اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کو مضبوط بنانے کے لیے کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح کم کرکے 15 فیصد کرنے، ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی تیز کرنے اور خطے میں مسابقتی توانائی کی قیمتیں یقینی بنانے کی تجویز دی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی سالانہ برآمدی کارکردگی رپورٹ پاکستان کی ٹیکسٹائل و ملبوسات کی برآمدات مالی سال 2025-26 کے مطابق یہ شعبہ مالی سال 2026-27 میں توانائی کی بلند لاگت، ملک میں کپاس کی پیداوار میں کمی، مالی معاونت کی فراہمی میں مسائل اور سمندری نقل و حمل کی غیر یقینی صورتحال سمیت کئی بنیادی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔کونسل نے ٹیکس، توانائی، مالی معاونت، مارکیٹ تک رسائی، نقل و حمل اور کپاس سمیت مختلف شعبوں کے حوالے سے 11 اہم سفارشات پیش کی ہیں۔
یورپی یونین کو پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کم ہو کر 7.1 ارب ڈالر رہ گئیں
ان سفارشات پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ وفاقی وزارتوں، ریگولیٹری اداروں اور دیگر سرکاری اداروں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ٹیکس کے حوالے سے پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے کارپوریٹ انکم ٹیکس کی موجودہ بنیادی شرح 29 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے کی سفارش کی ہے۔کونسل نے کہا کہ 29 فیصد ٹیکس کی شرح کے علاوہ ایسے برآمد کنندگان کو سپر ٹیکس کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جو 80 فیصد برآمدی تناسب کی حد سے کم رہتے ہیں جبکہ خطے کے دیگر ممالک اور مسابقتی معیشتیں اس کے برعکس ٹیکسوں میں کمی کی جانب بڑھ رہی ہیں۔کونسل نے سیلز ٹیکس اور مخر شدہ سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی تیز کرنے اور انکم ٹیکس ریفنڈز کی کارروائی خودکار بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔ ایک اور سفارش میں صوبائی محصولات کے اداروں کے ذریعے دیے جانے والے سیلز ٹیکس ریفنڈز کو وفاقی بورڈ آف ریونیو کے نظام کے ساتھ مربوط اور خودکار بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔توانائی کے شعبے میں مسابقتی قیمتیں بھی کونسل کے روڈ میپ کا اہم حصہ ہیں۔پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹیکسٹائل شعبے کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مسابقتی توانائی کی قیمتیں اور قابل اعتماد توانائی کی فراہمی فراہم کی جائے جبکہ صنعت کی مسابقت اور پیداواری اعتبار کو بہتر بنانے کے لیے توانائی سے متعلق رکاوٹیں دور کی جائیں۔کونسل نے مالی معاونت کو بھی ترجیحی شعبہ قرار دیا ہے۔ اس نے حال ہی میں اعلان کردہ مالیاتی اسکیموں کے لیے بجٹ میں مختص رقوم بڑھانے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے اہلیت کی شرائط آسان بنانے اور مالیاتی اسکیموں کا دائرہ بالواسطہ برآمد کنندگان تک بڑھانے کی تجویز دی ہے۔
گھریلو ٹیکسٹائل کی برآمدات 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں
مارکیٹ تک رسائی بھی سفارشات کا ایک اہم حصہ ہے۔پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے جی ایس پی پلس کی طویل مدتی تسلسل کو یقینی بنانے اور مزید تجارتی معاہدے کرنے پر زور دیا ہے جن میں امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے بھی شامل ہیں تاکہ پاکستانی مصنوعات کو وہ ترجیحی مارکیٹ رسائی حاصل ہوسکے جو مسابقتی ممالک کو دستیاب ہے۔یہ معاملہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ مجموعی طور پر پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کا بڑا حصہ خریدتے ہیں۔ مالی سال 2025-26 میں یورپی یونین کو برآمدات 7.103 ارب ڈالر، امریکہ کو 4.853 ارب ڈالر اور برطانیہ کو 1.730 ارب ڈالر رہیں۔کونسل نے برآمد کنندگان کو درپیش نقل و حمل کی مشکلات دور کرنے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے ہیں۔اس نے شپنگ کمپنیوں کے ساتھ رابطے کے ذریعے مسابقتی مال برداری کی شرحیں اور کم ترسیلی مدت یقینی بنانے کی سفارش کی جبکہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی استعداد بڑھانے پر بھی زور دیا تاکہ اہم برآمدی منڈیوں کے لیے برآمد کنندگان کی ترسیل کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔کپاس کے شعبے کے لیے کونسل نے بیج کے معیار، کسانوں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن اور پیداوار کی مکمل نگرانی پر مشتمل ایک مربوط قومی کپاس حکمت عملی شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، پاکستان مرکزی کاٹن کمیٹی اور صوبائی محکمہ زراعت کو اس تجویز پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ اداروں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
چین نے ایندھن کی برآمدات روک دیں، عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئیں
یہ سفارشات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات 18 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.3 فیصد زیادہ ہیں جبکہ ملک کی مجموعی برآمدات میں 5.9 فیصد کمی ہوئی۔ٹیکسٹائل شعبے کا ملکی مجموعی برآمدات میں تقریبا 60 فیصد حصہ رہا۔ چیپٹر 61 تا 63 کے تحت قدر میں اضافے والی ملبوسات اور گھریلو ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات 14.98 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ چیپٹر 50 تا 60 کے تحت خام مال اور درمیانی مصنوعات کی برآمدات کم ہوکر 3.03 ارب ڈالر رہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکسٹائل شعبے کی موجودہ مضبوطی کو مسلسل ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے توانائی کی مسابقتی قیمتیں، برآمد کنندگان کو مالی معاونت اور ریفنڈز تک بہتر رسائی، ترجیحی منڈیوں تک رسائی، سمندری نقل و حمل اور رسد کے نظام میں بہتری اور ملک میں کپاس کی پیداوار بڑھانے پر اقدامات ضروری ہیں۔پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے کہا کہ برآمدات پر توجہ دینے والے، متوازن اور ملکی منڈی پر توجہ مرکوز رکھنے والے ارکان سے حاصل ہونے والی آرا میں یکسانیت مالی سال 2026-27 کے لیے پوری ٹیکسٹائل قدر کی چین کے حوالے سے مربوط حکمت عملی بنانے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔کونسل کے مطابق اگلا مرحلہ حکومت اور صنعتی شعبے کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کو عملی اقدامات اور مسلسل پیش رفت میں تبدیل کرنا ہے۔
پاکستان کی ملبوسات کی برآمدات ریکارڈ 4.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

