Skip to main contentSkip to footer

گھریلو ٹیکسٹائل کی برآمدات 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

گھریلو ٹیکسٹائل کی برآمدات 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان کی گھریلو ٹیکسٹائل اور تیار شدہ مصنوعات کی برآمدات مالی سال 2025-26 میں 5.705 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ تولیے اور بیڈ لینن بدستور اہم برآمدی مصنوعات رہے۔ بیرون ملک خریداروں کی طلب اب تیزی سے مائیکرو فائبر، ڈیجیٹل پرنٹنگ اور دیدہ زیب مصنوعات کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی سالانہ برآمدی کارکردگی رپورٹ پاکستان کی ٹیکسٹائل و ملبوسات کی برآمدات مالی سال 2025-26 کے مطابق چیپٹر 63 کے تحت مصنوعات کی برآمدات مالی سال 2024-25 کے 5.670 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 5.705 ارب ڈالر ہوگئیں جس کے باعث یہ ملک کا سب سے بڑا ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل برآمدی شعبہ برقرار رہا۔تازہ اعداد و شمار مالی سال 2022-23 کے 5.084 ارب ڈالر اور مالی سال 2023-24 کے 5.229 ارب ڈالر کے مقابلے میں مسلسل بحالی کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم برآمدات مالی سال 2021-22 کے 5.958 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح سے اب بھی کم رہیں۔اس شعبے میں سوتی تولیے سب سے بڑی انفرادی برآمدی شے رہے جن سے مالی سال 2025-26 میں ایک ارب ڈالر حاصل ہوئے جبکہ گزشتہ سال یہ برآمدات 1.011 ارب ڈالر تھیں۔

چین نے ایندھن کی برآمدات روک دیں، عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئیں

سوتی دھاگے سے کارخانوں میں تیار کردہ بیڈ شیٹس دوسری بڑی برآمدی مصنوعات رہیں جن کی برآمدات 465 ملین ڈالر سے بڑھ کر 503 ملین ڈالر ہوگئیں۔ اسی طرح کارخانوں میں تیار کردہ سوتی بیڈ کورز کی برآمدات معمولی اضافے کے ساتھ 385 ملین ڈالر سے بڑھ کر 391 ملین ڈالر ہوگئیں۔بیڈ لینن کی دیگر اقسام کی کارکردگی ملی جلی رہی۔ ہاتھ سے بنے بیڈ شیٹس کی برآمدات 401 ملین ڈالر سے کم ہوکر 377 ملین ڈالر رہیں جبکہ دیگر سوتی بیڈ لینن کی برآمدات 418 ملین ڈالر سے کم ہوکر 371 ملین ڈالر ہوگئیں۔بنے یا کروشیے سے تیار کردہ بیڈ شیٹس کی برآمدات 333 ملین ڈالر سے کم ہوکر 327 ملین ڈالر رہیں جبکہ استعمال شدہ کپڑوں اور دیگر استعمال شدہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات 282 ملین ڈالر سے بڑھ کر 311 ملین ڈالر ہوگئیں۔رپورٹ کے مطابق مجموعی اعداد و شمار کے علاوہ گھریلو ٹیکسٹائل مصنوعات کی نوعیت میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے اور عالمی خریدار اب مختلف نوعیت کی مصنوعات کو ترجیح دے رہے ہیں۔رپورٹ میں شامل صنعتی معلومات کے مطابق تیار شدہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی طلب میں کمی نہیں بلکہ اس کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ تولیوں کے حوالے سے خریداروں کی ترجیح بنیادی 100 فیصد سوتی مصنوعات سے تبدیل ہوکر مائیکرو فائبر، ڈیجیٹل پرنٹ شدہ اور دیدہ زیب مصنوعات کی جانب بڑھ رہی ہے۔گدوں کے غلاف بدستور ایک قابل اعتماد مصنوعات کے طور پر اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں

یورپی یونین کو پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کم ہو کر 7.1 ارب ڈالر رہ گئیں

جبکہ بعض شعبوں میں سوتی بیڈ لینن کی طلب میں کمی دیکھی گئی ہے۔مصنوعات کی نوعیت میں یہ تبدیلی پاکستان کے لیے اہم ہے کیونکہ گھریلو ٹیکسٹائل اور تیار شدہ مصنوعات ملک کی قدر میں اضافے والی ٹیکسٹائل برآمدات کا ایک بڑا حصہ ہیں۔چیپٹر 61 تا 63 کے تحت ویلیو ایڈڈ ملبوسات اور گھریلو ٹیکسٹائل مصنوعات نے مالی سال 2025-26 میں 14.98 ارب ڈالر کمائے جو ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مجموعی برآمدات کا 83.2 فیصد ہیں۔ پانچ سال قبل یہ حصہ 77 فیصد تھا۔بیرون ملک بڑی منڈیوں میں پاکستان کی گھریلو ٹیکسٹائل مصنوعات کی طلب بدستور نمایاں رہی۔ مالی سال 2025-26 میں یورپی یونین کو سوتی تولیوں کی برآمدات 428 ملین ڈالر، کارخانوں میں تیار کردہ سوتی بیڈ شیٹس 279 ملین ڈالر اور سوتی بیڈ کورز 278 ملین ڈالر رہے۔امریکہ میں سوتی تولیوں کی برآمدات 2.5 فیصد اضافے کے ساتھ 355 ملین ڈالر ہوگئیں، تاہم کارخانوں میں تیار کردہ سوتی بیڈ شیٹس کی برآمدات 3.9 فیصد کم ہوکر 118 ملین ڈالر رہیں۔برطانیہ کی منڈی میں صورتحال زیادہ ملی جلی رہی۔ کارخانوں میں تیار کردہ سوتی بیڈ شیٹس کی برآمدات 31.8 فیصد اضافے کے ساتھ 64 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ سوتی تولیوں کی برآمدات 6.2 فیصد کم ہوکر 99 ملین ڈالر اور دیگر سوتی بیڈ لینن کی برآمدات 28.9 فیصد کمی کے ساتھ 40 ملین ڈالر رہیں۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تولیے اور بیڈ لینن جیسی روایتی مصنوعات پاکستان کی گھریلو ٹیکسٹائل برآمدات کی بنیاد برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ خریداروں کی بدلتی ترجیحات مائیکرو فائبر، پرنٹ شدہ اور دیدہ زیب ٹیکسٹائل جیسی مختلف اور زیادہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی اہمیت میں اضافہ کر رہی ہیں۔

 

چینی ڈیری ماڈل پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کیلئے قابلِ غور مثال

اگلی پوسٹ
پاکستان کی ملبوسات کی برآمدات ریکارڈ 4.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں
پچھلی پوسٹ
گوگل نے اپنے ہی نئے اے آئی ماڈل تک رسائی روکنی شروع کردی