،دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک دہشت گرد عناصر کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادراوں کی کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رہیں گی۔اپنے بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں کسٹم اور ٹریفک پولیس کے اہلکاروں پر نامعلوم شرپسندوں کی فائرنگ کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے 5 اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔محسن نقوی نے شہید ہونے والے اہلکاروں کے بلندی درجات کے لیے دعا کی اور سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشتگردی، صوبائی حکومت پر سوالات اٹھنے لگے

انہوں نے کہا کہ اس کڑے اور غمزدہ وقت میں ہم شہید اہلکاروں کے اہلِ خانہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے ناسور سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا ہے جہاں فورسز اور عوام نے امن کی خاطر لازوال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ بزدلانہ کارروائیوں اور تخریب کاری کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف ریاست اور قوم کے پختہ عزم کو متزلزل یا کمزور نہیں کیا جا سکتا، ملک دشمن عناصر کا مکمل خاتمہ کر کے دم لیا جائے گا۔

 

پولیس کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ، 32 سالہ غیرقانونی نوکری

اگلی پوسٹ
خیبرپختونخوا، ہڑتال میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹرز کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ
پچھلی پوسٹ
ویلز میں 3 ہزار سال قدیم سونے کا کنگن دریافت