پاکستان کی یورپی یونین کو ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات مالی سال 2025-26 میں کم ہو کر 7.103 ارب ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ مالی سال میں 7.248 ارب ڈالر تھیں۔ ملک کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدی منڈی میں 10 بڑی مصنوعات میں سے 6 کی فروخت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی سالانہ برآمدی کارکردگی رپورٹ پاکستان کی ٹیکسٹائل و ملبوسات برآمدات مالی سال 2025-26 کے مطابق یورپی یونین کے 27 ممالک کو برآمدات میں سال کے دوران تقریبا 2 فیصد کمی ہوئی۔کمی کے باوجود یورپی یونین پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی سب سے بڑی برآمدی منڈی رہی۔ اس کے بعد امریکا 4.853 ارب ڈالر اور برطانیہ 1.730 ارب ڈالر کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کو پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی 10 بڑی برآمدی مصنوعات میں سے 6 کی برآمدات میں سال کے دوران کمی ہوئی جبکہ باقی 4 مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوا، تاہم ان میں سے ایک میں تقریبا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔سب سے بڑی برآمدی مصنوعات، مردوں اور لڑکوں کے سوتی ملبوسات جو بنا ہوا کپڑا استعمال کیے بغیر تیار کیے جاتے ہیں کی برآمد 15.4 فیصد کم ہو کر 783 ملین ڈالر رہ گئی جو گزشتہ سال 925 ملین ڈالر تھی۔
چینی ڈیری ماڈل پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کیلئے قابلِ غور مثال
بڑی مصنوعات میں یہ کمی نمایاں رہی۔پاکستان کی یورپی یونین کو دوسری بڑی ٹیکسٹائل برآمدی مصنوعات سوتی تولیوں کی برآمد 1.6 فیصد کم ہو کر 428 ملین ڈالر رہ گئی جو گزشتہ سال 434 ملین ڈالر تھی جبکہ دیگر سوتی بستر کی چادروں کی برآمد 6.1 فیصد کمی کے ساتھ 250 ملین ڈالر رہی جو گزشتہ سال 267 ملین ڈالر تھی۔دیگر ٹیکسٹائل مواد سے تیار کردہ جرسیوں کی برآمد 8.4 فیصد کم ہو کر 233 ملین ڈالر رہ گئی جو گزشتہ سال 254 ملین ڈالر تھی جبکہ سوتی جرابوں کی برآمد 3.5 فیصد کمی سے 183 ملین ڈالر رہی جو گزشتہ سال 190 ملین ڈالر تھی۔ بنا ہوا یا کروشیا سے تیار کردہ بیڈ شیٹس کی برآمد بھی 0.9 فیصد معمولی کمی سے 228 ملین ڈالر رہی جو گزشتہ سال 230 ملین ڈالر تھی۔تاہم بعض اہم مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ بھی ہوا۔مردوں اور لڑکوں کے سوتی ٹراوزر کی برآمد 5 فیصد بڑھ کر 411 ملین ڈالر ہوگئی جو گزشتہ سال 391 ملین ڈالر تھی۔
پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے ، آئی ایم ایف
اسی طرح سوتی بیڈ شیٹس کی برآمد 6.6 فیصد اضافے سے 279 ملین ڈالر ہوگئی جو گزشتہ سال 262 ملین ڈالر تھی۔سوتی بیڈ شیٹس کے علاوہ سوتی تیار شدہ بیڈ کور کی برآمد بھی 1.8 فیصد بڑھ کر 278 ملین ڈالر ہوگئی جو گزشتہ سال 273 ملین ڈالر تھی۔مردوں اور لڑکوں کے ٹراوزر کی ایک اور قسم کی برآمد تقریبا مستحکم رہی اور 222 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی جس میں صرف 0.03 فیصد معمولی اضافہ ہوا۔مصنوعات کی مجموعی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں سوتی ملبوسات اور تیار شدہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی اہمیت برقرار ہے۔ تولیے اور بیڈ شیٹس بھی برآمدی فہرست کا اہم حصہ ہیں جبکہ ملبوسات کی بڑی اقسام بھی نمایاں مقام رکھتی ہیں۔یورپی یونین کی اہمیت صرف پاکستان کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدی منڈی ہونے تک محدود نہیں۔ یورپی یونین، امریکا اور برطانیہ مجموعی طور پر پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کا بہت بڑا حصہ حاصل کرتے ہیں جس کے باعث یہ شعبہ محدود تعداد میں بڑی منڈیوں میں طلب میں آنے والی تبدیلیوں سے متاثر ہونے کا خطرہ رکھتا ہے۔پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے یورپی منڈی میں ترجیحی تجارتی رسائی کے تسلسل کو صنعت کے لیے ایک اہم تشویش قرار دیا ہے۔
ہفتہ وار مہنگائی میں مزید 0.65 فیصد اضافہ، سالانہ شرح 11.85 فیصد ہو گئی
کونسل کے صنعتی جائزے کے مطابق پاکستان کے جی ایس پی پلس درجے کا تسلسل برقرار نہ رہنا سب سے بڑا سمجھا جانے والا خطرہ ہے جبکہ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے امکان نے اس تشویش میں مزید اضافہ کیا ہے۔ کونسل نے جی ایس پی پلس درجے کا تسلسل یقینی بنانے کے ساتھ یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔مارکیٹ تک رسائی ٹیکسٹائل برآمدات کو مضبوط بنانے کے لیے کونسل کی وسیع تر پالیسی تجاویز کا بھی حصہ ہے۔ رپورٹ میں جی ایس پی پلس کی طویل مدتی تسلسل کے تحفظ اور مزید تجارتی معاہدوں کے حصول کی سفارش کی گئی ہے جن میں امریکا اور برطانیہ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے بھی شامل ہیں تاکہ پاکستان کو بھی ان سہولیات تک رسائی حاصل ہو جو مسابقتی ممالک کو حاصل ہیں۔یورپی یونین کو برآمدات میں کمی ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان کی مجموعی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات مالی سال 2025-26 میں 0.3 فیصد معمولی اضافے کے ساتھ 18 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ مالی سال میں 17.95 ارب ڈالر تھیں۔ اس کے برعکس ملک کی مجموعی قومی برآمدات میں 5.9 فیصد کمی ہوئی۔یورپی یونین پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی سب سے بڑی برآمدی منڈی برقرار ہے، اس لیے مالی سال 2025-26 میں برآمدات میں کمی سے یورپی منڈی میں ترجیحی تجارتی رسائی کے تحفظ اور اہم ملبوسات و گھریلو ٹیکسٹائل مصنوعات کی کارکردگی بہتر بنانے کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

